Showing posts with label آئن سٹائن. Show all posts
Showing posts with label آئن سٹائن. Show all posts

آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت

جون 1905 میں آئن سٹائن  نے  اپنے سب سے انقلابی، اثر انگیز اوربہترین نظرئیے کو ایک مقالے میں پیش کیا۔بالکل،آپ ٹھیک سمجھے ہم نظریہ اضافیت کی بات کر رہے ہیں۔مگر جیسا کہ عام خیال ہے اضافیت بذات خود ایک نیا نظریہ نہیں تھا بلکہ اضافیت کا تصور گلیلیو اور نیوٹن کے دور سے موجود تھا۔لیکن آئن سٹائن نے اضافیت کو ازسر نو ایک نہیں بلکہ دو مختلف شکلوں میں بیان کیا۔جون 1905 میں شائع مقالے میں آئن سٹائن نے پہلے خاص نظریہ اضافیت(Special Theory of Relativity ) کو پیش کیا،جس نے دو سو سالوں سے رائج نیوٹونی حرکیات کی بنیادیں الٹ دیں اور زمان ومکاں کے حوالے سے رائج ہمارے ادراک و نظرئیے کو نئے سرے سے استوار کیا۔لیکن خاص نظریہ اضافیت کو سمجھے کیلئے ہمیں حرکت اور سکون کے بارے میں مزید جاننا ہو گا اس لئے کچھ دیر 1905 سے ماضی میں چلتے ہیں۔
طبیعات کی سب سے مشہور مساوات

(یہ مضمون  کے اس سلسلے کی دوسری کڑی ہے جس کو آپ یہاں ملاحضہ کر سکتے ہیں۔)

 

ارسطو،گلیلیو ،نیوٹن اور اضافیت:

اضافیت کو سمجھنے کیلئے سب سے پہلے حرکت کے تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔بینادی طور پر تمام جاندار حرکت کا ادراک رکھتے ہیں لیکن  حرکت بذات خود کیا چیز ہے ؟اس کا جواب سب سے پہلے اسطور نے دینے کی کوشش کی۔یونانی فلسفی ارسطو کے مطابق تمام اشیاء ترجیحی طور پر حالت سکون میں موجود ہوتی ہے۔ یعنی جب آپ کسی چیز کو حرکت دیں تو وہ جلد از جلد حالت سکون میں آنے کی کوشش کرتی ہے اور کچھ وقت کے بعد دوبارہ ساکن ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر جب آپ کسی فٹبال کو ٹھوکر ماریں کو وہ کچھ دیر حرکت کرنے کے بعد واپس حالت سکون میں آ جائے گا۔ارسطو کایہ نظریہ صدیوں  تک رائج رہا ،یہاں تک کہ گلیلیو نے اپنی تجربات کی بدولت اس کو رد کیا۔(حرکت کے بارے میں قدیم نظریات کیلئے یہاں مزید پڑھیں۔)

گلیلیو نے  کشش ثقل کے زیر اثر آذادانہ گرتے اجسام کا مطالعہ کیا اور اپنے  عمیق مشاہدے کے باعث حرکت کے بارے میں جدیدتصورات کی بنیادرکھی۔اپنے تجربات کی بنیاد پر گلیلیو نے یہ نتیجہ نکالا کہ  کوئی بھی چیز ترجیحی طور پر حالت سکون یا حرکت میں نہیں ہو گی۔بلکہ حرکت اور سکوں ایک دوسرے کے لحاظ سے اضافی طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔اس کو ہم مثال کے زریعے بہتر سمجھ سکتے ہیں :فرض کریں آپ ایک دوست کے ساتھ ریل میں سوار ہو کر  کسی دوسرے شہر جاتے ہیں، ساتھ والی سیٹ پر موجودآپکا دوست آپکے حوالے سے ساکن ہے،کیونکہ اسکے اور آپکے درمیان فاصلہ تبدیل نہیں ہو رہا۔ مگر سڑک پر موجود آپکے کے والدین کے حوالے سے آپ دونوں حرکت میں ہیں،کیونکہ آپ دونوں ہر لمحہ ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔امید ہے یہاں آپ سمجھ گئے ہونگے کہ حالت حرکت یا حالت سکون  حوالگی فریم (فریم آف ریفیرنس) کے   وجہ سے تبدیل ہو جاتےہیں۔



  اگر غور کیا جائے تو   آپ کسی بھی طریقے سے یکساں حرکت  یا حالت سکون میں فرق نہیں کر سکتے،اضافیت  میں یہ انتہائی  بنیادی نقطہ   ہے۔ جس کو سمجھنے کیلئے  ہم آپکو دوبارہ ایک ٹرین بلکہ  "آئیدیل ٹرین" کے سفر پر روانہ کرتے ہیں۔ آئیڈیل اس لئے کیونکہ ٹرین کا ہر ڈبہ ساؤنڈ پروف اور جمپ پروف ہے یعنی آپ آواز اور ڈبے کے ہلکوروں سے یہ نہیں جان سکتے کہ یہ ساکن ہے یا متحرک۔

فرض کریں آپ  اس ٹرین میں سوار ہوتے وقت انتہائی تھکاؤٹ کا شکار تھے،اور اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہی آپکو اونگھ آ گئی۔اس ہلکی سے نیند کے دوران ٹرین آہستگی سے سٹارٹ ہوئی اور 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی انتہائی رفتار سے چلنے لگے۔(اتنی لمبی تمہید کے بعد) اب سوال یہ ہے کہ نیند سے جاگے کے بعد کیا آپ  بتا سکتے ہیں کہ ٹرین ساکن ہے یا متحرک؟  کیونکہ   روز مرہ تجربات میں ہم بہ آسانی حالت حرکت اور ساکن حالت میں فرق کر سکتے ہیں، اس لئے عقل سلیم کے مطابق کوئی ایساطریقہ ضرور ہو گا جس کو استعمال کرتے ہوئے  یہ بتانا جا سکے کہ  ٹرین حرکت میں ہے یا ساکن۔ لیکن حقیقت  اس کے بر عکس ہے،یعنی کسی بھی طبعی طریقے کو ااستعمال کرتے ہوئے  آپ کبھی یہ نہیں جان سکیں گے کہ "آیا ٹرین ساکن ہے یا متحرک؟"۔

اس ساری کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ دو مختلف  جگہوں پر موجود مختلف شاہدین  کے لئے یکساں والاسٹی سے حرکت اور حالت سکون میں فرق کرنا ناممکن ہے۔ہم یہ فرق کیوں نہیں کر سکتے ؟ اسکا  جواب  مشہور طبعیات دان آئزک نیوٹن نے دیا  ہے۔نیوٹن نے اوپر موجود پوری "کہانی " کو ایک جملے میں بیان کیا کہ "یکساں ولاسٹی سے متحرک  یا ساکن حالت میں  موجود جسم پر کوئی قوت عمل نہیں کر رہی ہوتی اس لئے طبعی نقطہ نظر سے دونوں  میں فرق بھی ممکن نہیں۔" اس بیان کو نیوٹن کا پہلا قانون حرکت  کہا جاتا ہے۔

ریڈیائی لہریں اور روشنی کی رفتار:

واپس آئن سٹائن کی طرف جانے سے پہلے ہم ایک اور پیش رفت کی جانب چلتے ہیں۔ برطانوی طبعیات دان میکسویل نے   نہ صرف کائنات کے دو بنیادی قوتوں  یعنی برقی قوت اور مقناطیسی قوت کو یکجا کیابلکہ اس کے ساتھ ہی تمام تر برقناطیسی  مظاہر کو بیان کرنے کے لئے چار مساواتوں کو بھی پیش کیا۔ یہ مساواتیں میکسویل مساواتیں کہلاتی ہے اور آج تک کامیابی سے استعمال کی جا رہی ہیں۔ان مساواتوں کے بدولت میکسویل نے ثابت کیا کہ روشنی بھی ایک برقناطیسی موج ہے اور تمام برقناطیسی موجیں خلاء میں  ایک مستقل رفتار سے سفر کرتی ہیں۔کیونکہ ہر موج کی پیدا ہونے کیلئے ایک واسطے کی  ضرورت ہوتی ہے اس لئے فرض کیا کہ ایک انتہائی آئیڈیل خصوصیات  کا حامل واسطہ کائنات میں ہر سمت موجود ہے جس کو ایتھر کا نام دیا گیا۔
اس عرصہ میں دو امریکی سائنسدانوں مائیکلسن اور مورلے نے تجربہ وضع کیا جس سے  روشنی کی رفتار کا انتہائی درستگی کے ساتھ ناپی جا سکتی تھی۔ اسی تجربے کو انھوںنے ایتھر کا وجود  ثابت کرنے کیلئے استعمال کیا۔کیونکہ زمین سورج کے گرد مسلسل حرکت کر رہی ہےاور اس دوران وہ مسلسل ایتھر میں سے گزر رہی ہے، اس لئے سائنسدانوں کا اندا زہ تھا کہ  مختلف اطراف سے زمین پر پڑھنی والی روشنی کے رفتار مختلف ہو گی لیکن یہاں ایک حیرت انگیز نتیجہ حاصل ہوا۔مائیکلسن اور مورلے نے جس سمت سے بھی روشنی کی رفتار کی پیمایش کی ہر سمت سے ہمشہ یکساں نتیجہ حاصل ہوا۔یوں ایتھر کو ثابت کرنے کی بجائے اس تجربے نے ایتھر کے تصور کو ہی ختم کر دیا۔

آئن سٹائن اور اضافیت

یہاں سے اب ہم آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی طرف  آتے ہیں ۔آئن سٹائن نے ایک بہت جرات    مندانہ  مفروضہ پیش کیا ہے ہر مختلف حوالگی فریم میں موجود تمام  مشاہدین کیلئے"روشنی کی رفتار ہمیشہ مستقل ہو گی"۔ اس کی ایک دلیل ہم آئیڈیل ٹرین میں دیکھ سکتے ہیں۔فرض کریں کہ آپ اسی ٹرین میں ہیں اور آپکے پاس روشنی کے پیمائش کا ایک  آلہ موجود ہے اور آپ سے سوال کیا جاتا ہے کہ ٹرین متحرک ہےیا ساکن؟اگر روشنی کی رفتار مستقل نہ ہو تو اس کا جواب دینےآپ نے صرف روشنی کی رفتار ناپ کردے سکتے ہیں کیونکہ چلتی ہوئی ٹرین میں روشنی کی رفتار ساکن حالت سے مختلف ہو گی۔لیکن آئن سٹائن کا اس بات پر پورا یقین تھا  کہ   قدرت میں ساکن اور یکساں رفتار سے متحرک جسم میں فرق کرنا ممکن نہیں اس لئے یہ تجربہ بھی آپ کو حرکت/سکون میں فرق نہیں بتا سکتا،اس لئے روشنی کی رفتار تمام جگہوں پر مستقل ہونی چاہیے۔
روشنی کی رفتار تمام شاہدین کیلئے مستقل  ہو تی ہے بظاہر بے ضرر مفروضہ لگتا ہے لیکن اس  کے بہت حیران کن اور عقل سلیم کے خلاف نتائج نکلتے ہیں۔

1۔ وقت کا آہستہ ہو جانا:

نیوٹن کے دور سے متفقہ خیال یہی تھا کہ وقت تمام شاہدین کیلئے ہمشہ یکساں رفتار سے گرزتا ہے۔لیکن خاص نظریہ اضافیت کے مطابق جب بھی کوئی جسم روشنی کی رفتار کے قابل موازنہ رفتار پر حرکت کرتا ہے تو اس جسم کیلئے وقت آہستگی سے گزرے گا۔لیکن قابل مشاہد ہ فرق کیلئے جسم کی رفتار روشنی کی رفتار کے قابل موازنہ ہونی چاہیے۔یو ں دو مختلف شاہدین کیلئے وقت کی رفتار بھی مختلف ہو سکتی ہے۔یہیں سے جوڑواں بھائیوں کے تناقضے  جنہم لیتا ہے۔فرض کریں آپکے محلے میں دو جوڑاواں بھائی موجود ہیں، ان میں سے ایک بھائی ایک راکٹ میں سوار ہو کے کائنات کی وسعتوں کی سیر کیلئے چلا جاتا ہے اور 5 سال بعد واپس زمین پر آ جاتا ہے۔لیکن اپنے جوڑویں بھائی سے ملکر حیران رہ جاتا ہے کیونکہ اسکا بھائی اب بوڑا ہو چکا ہوتا ہے۔

2۔ لمبائی کا سکڑنااور کمیت میں اضافہ:

انتہائی تیز رفتار حرکت صرف وقت پر اثرانداز نہیں ہوتی بلکہ اس سے جسم کی لمبائی سکڑنے لگتی ہے اور کمیت بڑھنے لگتی ہے۔لمبائی  اورکمیت میں اس کمی بیشی کا مشاہدہ بھی روشنی سے قابل موازنہ رفتاروں پر کیا جا سکتا ہے۔

توانائی اور کمیت کا باہمی تعلق:

چونکہ ایک متحرک جسم کی کمیت ،رفتار کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے،جس کی وجہ سے جسم کی حرکی توانائی بھی اسی نسبت سے بڑھ جائے گی۔یوں آئن سٹائن ایک اور نتیجے پر پہنچا کہ توانائی اور کمیت بھی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس نظرئیے کو آئن سٹائن نے ستمبر 1905 میں ایک مزید پیپر شائع کیا جس میں اس نے ثابت کیا کہ کمیت اور توانائی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بعد ازاں یہی نقطہ  ایٹمی بموں اور ایٹمی بجلی گھروں کی بنیادبنا۔


1905 آئن سٹائن کا معجزاتی سال

آئن سٹائن کو بلاشبہ ہم جدید طبیعات کا بہترین دماغ گردانتے ہیں اور یقیناً سچ بھی یہی ہے۔ لیکن 1905 سے پہلے شاید ہی طبیعات داں طبقے میں کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ وہ  طالب علم جو اپنے اساتذہ کو متاثر کرنے میں ناکام رہااور کسی معتبر تعلیمی ادارے میں کوئی ملازمت  نہ  حاصل کر سکا دنیائے سائنس میں نئے اوراچھوتے نظریات سے ہلچل مچا دے گا۔  کسی تعلیمی ادارے میں شمولیت نہ ملنے پرمجبوراً آئن سٹائن کو ایک سوئس پیٹنٹ ہاؤس میں تیسرے درجے کے کلرک کی نوکری کرنا پڑھی۔


لیکن شاید اسی نوکری کا نتیجہ تھا کہ آئن سٹائن نے اپنا ذیادہ تر فارغ وقت  تحقیقی کام  میں صرف کیااور اپنے چند قریبی دوستوں کے ساتھ وہ مسلسل نئے نظریات پر تبادلہ خیال کرتا رہا۔اسی دوران آئن سٹائن نے کچھ معمولی اہمیت کے  تحقیقی  مقالات بھی شائع کیے۔

لیکن یہ 1905 کا سال تھا جب ایک غیر معروف کلرک نے ایک دو نہیں بلکہ  چار مختلف مضوعات پر انتہائی غیر معمولی اور انتہائی بنیادی اہمیت  کے ریسرچ پیپر شائع کیے ، جنھوں نے مروجہ  نظریات کی بنیادی ہلا دیں اورتحقیق کیلئے نئی راہیں متعین کیں۔ ان مقالات نے زماں و مکاں، توانائی و کمیت ،روشنی کی ماہیت اور ایٹموں کی موجودگی کے بارے میں ہمارے  نظریات کو یکسر تبدیل کر دیا۔

آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں  نے کس ترتیب سے اپنے تحقیقاتی کام کو شائع کیا جس کی وجہ سے 1905 نے ایک گمنام کلرک  کو ہمارا اور آپ کا جانا پہچانا "آئن سٹائن "بنایا۔ 


1۔روشنی کا زراتی نظریہ اور فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ:

مارچ 1905 میں آئن سٹائن کے اپناپہلا کرشماتی مقالہ شائع کیا جس میں اس نے ضیاء برقی اثر(Photo Electric Effect) کی وضاحت کی۔فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ اس وقت تک طبعیات دانوں کیلئے ایک معمہ تھا۔کیونکہ اسوقت کے مروجہ نظریات کی بنیاد پر اس کی وضاحت ممکن نہیں تھی۔
اس معئمےکو حل کرنے کیلئے  آئن سٹائن نے  کہا کہ  روشنی زراتی نوعیت رکھتی ہےاور یہ توانائی کے پیکٹوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کو "کوانٹا" کا نام دیا، اسی بنیاد پر پھر انھوں نے فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کی  انتہائی درست وضاحت کی۔
ضیاء برقی اثر
یہ جاننے کیلئے کہ روشنی کی ماہیت کا زراتی نظریہ کس قدر جرات مندانہ اور راویت سے ہٹ کر  تھا ؛ ہمیں روشنی کے بارےمیں اس وقت کے مروجہ نظرئیے کو جاننا ہوگا۔ اگرچہ روشنی کی ماہیت کے بارے میں دو متضاد نظریات کئی صدیوں سے موجود تھے ۔ ایک نقطہ نظر کے ماننے والوں جن میں آئزک نیوٹن بھی شامل ہیں، کے مطابق روشنی انتہائی چھوٹے چھوٹے کیپسول نما پیکٹوں پر مشتمل ہے۔جبکہ مخالفین کے مطابق روشن بنیادی طور پر ایک موج ہے اور اس کی خصوصیات دوسری موجوں مثلاً آواز اور پانی پر بننے والی لہروں کی طرح ہیں۔حتی ٰ کہ اٹھارویں صدی میں ینگ نے مشہور دو شگافی تجربے سے یہ ثابت کیا کہ روشنی واقعی موجی خصوصیات رکھتی ہیں ۔ اس کے بعد طبعیات داں طبقہ میں یہی نظریہ مقبول رہا کہ روشنی ایک موج ہے ۔یہاں تک کہ آئن سٹائن نے اپنے مقالے میں روشنی کے زراتی ہیئت کو استعمال کرنے ہوئے فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کی وضاحت  کی۔(کوانٹم فزکس کی بدولت اب ہم جانتے ہیں کہ روشنی اور دوسرے بنیادی ذرات بیک وقت ذاتی اور موجی خصوصیات رکھتے ہیں۔)
اگرچہ یہ آئن سٹائن کا سب سے بہترین تحقیقی کام نہیں تھا مگر اسی کے بدولت 1921 میں آئن سٹائن کو طبیعات کا نوبل انعام ملا۔اسی پیپر نے کوانٹم فزکس کی بنیاد میں مرکزی کردار ادا کیا۔  

مزید پڑھیں: سال 2015کے بہترین سمارٹ فون

2۔براؤنی حرکت کی وضاحت :

دو ماہ بعد آئن سٹائن نے ایک مختلف مگر بنیادی سوال کا جواب دیا۔مئی 1905 میں شائع پیپر میں آئن سٹائن نے براؤنی حرکت کی وضاحت کی۔ تقریباً 1827 میں رابرٹ براؤن نے خوردبین کی مدد سے پانی میں موجود انتہائی باریک  پولن ذرات کا جائزہ لیا تو اس نے دیکھا کہ تمام ذرے انتہائی مسلسل مگر انتہائی بے ہنگم حرکت میں تھے، جس کی اس کے پاس کوئی وضاحت ممکن نہ تھی۔اس حرکت کو براؤنی حرکت کا نام دیا گیا اور تقریباً اگلے 80 برس اس حرکت  کی وجہ ایک راز ہی رہی ۔(جیسا کہ آپ اس تصویر میں ملاحضہ کر سکتے ہیں۔)
دو جہتوں میں براؤنی حرکت
آئن سٹائن کے  براؤنی حرکت کی وضاحت اٹامک /مالیکیولر نظرئیے کی بنیاد پر دی  اور  انتہائی خوبی سے شماریاتی ریاضی کو استمال کرتے ہوئے ثابت کیا کہ پانی میں ذرات کی بے ہنگم حرکت نظر نہ سکنے والے انتہائی چھوٹے اور مسلسل متحرک ذروں یعنی ایٹموں کے ساتھ مسلسل ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔اس پہلے اگرچہ ایٹم کا نظریہ موجود تھا مگرایٹموں کی موجودگی کے حوالے سے مظبوط دلائل نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے اہم سائنسداں ایٹموں کو ایک مفروضے سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔یہ پیپر ایٹمی نظرئیے کے حق میں  انتہائی مظبوط دلیل ثابت ہوا۔
اس کے بعد مئی اورستمبر میں شائع مقالات نے تقریباً دو صدیوں سے رائج نیوٹونی حرکیات(Newtonian Mechanics  ) کی جڑھیں ہلا دیں، اور زماں و مکاں کے بارے میں ہمارے نظریات کو یکسر بدل دیا۔آپ جان چکیں ہو نگے کہ ہم نظریہ اضافیت کی بات کر رہے ہیں،جس کے بارے میں تفصیل آپ آئندہ تحریر میں ملاحضہ کر سکیں گے۔


مزید پڑھیں: وائی فائی سے سو گناہ تیز رفتار لائی فائی ٹیکنالوجی