یونانی نظریہ حرکت کے نقائص

پچھلے حصے میں یہاں  یونانی نظریہ حرکت کو تفصیل بیان کیا گیا ہے۔(جو آپ یہاں ملاحضہ کر سکتے ہیں۔)کیونکہ اس نظریئے کو طبعی تاریخ کے ایک عظیم دماغ  یعنی ارسطو نے بیان کیا تھا؛اور اس نظریہ سے بہت سے وسیع مشاہدات کی وضاحت ممکن کی جا سکتی تھی۔اس لئے  تقریباً دو ہزار سال تک عمومی طور پر دنیا  نے اسے قابل قبول سمجھا؛تاہم آج اس نظرئیے کی جگہ نئے نظریات رائج ہو چکے ہیں جو نہ اس سے بہت مختلف ہیں۔بلکہ حرکت کی بہتر اور آسان وضاحت بھی ممکن بناتے ہیں۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ ارسطو کا نقطہ نظر اگرچہ منطقی اور مفید لگتا ہے ،توپھر اسے کیوں تبدیل کر دیا گیا؟اگر یہ غلط تھا تو بہت ذیادہ دانشور اور عالم اسے درست کیوں سمجھتے رہےاور کیا وجہ تھی کہ اسکو 'غلط' قرار دیا گیااور اس کی جگہ نئے نظریات نے لے لی؟اب ہم ان سوالوں کا جواب ڈھونڈتے ہیں۔۔۔
ایک آسان طریقہ جس سے کسی مروجہ نظریہ کو مشکوک بنایا جا سکتا ہے  (چاہے وہ کتنے ہی عرصے سے درست تسلیم کیا جاتا رہے)کہ:صرف یہ ثابت کیا جائے کہ اس نظریہ سے دو متضاد نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر ہوا کی نسبت پانی میں آہستگی سے گرتا ہے۔اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ جتنی واسطے کی کثافت (Density)کم ہو گی پتھر اتنی ذیادہ تیزی سے قدرتی جگہ کی طرف گرے گا۔اور کسی خلاء میں سے پتھر کی قدرتی جگہ کی طرف گرنے کی رفتار لا محدود ہو جائے گی۔اس نقطہ کو بہت سے طبعی فلاسفروں نے اٹھایا؛ چونکہ کسی چیز کیلئے لامحدودرفتار لاصل کرنا ناممکن ہے ،سو انھوں نے خیال کیا کہ مکمل خلاء پیدا کرنا نا ممکن ہے۔
مگر اب ایک دوسرے زاویے سے اسطو نے یہ بیان کیا تھا کہ ہوا میں پھینکے گئے پتھر کو توانائی ہوا کے زریعے منتقل ہوتی ہےجس کی وجہ سے پتھر حرکت کی سمت حرکت کرتا ہے(جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے)۔اگر ہو ا ختم ہو جائے تو قوت کو منتقل کرنے والی کوئی چیز نہ ہو گی یوں حرکت پیدا کرنا ممکن نہیں ہو گا ۔سو اس طرح ہم اس نظریہ سے مساوی طور پر یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خلاء میں حرکت کی رفتار یا تو صفر ہو گی یا پھر حرکت پیدا کرنا ممکن نہیں ہو گا۔یعنی ہم دونوں نتائج بیک وقت اخذ کر سکتے ہیں۔

دو پتھروں کا نظام:

ایک دوسرا ممکنہ تضاد یہ ہے:فرض کریں ایک اور دو کلوگرام کے دو پتھر ایک دوسرے سے باندھ کر آزادانہ زمین پر گرائے جائیں۔دو کلوکا پتھر بھاری ہونے کی وجہ سے ذیادہ تیزی سے اپنی قدرتی جگہ کی طرف آئے گا ۔اب اگردونوں پتھرون ایک دوسرے سے مظبوطی سے باندھ کر آزادانہ گرایا جائے تو دو کلو کا پتھر جلدی زمین پر گرنے کی کوشش کرے گامگر ایک کلو والے پتھر آہستہ گرنے کی وجہ سے اسکی رفتار بھی کم کر دے گا۔اسلئے دونوں پتھروں کی مجموعی رفتار ایک کلو کے پتھر سے ذیادہ مگر دو کلو کے پتھر سے کم ہو گی۔
لیکن یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دونوں پتھر ملکر ایک تین کلو کا پتھر بنائیں گے جو دونوں پتھروں کی انفرادی شرح ر فتار سے ذیادہ تیز ی سے گرے گا۔اب سوال یہ پیدا ہوا ہے :دونوں پتھر کے گرنے کی رفتار ذیادہ ہو گی یا ذیادہ؟۔۔۔یقیناً ہم مساوی طور پر دونوں نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔
اس طرح کی گہری چھان بین سے یونانی نظریہ حرکت کے کمزور پہلوؤں کو اجاگر کر سکتے ہیں۔مگر اس سے( نظریہ کی افادیت میں کمی نہیں آتی)اور عام لوگوں کے یقین میں دراڑھ نہیں پڑھتی،کیونکہ نظریہ کے حامی اپنے جوابی دلائل پیش کرتے ہیں۔مثلاً پہلی صوتحال کیلئے یہ جواب دیا جا سکتا ہے : خلا میں بنیادی جگہ کی طرف حرکت تو لامحدود ہو گی جبکہ جبری حرکت(Forced Movment)ناممکن ہے۔علاوہ ازیں دو پتھروں کے مجموعی طور پر گرنے کی شرح اس بات پر منحصر ہے کہ انھیں کتنی سختی سے باندھا گیا ہے۔
ایک دوسرا طریقہ جس سے ہم کسی نظریہ کو صداقت کو پرکھ سکتے ہیں جو کہ ذیادہ مفید بھی ہے۔پہلے نظریہ سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے اور پھر اسکی حقیقی دنیا میں ہر ممکن حد تک سخت پڑتال کی جائے۔
جیسا کہ ایک دو کلو وزن کا پتھر ہاتھ پر ایک کلو وزن سے ذیادہ دباؤ ڈالے گا۔سو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک کلو کے پتھر سے دوگنی رفتار سے زمین پر گرے گا۔کیونکہ کہ اگر دو کلو وزن کا دباؤ دوگنا ہے تو پھر اس کے گرنے کی رفتار بھی دوگنی ہونی چاہیے۔کیا نہ ہم دونوں پتھروں کے گرنے کی درست رفتار کا تعین کریں،کیاواقعی دو کلو وزنی پتھر دوگنی رفتار سے گرتا ہے۔اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں لازماً ارسطو کے نظریہ میں ترمیم کرنی پڑے گی۔اور اگر دو کلو کے پتھر کے گرنے کی رفتار بھی دو گنا ہوئی تو یقیناً ارسطوکے نظریات کو قبول کیا جاسکتا ہے۔
ایسی ارادی پڑتال ارسطو کے اپنے دور تو کجا آئندہ دو ہزار سال تک نہ ہو سکی۔اسکی دو ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اہل یونان نظریاتی لوگ تھے،انھوں نے جیومیٹری میں زبردست ترقی کی ،جو کہ تجریدی تصورات مثلاًبغیر کسی جہت کے نقاط،بغیر کسی چوڑائی کے لکیروں سے بحث کرتی تھی۔ان تصورات سے بہت سے عام اور آسان تنائج حاصل ہوئے جو کہ حقیقی اشیاء سے حاصل نہیں ہو سکتے تھے۔اس لیے عام خیال یہ تھا کہ ہمارے ارد گرد کے ماحول اور حقیقی دنیا کے واقعات اس قدر بے ہنگم اور پیچیدہ ہیں کہ وہ کسی تجریدی نظریہ سے درست طور پر بیان کیے جا سکیں1(آج بھی ہمارے ملک میں عام سوچ یہی ہے)۔تاہم ایسے یونانی سکالر بھی موجود تھے جنہوں نے تجربات سے مفید نتائج اجذ کیے(مثلاًارشمیدس اور ہیرو)۔لیکن اسکے باوجود قدیم اور زمانہ وسطٰی میں عام رجحان مفرضات سے اخذ کیے گئے نتائج پر منطقی بحث کرنا رہا بجائے ان سے حاصل کردہ نتائج کی تجربات سے جانچ کی جائے۔
دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ عملی طور پر کوئی تجربہ کرنا عام خیال کی نسبت ذیادہ دشوار اور کٹھن ہے۔آجکل کے ترقی یافتہ دور میں گڑیوں کی موجودگی میں کسی چیز کے آذادانہ گرنے کی رفتار معلوم کرنابہت آسان ہے،کیونکہ ہم گھڑی کی مدد سے وقت کے قلیل وقفے کو بھی آسانی سے ناپ سکتے ہیں۔لیکن اب سے تین صدی پہلے ایسے کسی آلے کا تصور بھی نہیں تھا۔لہٰذاصرف عقل اور منطق پر انحصار کرتے ہوئےقدیم فلاسروں اور سکالروں نے اپنے دور میں نظریات پر مباعث تو کیے مگر غیر دلچسب اور بیزار کن عملی تجربات بڑی حد تک پہلو اجتناب  کیے رکھا۔
تجرباتی سائنس کا آغاز:
 بہت لمبے عرصے تک تجربات داں طبقے کا سائنس پر اثرنہ ہونے کے برابر رہا۔یہاں تک کے اٹلی کے سائنسداں گیلیو گیلیلی نے سائنس کے میدان میں قدم رکھے۔گیلیلیو نے از خود تو سائنس کی بنیاد تو نہیں رکھی لیکن اس نے تجربات کی افادیت کو ثابت کیا اور انھیں قابل ستائش اور مقبول عام ضرورکیا۔اس کے تجربہ بہت سادہ ہونے کے باوجود اتنے نتیجہ خیز تھے کہ ان سے ارسطو کے نظریات کی بنیادیں اکھاڑیں بلکہ سائنس کیلئے تجربہ کی اہمیت بھی واضح کی۔گیللیو سے ہی ہمارے موجودہ دور کی "تجرباتی سائنس"(جس کی بنیاد تجربات سے ثابت شدہ نظریات پر ہیں)یا جدیدسائنسی علم کی ابتداء ہوئی۔


1 پھر بھی اہل یونان پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ایسے تجربات کیوں نہ کیے جن کیلئے کوئی آلات و اوزار درکار نہیں ہوتے۔جیسا کہ کاغذ کا ٹکڑا آہستگی کے آذادانہ گرے گا مگر، اگرہم اسی ٹکڑے کو مظبوطی کے ساتھ لپیٹ کر چھوٹی سی گیندبنا لیں تو اس کے گرنے کی رفتار بڑھ جائے گی۔اگرچہ لپیٹے پر کاغذ کا وزن تو نہیں بڑھا اسکے باوجود گرنے کی شرح کیوں بڑھ گئی؟ایسا سادہ سوال یونانی نظریہ کی توسیع و توثیق کیلئے اہم ثابت ہو سکتے تھےاور سائنس ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی تھی۔



No comments:

Post a Comment