زہرہ اور مشتری اتنے پاس پاس

تصویر میں روشن ستارے درحقیقت زہرہ اور مشتری ہیں۔
اگر آپ آجکل (جون /جولائی 2015) میں شام کے بعد آسمان پر جنوب مغرب کے سمت دیکھیں تو دو انتہائی روشن ستارے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ دونوں ستارے نہیں بلکہ ہمارے نظام شمسی ہی کے دو سیارے زہرہ اور مشتری ہیں۔چونکہ زہرہ آسمان پر چاند کے بعد سب سے روشن فلکی جسم ہےاور مشتی زہرہ کے بعد دوسرے روشن ترین سیارہ۔اس لئے آپکو یہ دونوں بہ آسانی اور دوسرے کے انتہائی قریب دکھائی دیں گے۔ان روشن سیاروں کا ایک سیدھ میں نظر آنا غیر معولی اور انوکھا تو نہیں مگرایک خوبصورت فلکی نظارہ ہے جس سے آپ بغیر کسی مشقت لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔


اس گف انیمیمشن میں روز بہ روز سیاروں کو قریب اور پھر دور ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس مظہر کو زہرہ مشتری اقتران (Venus Jupiter Conjunction) کہا جاتا ہےاور اگلے پورے ہفتے کے دوران سورج غروب ہونے کے دو گھنٹے بعد تک اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ یہ سیارے انتہائی ہیں اس لیے آپ شہر کی گرد آلود فضا میں بھی (اگر وقت نکال سکیں تو) انھیں بہ آسانی ننگی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں۔
زہرہ زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ہےعطارد کے بعد سورج کے بھی قریب ترین ہے۔جبکہ مشتری کا سورج سے فاصلہ زہرہ کی نسبت سات گناہ ہے، اس لئے روزانہ مشاہدے پر سیارہ زہرہ آپکو مشتری کی طرف بڑھتا دکھائی دے گا۔یہاں تک کہ 30 جون اور 31 جولائی کو ایک دوسرے انتہائی قریب ہو جائیں گے اور ایک ہی بڑھے لمبوترے چاند کی شکل میں دکھائی دیں گے۔اس کے بعد ان کا فاصلہ دوبارہ بڑھنا شروع ہو گا ۔
زہرہ اور مشتری ہر کچھ سالوں بعد آسمان پر ایک دوسرے کے قریب سے گزرتے ہیں۔ کیونکہ زہرہ کا مدار زمین کی نسبت سورج کے قریب ہے اسلئے ہمیں انکا مشاہدہ شام یا پھر صبح کے اوقات میں ہوسکتاہے ۔ کم مدار ہونے کی وجہ سےیہ ہر 584 دن میں زمین کو "پیچھے چھوڑ" دیتا ہے ، اور اس طرح یہ" شام کے ستارے"(جو سورج غروب ہونے کے فوراً بعد نظر آنے لگتا ہے) سے "صبح کے ستارے"(جو سورج طلوع ہونے سے پہلے تک دکھائی دیتا رہتاہے) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

نیویارک انٹرنیشنل آٹو شو 2015

 مارچ 2015 میں  نیویارک میں ایک بین الاقوامی کار میلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا کے مشہور کار تیار کرنے والے اداروں نے اپنی بہترین پروڈکٹس کے ساتھ شرکت کی۔اس میلے میں پیش کی جانے والی کاریں دلفریب ڈیزائن، جدید ٹیکنالوجی ، پہلے سے بہتر کارکردگی اور ایندھن کی کم کھپت جیسی خصوصیات سے لیس تھیں۔ ماہرین کی جانب سے اس نمائش میں شامل دس بہترین لگژری  کاروں کا تعارف پیش خدمت ہے ۔(کاروں کے نام سہولت کیلئے انگریزی میں ہی لکھے گئے ہیں۔)

10: 2016 Nissan Maxima

جاپانی کمپنی نسان کی تیار کردہ 2016 نسان میکسیما (2016 Nissan Maxima) کو اس نمائش میں ناقدین نے دسوان نمبر دیا ہے۔نہایت سرعت سے رفتار پکڑنےکی صلاحیت، بہترین انٹیریئر ، جدید  میٹیریل اور خو بصورت ڈیزائن رکھنے والی کار کی خامی اس کی نسبتاًذیادہ قیمت ہے۔ 


9: 2016 Kia Optima

جنوبی کوریا کی دوسرے بڑی آٹو انڈسٹری "کیا" کی نئی کار 2016 کیا آپٹیما اس نمائش میں نواں نمبر حاصل کر سکی ہے۔اگرچہ یہ فی الوقت قابل ذکر مقبولیت نہیں حاصل کر سکی ہے مگر اس کہ باوجود کیا کا یہ نیا ماڈل اتنا دلکش اور سٹائلش ہے کہ روڈ پر اپنی "موجودگی" محسوس کر ا سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کار اب صارفین میں اپنی مقبولیت حاصل کر رہی  ہے۔ 


8: 2016 Toyota RAV4 Hybrid

ہائیبرڈ کاریں جن میں ایندھن کی بچت کیلئے برقی موٹر نصب ہوتی ہے تیار کرنے میں ٹیوٹا ااس وقت سب سے آگے ہے۔ اگرچہ اس سال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا اس کے باوجود ٹیوٹا کا یہ نیا ترین ہائیبرڈ ماڈل اس وقت امریکہ میں دستیاب بہترین ہائیبرڈ کار ہے۔جو کہ ٹیوٹا کی فروخت میں بیش بہا اضافہ کر سکتی ہے۔ 


7: 2016 Jaguar XF

برطانوی کار ساز ادارے جیگوار لینڈ رُوور (Jaguar Land Rover) کی نئی ترین کار ہے۔( یاد رہے کہ 2008 کو یہ ادارہ بھارتی ملٹی نیشنل ٹاٹا گروپ نے خرید لیا تھا اور اب یہ ٹاٹا آٹوز کی ملکیت ہے۔) اگرچہ ساخت اور شکل کے اعتبار سے یہ پچھلے ماڈل کے جیسی ہے مگر اس میں استعمال شدہ میٹریل پہلے سے ہلکا مگر ذیادہ مظبوط ہے۔ساتھ ہی کار سسپنشن ،چیسیس اور ڈرائیونگ انٹرفیس کو ذیادہ بہترکیا گیا ہے۔اس لئے رواں سال کی لگژری کاروں میں یہ بھی صارفین کی خریداری کی فہرست میں رہے گی۔ 


6: 2016 Scion iA and iM

سکائین جاپانی کمپنی ٹیوٹا کی ہی ایک خود مختار شاخ ہے مگر یہ کمپنی کے لئے متواتر سڑکوں پر رہنے اور بزنس کرنے والی کاریں نہیں بنا سکا ہے۔ 2002 میں یوتھ برانڈ کے ساتھ کم خرچ مگر سٹائلش اور دید زیب کار ڈیزائن کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا سکائین آئی اے (Scion iA) اور آئی ایم کی صورت میں اسکا نتیجہ آج موجود ہے۔ان ماڈلز میں کمپنی "کم خرچ" اور "سستی" کاروں کے بین ایک توازن حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔یہ ماڈل مارکیٹ میں اپنی مستحکم جگہ بنا سکتے ہیں۔

5: 2016 Lexus RX

جاپانی کمپنی ٹیوٹا ہی کی ایک شاخ لیکسس شاخ ہے جس کا 20 سال پہلے آغاز کیا گیا تھا۔ لیکسس آر ایکس، ادراے کی جانب سے پیش کی گئی اب تک کی سب سے کامیاب کار ہے۔ اس کار میں لگژری ،سٹائل اور افادیت جیسی خصوصیات یکساں طور پر موجود ہیں۔ 

 

4: Honda Civic

جاپانی کمپنی ہونڈا اپنی سیوک کاروں کی وجہ سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ لیکن گزشتہ عرصے میں سیوک آہستہ آہستہ تنزلی کی جانب روان تھی مگر 2016 ماڈل میں نئی ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور سٹائل ہر چیز موجود ہے جو کہ سیوک کار کو پھر سے مین سٹریم میں لے آئے ہیں۔ 


3: 2016 Cadillac CT6

امریکی آٹوز انڈسٹری کے مشہور ادارے جنرل موٹرز کی کیڈلک کاریں لگژری اپنی ایک منفرد پیچان رکھتی ہیں۔ کیڈلک سی ٹی 6 جنرل موٹرز کی جدید ترین پروڈکٹ ہے جو کہ ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور خوبصورتی میں مرسیڈیز اور بی ایم ڈبلیو کی کاروں کے ہم پلہ ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ 


2: 2016 Chevrolet Malibu

جنرل موٹرز ہی کی تیار کردہ شیورلتٹ مالیبو 2016 اس شو کی رنر اپ کار رہی ہے۔ کار نئے ڈیزائن کے ساتھ اور بھی بہت خوبیوں سے لیس ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کی بدولت یہ اینڈھن کا کم از کم استعمال کرتی ہے اور ساتھ ہی اس میں چلڈرن کنڑول فیچر کے زریعے والدین اپنے بچوں کی ڈرائیونگ کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ 


1: Lincoln Continental Concept

اور اب نیویارک آٹو شو 1016 میں موجود اب سے بہترین سیڈان سپورٹس کار کا تعارت پیش خدمت ہے۔اور یہ اعزاز جاتا ہے مشہور زمانہ امریکی آٹو کمپنی فورڈ کے ذیلی ادارے لنکلن کو۔کانٹینینٹل کانسٹ اس ادارے کی بلاشبہ بہترین پیشکش ہے جو کہ  ڈیزائن، سٹائل اور ٹیکنالوجی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اسی وجہ سے ناقدین نے اسے شو کی بہترین کار کا تاج پہنایا ہے۔

حشرات سے محفوظ رکھنے والا لائٹ بلب

آجکل اگرچہ ملک کے شمالی حصوں میں موسم بہار پوری آب تاب سے رواں ہے اور ابھی گرمی کے دن نہیں آئے مگر اس کے باوجود سورج نے آنکھیں دکھانی شروع کر دی ہیں۔ جہاں گرمی میں واپڈا کی مہربانیوں میں اضافہ اور گا اور لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی پھیلتا جائے گا ،وہیں مکھیوں ،مچھروں ، بھنوروں اور پتنگوں کے لشکر بھی ہر روشن بلب پر حملہ آور ہونگے ۔ اس لئے ان سے چھٹکارہ پانے کیلئے طرح طرح کے انسیکٹ کلر ( Insect Killers) استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان حشرات میں خاص کر مچھر سر فہرست ہے جس کی ہلاکت خیزیوں میں رات کی نیند کا ستیا ناس کرنے کے ساتھ ساتھ ملیریا اور ڈینگی جیسی وباؤں کا پھیلانا بھی شامل ہے۔
ایل ای ڈی جو حشرات کو کم سے کم اپنی طرف راغب کرتی ہے۔
رات کے وقت روشن کی جانے والی مصنوعی روشنیاں مختلف حشرات کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں ، جس کی تصدیق اپکے گھر یا دفتر میں روشن بلبوں کے گرد کیڑے مکوڑوں کی بڑی تعداد دیکھ کر سکتے ہیں۔ لیکن اب سائنسداں ایسے نئے بلب تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو کہ حشرات کی کم سے کم تعداد کو اپنی جانب راغب کریں۔
آپکے علم میں ہو گا کہ سفید روشنی ساتھ مختلف رنگوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ہر رنگ ایک خاص طول موج (Wavelengths ) کو ظاہر کرتی ہے۔عام طور پر استعمال ہونے والے فلوریسنٹ بلب تقریباً تمام طول موج کی روشنی خارج کرتے ہیں، جب کہ جدید مصنوعی روشنی آلات مثلاً انرجی سیور اور ایل ای ڈی لائٹیں نیلے رنگ کی طول موج کے قریب قریب کی طول موجیں ذیادہ خارج کرتی ہیں جس سے توانائی کی بچت ہوتی ہے ۔ مگر خدشہ ہے کہ یہ روشنی ہماری حیاتیاتی گھڑی (جو کہ چوبیس گھنٹوں میں  نیند اور آرام کے اوقات کا  تعین کرتی ہے )کو متاثر کر رہی ہیں۔ یہی نیلا رنگ حشرات کو بہت بھلا لگتا ہے اور وہ جوق در جوق بلب کے طواف کیلئے کھچے چلے آتے ہیں۔
مزید پڑھئیے : اسرار جہاں
اسی لئے سائنسدانوں نے مختلف رنگوں کی ایل ای ڈیز کو استعمال کرتے ہوئے ایسی سفید روشنی حاصل کی جس میں نیلے اور سرخ رنگ کی مقدار کم سے کم رکھی گئی ۔یہی دو رنگ حشرات کیلئے سب سے ذیادہ پرکشش ہیں۔یوں نتیجتاً حاصل ہونی والے بلب کی روشنی اگرچہ سفید ہی تھی ،مگر جب اس کو کھلے ماحول میں جلایا گیا تھا تو اس کے گرد حشرات کی 20 فیصد کم تعداد میں جمع ہوئے۔
اگرچہ یہ نتائج ذیادہ حوصلہ افزاء نہیں مگر ایک جہت میں ہمارا پہلا قدم ہے ، اس لئے سائنسدان پر امیدہیں کہ اس طریقہ کار کو مزید کارگر بنایا جا سکتا ہے۔ٹرایوس لنگکور جو کہ ساؤتھ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ،انکا کہنا ہے کہ " ابھی ہم یہ نہیں جانتے کہ حشرات کو راغب نہ کرنے کیلئے کیا صرف یہی مختلف طول موجوں(رنگوں )کا بہترین امتزاج ہے کیونکہ یہ اس میدان میں ابھی پہلی کوشش ہے۔ایل ای ڈی تیار کرنے والے اداروں کیلئے یہ ایک موقع ہے کہ وہ روشنی کے علاوہ ایک اضافی خوبی کا اضافہ کر سکتے ہیں"۔ وہ پر امید ہیں کہ درست طول موج کے امتزاج کے زریعے ایسا بلب بنایا جا سکتا ہے جو کہ حشرات کی ایک بڑی تعداد کو ہم ہے دور رکھے گا۔

نیا ویب پروٹوکول،برق رفتار اور محفوظ براؤزنگ

 ایچ ٹی ایم ایل 5
کمپیوٹر ماہرین نے ویب کیلئے ایک نئے پروٹوکولHTML/2 کی منظوری دی ہے۔جس کے بارے میں کہا جا رہاہے کہ 1999ء میں HTML
 1.1کے بعد آج تک کے 16 سالوں میں یہ ویب پروٹول میں ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ایچ ٹی ایم ایل کا موجودہ نسخہ/ورژن
 (HTML 5 )ہے ۔اس لئے ایچ ٹی ایم ایل /2 ایک نئی ویب عہد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
آئی ای ایس جی(Internet Engineering Steering Group) نے اس اس نئے پروٹوکول کی منطوری دے دی ہے،جو کہ استعمال میں آنے سے پہلے کچھ آخری تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔
قارئین کو بتاتے چلیں کہ آجکل انٹرنیٹ پر ایک ارب سے زائد ویب صفحات موجود ہیں ۔HTMLیعنی ہائپر ٹیکسٹ مارک اپ لینگوئج کوویب  میں ریڑ کی حثیت حاصل ہے۔کیونکہ تمام ویب براؤزر ویب صفحات کو ویب سرورز سے HTML کی صورت میں وصول کر کے سکرین پر پیش کرتے ہیں۔مگر آجکل ویب صفحات ذیادہ انٹرایکٹو اور خوشنما ہونے کی وجہ سے براؤزر میں رینڈر ہونے میں ذیادہ وقت لیتے ہیں۔ساتھ ہی سائبر کرائمز میں اضافے کی وجہ سے ہیکنگ کے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مارک اپ لینگوئج کا یہ نیا ورژن انھیں جگہوں میں مزید بہتری پیدا کرنے کیلئے بنایاگیا ہے۔
ایچ ٹی ایم ایل ،ویب کی زبان
یعنی یہ نیا سٹینڈرڈ نہ صرف تیز رفتار ہو گا بلکہ اس میں انٹرنیٹ سکیورٹی کو بھی پہلے سے بہتر بنایا گیا ہے۔
IETF ایچ ٹی ایم ایل کے ورکنگ گروپ کے سربراہ مارک ناٹنگم کا کہنا ہے کہ "اس نئے سٹیندرڈ میں ایچ ٹی ایم ایل کو نئے سرے سے نہیں تیار کیا بلکہ پہلے سے موجود سٹینڈرڈ کو بہترین حالت میں لے کر آئے ہیں"۔اس لئے صارفین اس سٹینڈرڈ سے کسی جادوائی تبدیلی کی توقع نہ رکھیں۔یہ کہنے کی بجائے کہ اس سے ویب پیج دوگنی رفتارسے ڈسپلے ہو گا، اب قبل از وقت ہے ۔مگر ہم نے پچھلے سٹینڈرڈ میں شامل ویب صفحات کی کارکردگی پر اثر انداز ہونے والے مسائل کو ممکن حد تک ختم کیا گیا ہے۔جب ویب پیج اور سرور ان تبدیلیوں کا فائدہ اٹھائیں گے توویب صفحات کی رفتار خود بخود بہتر ہو جائے گی۔
یہ سٹینڈرڈ گوگل کی حالیہ سالوں میں بنائی گئی ٹیکنالوجی SPDY سے ماخوز شدہ ہےاور گوگل اپنے کروم براؤزر میں اس سٹینڈرڈ پر منتقل ہو گا۔مزید براں فائر فاکس اور انرنیٹ ایکسپلورر میں بھی اس کی سپورٹ شامل ہے۔مگرفیس بک ،ٹویٹر اور گوگل جیسے بڑھے اداروں کے علاوہ باقی ویب دنیا میں اس کی سپورٹ شامل نہیں۔

جی میل سے بھیجی گئی ای میل کو واپس کیجئے

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ای میل بھیجنے کے بعد آخری لمحے میں خیال آتا ہے کہ "او، ابھی اس میں تبدیلی کرنی تھی۔" لیکن اب کچھ ہو نہیں سکتا کیونکہ ای میل تو send ہو چکی ہوتی ہے۔
 
اس پریشانی سے بچنے کیلئے گوگل اور مائیکروسافٹ نے ای میل کو والپس کرنے unsend کرنے کا آپشن مہیا کیا ہوا ہے۔مگر ڈیفالٹ سیٹنگ میں یہ آپشن فعال نہیں ہوتا۔آپ کی سہولت کیلئے جی میل میں بھیجی ہوئی  ای میل کو واپس کرنے کا طریقہ کار دیا گیا ہے۔

1۔جی میل اکاؤنٹ پہ لاگ ان ہوں۔
2۔ سیٹنگ کے گئیر بٹن پر کلک کریں اور ظاہر ہونے والے آپشنز میں سے سیٹنگ کو منتخب کریں۔
3۔  اب ظاہر ہونے والی ٹیب میں سے "Labs"کو تلاش کر کے کلک  کیجئے۔
4۔آپ نے اب  نیچے دیے گئے آپشنز میں سے آپ نے undo sendکو تلاش کرنا ہے۔
5۔ undo send کے سامنے دیے گئے بٹن میں سے enable کو سیلکٹ کر لیں۔

6۔ اب آپ سیٹنگ منتخب کر چکے ہیں ،تبدیلی کو محفوظ کرنے کیلئے save changes پر کلک کریں کو آپشنز سے باہر
آ جائیں۔

مزید پڑھیں:سیمسنگ کی انقلابی وائی فائی ٹیکنالوجی

7۔اب پھر دوبار سیٹنگ پر جائیں اور وہاں سے "undo send"والی ٹیب منتخب کریں ۔ یہاں پر آپ undo time جو کہ 10 سیکنڈ(یعنی 10 سیکنڈ اب آپ ای میل واپس نہیں کر سکتے) ہے اس کو  30 سیکنڈ تک سیٹ کر سکتے ہیں۔ 
 
8۔ اب آپ جب بھی ای میل send کریں گے تو ایک سکرین نوٹیفیکیشن کے ذریعے آپ سے پوچھا جائے گا کہ ایک آپ ای میل کو واپس کرنا چاہتے ہیں۔اگر  کوئی تبدیلی کرنی ہو  تو undo پرکلک کریں اور ای میل واپس ہو جائی گی۔
  اس کے علاوہ بھی لیبز ٹیب میں موجود دوسے فیچرز کو اپنی سہولت  اور پسند کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔



آرہا ہے ایپل سرچ انجن،،گلوگل ہشیار باش۔۔۔

ایپل اس وقت دنیا کی نمبر ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہے جبکہ گوگل سرچ انجن کے میدان میں بے تاج بادشاہ۔ اس کے علاوہ موبائل آپریٹنگ سسٹم ،ایپ سٹورز اور میوزک سٹریمنگ  جیسے کئی میدانوں میں  دونوں کمپنیاں کے دوسرے کی حریف ہیں ۔لیکن اب یہ جنگ ایک نئے محاز پر منتقل ہونے جا رہی ہے۔
گوگل اور ایپل
ایپل پہلے ہی اپنے آلات یعنی آئی فون،آئی پیڈ اور میک بک میں سے گوگل سروسز مثلاً گول میپ اور گوگل سرچ سے چھٹکارا پانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔اس سلسلے میں پہلے کمپنی نے گوگل کے مقابل ایپل میپ متعارف کرائے اور حالیہ عرصے میں تمام ایپل آلات اور سفاری براؤزر کیلئے گلوگل کی بجائے مائیکروسافٹ کے بنگ سرچ انجن کو ترجیح دے دی ہے۔لیکن اسی پر بس نہیں؛ خبر یہ ہے کہ دنیا کی نمبر ایک ٹیکنالوجی کمپنی اب اپنے لئے علیحدہ سرچ انجن تیار کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں:گوگل سرچ ، کچھ خفیہ راز۔۔۔کچھ دلچسب پہلو

ساتھ ہی ایپل کمپنی نے ممکنہ طور پر ایپل سرچ انجن کیلئے "انجئنرنگ پروجیکٹ مینیجر" کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ اس نئی پوسٹ کے کیلئے جاری کردہ ورک سمری کے مطابق ایک ایسا سرچ انجن جو نہ صرف بیک وقت کروڑوں صارفین کو برت سکے بلکہ ساتھ ہی موبائل اور کمپیوٹرز پر کی موجودہ استعمال میں جدت اور انقلابی تبدیلی لا سکے۔
اگرچہ کچھ عرصہ بعد ایپل سرچ انجن حقیقی طور پر انٹرنیٹ پر موجود ہو گا ،لیکن یہ تقریباً نا ممکن ہے کہ وہ فی الفور گوگل کیلئے کوئی بڑا خطرہ ثابت ہو سکے گا۔اس لئے یہ بھی عین ممکن ہے کہ ایپل سرچ ایک علیحدہ ڈومین نیم پر مشتمل ویب انجن کی بجائے ایک آئی فون اور آئی پیڈ میں موجود"سروس" کی طرح پیش کیا جائے۔ایپل آلات میں موجود صوتی معاون(Voice Assistant) سری(Siri) کی صورت میں ایپل کے پاس پہلے سے ایک مظبوط امیدوار موجود ہے۔
اس لئے اگرچہ مستقبل قریب میں ایپل کسی مین سرچ انجن کی جگہ تو لے سکے گا۔لیکن اگرایپل صرف مقبول ایپل آلاپ آئی فون ،آئی پیڈ ،میک بکس کے ساتھ سفاری براؤزر کے کڑوروں صارفین کیلئے گوگل اور مائیکروسافٹ کی جگہ ہی لے پایا تو یہ بھی اس کیلئے بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

مزید پڑھیں:نوکیا اب ایپل آئی پیڈ منی کے مقابل

کیونکہ سرچ انجن ،سرچ رزلٹ کے ساتھ صارفین کو اشہتار بھی دکھاتے ہیں جو کہ کسی بھی سرچ انجن کی کمائی کا بڑا زریعہ ہیں ۔اس لئے مختلف کمپنیاں سرچ کے مقابلے میں گوگل کی اجارہ داری کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں۔حالانکہ اس وقت گوگل کے بعد مائیکروسافٹ اپنے بنگ سرچ انجن اور یاہو سرچ اس وقت بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود تو ہیں ۔مگرانکا استعمال انتہائی محدور حد تک ہے۔اس لئے اس وقت ایپل کے لئے موقع ہے کہ وہ کم از کم یاہو اور مائیکروسافٹ کو سخت ٹکر دے سکتا ہے۔جیساکہ ایپل پروڈکٹ پریمئیر اپیل رکھتی ہیں اس لئے ہم ایپل سرچ کے بھی بڑھی توقعات وابستہ کر سکتے ہیں۔

نئے لیپ ٹاپ کی خریداری سمجھ داری کے ساتھ

حالیہ دنوں میں سمارٹ فون اور ٹیبلس کی مقبولیت کی وجہ سے اگرچہ پرسنل کمپیوٹرز (ڈیسک ٹاپ/لیپ ٹاپ ) کی مانگ اور مقبولیت میں کمی آ رہی ہے مگران کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ آج بھی برقرار ہے۔موبائل /ٹیبلٹ انٹرٹینمنٹ (میوزک ،وڈیوز اور گیمنگ) اور انٹرنیٹ (ویب سرفنگ،ای میل اور چیٹنگ ) کی حد تک تو بلاشبہ بہت آسانی پیدا کرتے ہیں؛لیکن اگر آپ طالب علم ہیں یا پروفیشنل تو پھر ذیادہ کمپوٹنگ صلاحیت کے آلات یعنی ڈیسک ٹاپ /لیپ ٹاپ بدستور آپ کی ضرورت ہیں۔ پاکستان میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کے مسئلےکی وجہ سے بہتر رہے گا کہ آپ اپنے لئے ایک لیپ ٹاپ خریدیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ کچھ سال پہلے لیپ ٹاپ صرف لیپ ٹاپ ہوا کرتے تھے مگر مختلف فیلڈز میں صارفین کی ضروریات اور توقعات کے مطابق آج مختلف الاقسام لیپ ٹاپ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ ان انواع واقسام اور رنگا رنگ صلاحیتوں سے لیس لیپ ٹاپس میں سے اپنے لئے لیپ ٹاپ منتخب کرنا ایک مشکل مرحلہ ثاب ہوتا ہے؛ اسی لئے موجودہ تحریر آپکو مختلف لیپ ٹاپس اقسام سے متعارف کرانے کیلئے لکھی گئی ہے تا کہ آپ اپنی ضرورت کے مطابق اپنے لئے بہترین لیپ ٹاپ کو انتخاب کر سکیں۔

الٹرا بک:

کچھ سال پہلے ایپل کی میک بک ائر کے لانچ سے روایتی لیپ ٹاپ میک بک کے مقابل وزنی اور بے ہنگم نظر آنے لگے۔کیونکہ یہ ونڈوز ڈیوائس کے مقابلے میں سٹائلش،پتلا،ہلکا اور ذیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت سے لیس لیپ ٹاپ تھا۔اس لئے انٹل نے میک بک کےساتھ مسابقت کیلئے الٹرا بک کا تصور پیش کیا۔ان مقرر کردہ حدود کے اندر ایک پتلے ،ہلکے اور طاقتور کمپیوٹنگ صلاحیت رکھنے والے لیپ ٹاپ کوالٹرابک(Ultra Book)کہا جاتا ہے۔
13 انچ ایپل میک بک ائیر
اس طرح آج مختلف اداروں کی تیار کردہ الٹرا بکس اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے ایپل کی بہترین ائر بکس کا بہ آسانی مقابلہ کر سکتی ہیں۔یہ ایک انچ سے پتلے،ہلکے ہونے کے ساتھ لمبی بیٹری لائف اور انتہائی جاذب ڈسپلے سے لیس ہوتے ہیں۔لیکن ان خوبیوں کے ساتھ ایک خامی بھی ہے ؛یہ مشینیں اگرچہ ہلکی ہیں مگر جیب پر بھاری پڑھتی ہیں ۔ ایک عام پاکستانی صارف (اگر آپ کا کوئی عزیر اوور سیز موجود نہیں) کی قوت خریداری سے بہت دور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کے بہترین 10 سمارٹ فون

ورک بک:

جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے یہ لیپ ٹاپس خاص کر پیشہ ورانہ کاموں کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ان کے ڈیزائن میں ذیادہ سے ذیادہ پروڈکٹیوٹی کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔اس لئے ان میں پروفیشنل لیول گرافکس کارڈ مثلاًاین ویڈیا " کواڈرو" یا اے ایم ڈی کی" فائر لائن "سیریز کو نصب کیا جاتا ہے۔مزید ان میں بیٹری یبک اپ ٹائم بڑھانے کیلئے ان میں طاقتور بیٹریوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک اور چیز جو ورک بکس کو ممتاز کرتی ہے وہ ان میں بیرونی آلات سے منسلک ہونے کے لئے پورٹس کی ذیادہ تعداد اور اندرونی ہارڈوئیر تک آسان رسائی کی خوبی ہے۔ساتھ ہی سیکیورٹی کے حوالے سے کچھ ورک بکس میں فنگر پرنٹ سکینرز بھی موجود ہوتے ہیں۔ورک بک کی قیمتیں بھی اتنی ذیادہ ہوتی ہیں کہ عام صارفین کی بجائے صرف پروفیشنل حضرات اوربڑی کمپنیاں (اپنے ملازمین کیلئے)ہی انہیں خرید سکتی ہیں۔

کروم بک:

یہ لیپ ٹاپ گوگل کے تیار کررہ آپریٹنگ سسٹم کروم اوایس سے لیس ہوتے ہیں۔جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کروم او ایس گوگل کے کروم براؤزر پر ہی مشتمل ہے۔اس میں ورڈ ڈاکومنٹ ، پریزنٹیشن،میوزک /وڈیو پلےانگ اور حتیٰ کہ گیم کھیلنے تک تمام کاموں کو کروم براوزرکے ہی زریعے انجام دیا جاتا ہے۔
ڈیل کروم بک
اسی خوبی کی وجہ سےکروم او ایس درمیانے درجے کے ہارڈ وئیر پر بھی بہ خوبی چل سکتا ہے ۔یوں کروم بکس کی قیمتیں بہت کم اوربجٹ رینج کے اندر ہوتی ہیں ۔جو کہ خاص کر طلباء کےلئے بہت کشش رکھتی ہیں۔
لیکن کروم بکس صرف اسی صورت میں سو فیصد کارآمد ہیں جب تک انٹرنیٹ سے منسلک ہوں ۔مگر گبھرانے کی بات نہیں حالیہ سالوں میں گوگل نے اس خامی پر قابو پانے کیلئے ان کی آف لائن کارگردگی کو بہت حد تک بڑھایا ہے۔

گیمنگ لیپ ٹاپ:

آپ ایک گیمنگ لیپ ٹاپ کو دیکھتے اس کے بڑھے حجم،جلتی بجھتی روشنیوں،بھڑکیلے رنگ اور آواز دارپنکھوں سے بہ آسانی پہچان سکتے ہیں۔گیمنگ لیپ ٹاپس کو این ویڈیا یا قوالقم کے جدید ترین موبائل گرافکس پروسیسرز سے لیس کیا جاتا ہےتاکہ یہ گیمز کے تازہ ترین ورژن کو عمدگی اور نفاست کے ساتھ سکرین پرپیش کر سکیں۔
یاد رہے کہ آج کل گیمنگ لیپ ٹاپس بھی سٹائلش ،ہلکے ہونے کے ساتھ دوسرے گیمنگ میڈیا (کنسول اور ڈیسک ٹاپ ) کو ٹکر دینے کیلئے تیار ہیں۔

ٹو ان ون ہائبرڈ لیپ ٹاپ:

اگر آپ لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب میں شش و پنج کا شکار ہیں تو ہائبرڈ لیپ ٹاپ
آپ کے ہی لئے تیار کئے گئے ہیں۔
لیناوو آئیڈیا پیڈ ےوگا
 مائیکروسافٹ ونڈرز 8 کے جدید ترین ٹچ سپورٹد ورژن کے ساتھ یہ ہائبرڈ مشینیں دو اقسام کے ساتھ دستیاب ہیں۔اول قسم ایک عام ٹیبلٹ کی طرح ہو گی ،جس کے ساتھ کی بورڈ اور ماؤس منسلک کر کے اس لیپ ٹاپ میں بدلا جا سکتا ہے؛دوسری قسم میں ابتدائی حالت میں یہ لیپ ٹاپ کی طرح کام کرتی ہیں مگر آپ ضرورت کے مطابق سکرین کو الگ کر بطور ٹیبلٹ استعمال کر سکتے ہیں۔

لیکن یہ ٹو ان ون ،لیپ ٹاپ/ٹیبلٹ اگرچہ مارکیٹ میں دسیتاب تو ہیں پر ابھی تک صارفین میں خاطر خواہ مقبولیت نہیں حاصل کر سکے۔

جنرل لیپ ٹاپ:

یہ وہ لیپ ٹاپ ہیں جن کو ہم آسانی کے ساتھ مندرجہ بالا کسی بھی کیٹیگری میں بہ آسانی فٹ نہیں کر سکتے۔یعنی یہ دہائیوں پہلے استعمال ہونے والے لیپ ٹاپس کے اصل جانشین ہیں۔آپ انہیں ہر فن مولا کہہ سکتے ہیں اور اپنے روزمرہ کے تمام کام ان کے زریعے انجام دے سکتے ہیں مگر ذیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت والے کام ("ہیوی سافٹ وئیر") کے لئے یہ مناسب نہیں۔
یہ لیپ ٹاپس 11 سے 17 انچ سکرین اور پلاسٹک باڈی کے ساتھ دستیاب ہوتے ہیں ۔خاص بات یہ ہے قیمت کے لحاظ سے یہ مڈ رینج یا بجٹ رینج میں آتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: بہترین فیبلٹس۔۔۔ جوآپ خریدنا چاہیں

حرف آخر:

آجکل عموماً نئے لیپ ٹاپ ٹچ سپورٹڈ ہوتے ہیں۔ لیکن   خریدنے سے پہلے یہ تسلی ضرور کر لیں کہ وہ ٹچ سپورٹ موجود ہے کہ نہیں۔اس پوسٹ میں صرف لیپ ٹاپ کی اقسام کا ذکر کیا گیا ہے۔آئندہ انشاءاللہ ہر  ایک قسم  کے بہترین ماڈلز پر علیحدہ تحریز پیش کی جائے گی۔