بابل کا امیر ترین آدمی۔۔۔ غربت سے امارات کا سفر


بابل کا امیر ترین آدمی ایک امریکی بیسٹ سیلر کتاب ہے  ۔ اس  کتاب کے مصنف جارج کلیسن ہیں ۔یہ کتاب ایک داستان کی طرز میں لکھی گئی ہے۔اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک عام مزدور  کچھ سادہ اصولوں کو اپناتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ  بابل کا امیر ترین شخص بن  جاتا ہے۔ ۔اگرچہ یہ کتاب 1926 کو شائع ہوئی ۔لیکن اس میں شامل اسباق آج بھی اتنی ہے اہمیت رکھتے ہیں۔اسی لئے تقریباً ایک صدی گزرنے کے بعد بھی  اس کی مقبولیت وافادیت دن بدن بڑھتی رہی ہے۔اس کتاب کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہے ۔کہا جاتا ہے کہ معاشی آسودگی کا خواب دیکھنے والے ہر شخص کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے ۔ لیکن اگر آپ ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھ سکے تو آئیے  اس کتاب میں شامل اہم ترین اصولوں سے آپ کو روشناس کراتے ہیں۔

آپ غربت سے امارت کا سفر تہہ کرنا چاہتے ہیں ۔جان لیجیے کہ راتوں رات ایسا نہیں ہو سکتا۔چے جائے کہ  راہ چلتے چلتے  آپ کے ہاتھ قارون کے خزانے کی چابی آ جائے ۔آپ کی لاٹری لگ جائے یا تو کوئی ایسی نوکری مل جائے جو  آپ  کوفوراً مالا مالا کر دے۔لیکن اگر ایسا کچھ آپ کے ساتھ ہو چکا ہوتا ہو ابھی آپ کو یہ مضمون پڑھنے کے ضرورت نہ ہوتی۔

اب سوال یہ ہے کہ   دولت کی چڑیا کو قید کرنےکا کوئی متبادل و قابل عمل طریقہ بھی ہے یا نہیں؟ یہی وہ ملین ڈالر سوال کا جواب یہ کتاب دینے کی کوشش کرتی ہے ،آئیے دیکھتے ہیں کیسے۔۔!

 پہلے اپنے آپ کو معاوضہ دیں۔۔۔

اگر آپ امیر ہونا چاہتے ہیں تو اس وقت آپ جتنی بھی پیسے کما رہے ہیں ۔ان کا دسواں حصہ نکال کر سب سے پہلے "اپنے آپ کو معاوضہ دیں"۔باقی ماندہ رقم  جیسے چاہے خرچ کریں ۔ فرض کیاکہ ایک مزدور ہے۔ وہ نہایت کسمپرسی کی حالت میں ہے ۔دن بھر محنت کرنے کے  بعدوہ  صرف 500 روپے کما سکا ہے ۔ اب اگر وہ اس غربت سے چھٹکارہ چاہتا ہے تو اس لازمی اپنی  کمائی  سے 50 روپے  سب سے پہلے اپنےآپ کو ادا کرنے ہیں ۔ باقی 450 سے وہ اپنے دن بھر کے اخراجات چلا سکتا ہے۔

یقیناً کچھ لوگ سوال کریں گے کہ آج کی مہنگائی میں ہم ایک مزدور کو جو کہ کما ہی 500 رہا ہے صرف 50 روپے کی بچت کرنے کا کہہ رہے ہیں؟ اس کی زندگی پہلے ہی  آسان نہیں  ،ہم  اسکی آمدن کے دسویں حصے سے بھی محروم  کر   رہے ہیں ۔یاد رکھیئے  کہ اس مزدور نے  اپنے اخراجات کی ادائیگی میں 50 کی بچت کرنے کی ذہنیت نہیں اپنانی۔بلکہ پہلے  اس نے اپنی کمائی سے 50 روپے الگ کرنے ہیں ۔  پھر باقی بچنے والی رقم کے مطابق  اپنا خرچہ چلانا ہے۔

یقیناً آپ سوچیں گے کہ یہ کیا بات ہوئی؟ ایک مزدور کما ہی 500 رہا ہے ۔دن بھر مشقت بھی کر رہا ہے۔اگر وہ یہ  رقم بھی پوری خرچ نہ کرے تو وہ اور بھی غریب تر ہو جائے گا۔ تو بھائی صاحب  اسی ذہنیت کو ہی تو بدلنا  ہے کہ جو کمایا خرچ کیا،مزید کمایا تو  خرچ اور بڑھا دیا۔اگر یہ بے چارہ مزدور اپنی آمدنی سے کچھ بچائے گا نہیں تو جس دن اسکی مزدوری نہ لگی ، اس دن پھر کیا کرے گا؟ یا تو وہ ادھار مانگ لے،یا پھر بھوکاسو جائے۔

ایک دہاڑی دھار مزدور کی بات تو چھوڑیئے ،ہمارے ایک چچا ہیں۔سرکاری ملازم ہیں۔ہر سال ان کی تنخواہ میں دو اضافے ہوتے ہیں۔ایک بجٹ کے موقع پر ۔دوسراہرعیسوی سال کے آخر میں۔ اس  کے باوجود میں انکا یہ حال ہےکہ ہر ماہ کی آخری تاریخوں میں ادھار مانگ مانگ کر گزارہ کر رہے ہوتے ہیں۔یعنی ادھرانکی تنخواہ بڑھی نہیں ادھر پہلے ہی خرچے بڑھ گئے۔آمدن بڑھنےکے باوجود، ہر مہینے کے آخر میں بٹوہ خالی ہی رہ جاتا ہے۔

اس لئے اگر آپنےاپنی مالی حالت بدلنی ہے تو ہر ماہ(یا دن) کے بعد آپ کی جو بھی آمدن ہوخرچ کرنے سے پہلے  اس کمائی کا دسواں حصہ باقاعدگی سے الگ کر لیں۔باقی بچ جانے والی رقم آپ خرچ کر سکتے ہیں۔اس طرح سے کچھ عرصہ میں آپ کے پاس ایک معقول رقم جمع ہو جائے گے۔

پیسے کو اپنا غلام بنائیں:

اب جو کہ پیسے آپ نے بچا لئے ہیں وہ اس لئے ہر گز نہیں کہ آپ چھٹیوں میں تفریح کرنےچلے جائیں۔نیا اور مہنگا آئی فون یا گلیکسی خریدنے کی حماقت بھی نہیں کرنی۔

اس رقم سے آپ نے دولت کے حصول  کیلئے اگلا قدم اٹھانا ہے ۔ سوچ بچار کے بعد اپنی رقم کو کسی ایسی جگہ لگانا ہے جہاں سے آپکے لئے مزید آمدنی پیدا کرنے کے مواقع پیدا ہو سکیں۔یعنی ایک مزدور/کسان ان روپوں سے کوئی گائے بکری سکتا ہے۔ایک ملازم پیشہ شخص اوبر/کریم کیلئے گاڑی خرید سکتا ہے۔سٹاک مارکیٹ /قومی بچت کی سکیموں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔اورذیادہ  نہیں آپ کم از کم ایک فوڈ سٹال ہی لگا  سکتے ہیں جو آپکے لئے اضافی آمدنی کا زریعہ پیدا کر سکتا ہے۔یہ طریقے صرف مثال کے طور پر بیان کیےہیں ورنہ تو ہمارے ارد گرد آمدنی پیدا کرنے کے لامحدود مواقع موجود وہوتے ہیں۔بات صرف کچھ  " نیا سوچنے" اورپھر "عملی قدم "اٹھانے کی ہے۔

فرض کریں  کہ  آپ نے یہ دوسرا قدم بھی اٹھا لیا ہے تو پھر آپ نے صارف کی بجائے سرمایہ کار بننے کیلئے اڑان بھر لی ہے۔اب آپ نے یہ سلسلہ جاری رکھنا ہے۔ معقول بچت جمع ہو جانے کے بعد اس کے کاروبار/سرمایا کاری کرنے ہے۔ایک دن جب  ان دیگر زرائع سے بھی ایک معقول آمدن ہونے لگے گی تو پھر آپ کو پیسوں کیلئے کام نہیں کرنا پڑھے گا بلکہ اب پیسہ آپ کیلئے کا م کرنے لگ جائے گا۔یہ بات اگر سمجھ آ گئی تو پھر یقیناً  فوراً تو نہیں مگر بتدریج آپ کے دن ضرور بدلیں گے۔صرف سوچ بدلنے اور عملی قدم اٹھانے کی دیر ہے۔

یہ دو اسباق اس کتاب کی تلخیص ہیں، اگر آپ مکمل کتاب پڑھیں گےتو یقیناً اس کے علاوہ اور بھی بہت سیکھنے کیلیے موجود ہے۔

آگ لگنے اور پھٹنے سےمحفوظ نئی سالڈا سٹیٹ بیٹری

امریکی ٹیکساس یونیورسٹی کی انجنیئرنگ ٹیم نے ایک نئے بیٹری  سیل کا  ابتدائی نمونا( پروٹوٹائپ  )تیار کیا ہےجو کہ نہ صرف پھٹنے اورآگ پکڑنے سے محفوظ ہے بلکہ یہ آج کی مروجہ لیتھیم آئن بیٹریوں کی نسبت سستی اور دیر پا بھی ہو گی۔خاص بات یہ ہے کہ یہ نئی بیٹری سالڈ سٹیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔جبکہ لیتھیم آئن بیڑیاں مائع الیکٹرو لائیٹ سے تیار کی جاتی  ہیں۔
94 سالہ پروفیسر جون گاڈون

مذکورہ بیٹری ٹیکساس یونیورسٹی کے 94 سال  پروفیسر جوہن گاڈوِن کی زیر نگرانی تیار کی گئی ہے۔بتاتے چلیں کہ یہی صاحب  مقبول ترین لیتھیم آئن بیٹری کے شریک موجد بھی ہیں۔جو کہ  آج کل نہ صرف  موبائل ولیپ ٹاپ بلکہ  برقی گاڑیوں  تک میں استعمال ہو رہی ہیں ۔مگرکثرت استعمال کے باوجود انکی  ایک بڑی خامی یہ ہے کہ کچھ خاص حالا ت میں یہ آگ پکڑ سکتی ہیں۔جو کہ کسی  حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
سیمسنگ نوٹ 7 بیٹری پھٹنے کے بعد

لیتھیم بیٹری کی اسی خامی کی وجہ سے سیمسنگ نوٹ 7 کی بیٹریاں پھٹنے اور آگ پکڑے کے کئی  واقعات رونما ہوچکے ہیں،جس وجہ سے سیمسنگ کو کروڑوں ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑھا تھا ۔بات سیمسنگ نوٹ 7 تک محدود  نہیں بلکہ  پچھلے دنوں ایپل کے مہنگے ترین آئی فون 7 پلس کے پھٹنے کی وڈیو بھی سامنے آ چکی ہے۔اگرچہ دورانِ تیاری  ان موبائلز میں بیٹری کو محفوظ رکھنے کیلئے بہت سی حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتیں ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ان تمام تر حفاظتی  اقدامات کے باوجود بھی لیتھیم آئن بیٹری میں  آگ پکڑےیا پھٹنے کی کچھ نہ کچھ امکان ضرور موجود رہتا ہے۔


لیٹھیم بیٹریوں میں مسلسل چارج ذخیرہ (Charging)اور استعمال ہونے (Discharging) کے دوران لیتھیم آئن پر ایک خاص تہہ بنتی رہتی ہےجو بیٹری کی عاجز(Insulating layer) کو نقصان پہچاتی ہے جس وجہ سے شارٹ سرکٹ اور بیٹری  میں آگ لگنے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔

اسکے علاوہ لیتھیم ان  عناصر میں شامل ہے جن کی دستیابی اگلے 100 سال بعد زمین پر انتہائی ناپید ہو چکی ہوو گی۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے ادارے  مروجہ لیتھیم آئن  بیٹری ٹیکنالوجی کو پختہ کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: منٹوں میں چارچ ہونے والی موبائل بیٹر


اسی تناظر میں ماہرین اس نئی سالڈ اسٹیٹ بیٹری  کو ایک اہم پیش رفت قراردے رہے ہیں۔بیٹری کی موجد انجنئیرنگ ٹیم کے مطابق سالڈ اسٹیٹ  بیٹری  میں  چارج ذخیرہ کرنے کی صلاحیت لیتھیم آئن بیڑی سے تین گناہ ذیادہ ہو گی۔جس وجہ سے مستقبل میں مزید پتلےاور ذیادہ دیرپا بیٹری لائف والے موبائل تیار کیے جائیں سکیں گے۔اس کے علاوہ  الیکٹرک گاڑیاں  بھی انکی  بدولت  ایک مکمل چارجنگ کے بعد ذیادہ فاصلہ طے کر سکیں گی۔

عام استعمال بیٹریوں میں مائع لیتھیم آئن استعمال کیا جاتا ہے جو کہ مثبت اور منفی بروقیروں کے درمیان برقی آئن کی ترسیل کرتا ہے۔اس کے برعکس سالڈ اسٹیٹ  بیٹری میں  گلاس الکٹرو لائٹ استعمال کیے  گئے ہیں جس وجہ  سے ان میں لیتھیم کے علاوہ کسی  بھی الکی دھات (پوٹاشیم،کیلشیم وغیرہ)  کو مثبت برقیرے کے طور پر استعمال کی جا سکے گی ۔کیونکہ باقی الکی گروپ کی دھاتیں لیتھیم کی نسبت سستی ہیں اس لئے یہ بیٹریاں کم قیمت بھی ہو ں گی۔

آج موبائل ، لیپ ٹاپ اور الیکٹرک کاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے بیٹریوں کی مانگ بھی اپنے عروج پر ہے۔اس لئے بہت سے ادارے نئی  پیشرفت کے دعوے ماضی میں بھی کرتے رہے ہیں مگر دعوں کے برعکس کوئی متبادل  پروڈکت متعارف نہیں کرا سکے۔اس لئے دیکھنا یہ ہےکہ سالڈ اسٹیٹ بیڑی لیتھیم آئن کی اجارہ داری کو چیلنج کر سکے گی یہ پھر ایک دعویٰ تک ہی رہے گی۔

اسپیس ایکس کرائے گی چاند کا سیاحتی دورہ

ہائی سکول کی درسی کتاب میں ابن انشاء کے سفر نامے 'چلتے ہو تو چین کو چلیے ' میں سے ایک اقتباس پڑھا تو  دل میں  چین کی سیاحت کی خواہش پیدا ہو گئی تھی۔ لیکن اب نیا دور ہے اور اس کے تقاضے بھی نئے ہیں۔  یہ چین سے بھی  آگے جانے کا زمانہ ہے بلکہ  اب انسان دوبارہ چاند پر کمند ڈالنے کا سوچ رہا ہے۔

اس تمہید کی وجہ امریکی کمپنی اسپیس ایکس کا  اعلان  ہے کہ وہ دو 'عام شہریوں' کو اگلے سال چاند کی سیاحت کے لئے لے کر جائے گی۔ یعنی اب آپ نے کسی نئی جگہ جانا ہی ہے تو چاند کی سیاحت کیلئے جانے کا سوچیں۔
اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک
 
خاص بات یہ ہے کہ اس مشن میں دو مسافر جن کا ابھی تک نام ظاہر نہیں کیا گیا، کسی بھی طرح کے خلا باز یا سائنسدان  نہیں ہیں۔یہ  ایک نجی سیاحتی سفر میں چاند کے گرد چکر پورا کریں گے۔ اس سفر  کا پہلا حصہ زمین سےخلاء اور پھر وہاں سے اصل ایڈونچر ایک خاص سواری بردارڈریگن کیپسول کے ذریعے چاند کی گرد چکرکی صورت میں مکمل ہو گا۔دوران سفر یہ سیاح چاند پر اتریں گے نہیں، بلکہ اس کے ثقلی میدان میں گردش کے دوران  چاند کو قریب سے دیکھنے کا لطف حاصل کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:مریخ پر اکیلے بے یارو مدد گار خلا نورد کی داستان


اگر سب کچھ توقعات کے مطابق رہا تو اگلے سال کے آخری دنوں میں یہ خلائی سیاح کینیڈی خلائی سٹیشن سے اپنے سفر پر روانہ ہونگے۔یہ وہی تاریخی سٹیشن ہے جہاں سے اپالو مشن کے زریعے ناسا نے چاند کو تسخیر کیا تھا۔اس مشن کے لانچ کیلئے فالکن راکٹ استعال کیا جائے گا جو کہ اسپیس ایکس کا اپنا تیار کردہ ہے۔ چاند تک چلنے کا یہ سفر ایک ہفتے پر محیط ہو گا اور اس دوران خلائی جہاز تین سے چار لاکھ میل کا فاصلہ طے کرے گا۔

اس سفر کے درست اخراجات ابھی ظاہر نہیں کیے گئے مگر اندازہ ہے کہ اس سفر کیلئے ایک انسانی بردار خلائی مشن جتنا خرچ آئے گا۔موازنے کیلئے بتاتے چلیں کہ روسی سویز کیپسول کے ذریعے ایک خلاء باز کو خلا میں لے جانے کیلئے ناسا کو 8 کروڑ ڈالر خرچ کرنے پڑھتے ہیں۔

اس مشن کے متعلق کمپنی کے مالک ایلون مسک بہت پرجوش ہیں ۔ایلون نے خلائی سفرمیں حکومتی اجارہ داری کوختم کرنے اور خلائی تسخیر  عام انسانوں کی دسترس میں لانے کیلئے ہی اس کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔
اس موقع پر ایلون کا کہنا تھا کہ 'ہمارے یہ کلائنٹ اس بات کا مکمل ادراک رکھتے ہیں کہ چاند تک کا خلائی سفر خطروں سے بھرپور ہو گا۔مگر ہماری پوری کوشش اس بات پر مرکوز رہے گی کہ اتنے بڑھے خلائی سفر کیلئے ممکنہ خطراک کو کم سے کم کیا جائے۔

ان کے مطابق اور بھی بہت سے افراد نے خلائی سفرمیں دلچسبی کا اظہار کیا ہے۔اس مشن کی کامیابی کی صورت میں اسے کو وسعت دے جائے گی،جس سے نہ صرف کمپنی کو مالی فائدہ حاصل ہو گا ، بلکہ انسان کی خلائی دسترس کا ایک نیا باب بھی شروع ہو گا۔

نوکیا3310 کی غیر متاثر کن واپسی

نوکیا ایک عرصے کی 'رسوائی 'کے بعد دوبارہ موبائل فون مارکیٹ میں واپسی کر رہی ہے۔سپین کے شہر بارسلونا میں جاری موبائل ورلڈ کانگرس میں نوکیا نے جہاں   اپنی ضد سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تین اینڈرائڈ فون متعارف کرائے ہیں۔وہیں  ساتھ ہی کمپنی نے اپنےپرانے صارفین کی ہمدردیاں سمیٹے(اور پرانے گاہک واپس لانے) کیلئے نوکیا 3310کو نئے انداز میں متعارف کرایا ہے۔ 

نیا نوکیا 3310

کیا واقعی نیا نویلا نوکیا 3310 اس قابل ہے کہ اس خریدا جائے، آئیے دیکھتے ہیں۔۔۔
نوکیا 3310  جو کہ آج دوتقریباً دہائی پہلے2000 پیش کیا گیا ۔اسکی 1 کروڑ25 لاکھ  کاپیاں فروخت ہوئیں۔اس بےمثال کامیابی پر نوکیا مزیدعروج پر پہنچی۔لیکن پھر تقریباً ایک دہائی بعد  یہی نوکیا  کا آسمان سے زمین تک آ پہنچی ۔نوکیا کی ناکامی کا باعث آئی فون تھا۔باقی کمپنیوں نے جہاں آئی فون سے مقابلے کیلئے اینڈرائڈ کو اپنا لیا اور اپنے مارکیٹ ویلیو بچانے اور بڑھانے میں کامیاب ہوئیں، وہیں نوکیا نے نئے آپریٹنگ سسٹم کو اپنانے میں پہلے تو تذبذب کا مظاہرہ کیا۔جب آخر کار نئے آپریٹنگ سسٹم کا انتخاب کیا بھی تو مائیکروسافٹ' ونڈوز فون 'کو چنا۔

 مزید پڑھیں:پہلا مائیکروسافٹ فون

 

لیکن۔۔۔اسی مائیکروسافٹ نے نوکیا کو ہی خرید لیا ۔ اوریہ سودا بھی کارگر نہ ہوا،نوکیا کا نام ونڈوز فون کو کامیاب نہ بنا سکااور مسلسل خساروں کے بعد مائیکروسافٹ کومجبوراً نوکیا  ہی کو بیچنا پڑا۔اب ایچ ایم ڈی گلوبل  نوکیا موبائل کی مالک ہے جو کہ نوکیا کی موبائل لیگسی کو کیش کرنا چاہتی ہے، تا کہ نوکیا کو واپس اپنے پیروں پر کھڑا کر سکے۔

اسی سلسلے کی کڑی نوکیا 3310کی شکل میں ہمارے سامنے آئی ہے۔ نیا 3310 دیکھنے میں دیدہ زیب اورنئے ڈیزائن  پر مشتمل ہے۔16 جی میموری ، بلیو ٹوٹھ اور اضافی میموری کارڈ کی گنجائش کے ساتھ اس میں کیمرہ اور رنگین سکرین میں موجود ہے۔اسکی قیمت 49 یورو تقریباً 5500 روپے کی قریب ہو گی۔

ڈیزائن کے علاوہ نئے نوکیا 3310 کی ایک واحد خوبی اس کی بیٹری لائف ہےجو کہ  22 گھنٹے کا ٹاک ٹائم مہیا کر سکتی ہے(اگر آپ اتنے ٹائم  کسی سے بات کرنا چاہیں تو) اس کے علاوہ یہ  ایک مہینے تک فون کو  سٹینڈ بائی پر رکھ سکتی ہے جو کہ بہت ذبردست فیچر ہے۔ 

مزید پڑھیں: موبائل ورلڈ کانگرس 2016


مگر دیکھنا یہ ہے کہ  موبائل آج کے اسمارٹ فونز کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟اس میں وائی فائی موجود نہیں۔ اگرچہ اس میں کیمرہ ہے بھی تو صرف 2 میگا پکسل کا۔ ساتھ ہی پرانا 3310 مظبوطی اور پائیداری کی علامت تھا،جسے یار دوست 'کھوتا سیٹ' بھی کہتے تھے،کیانیا 3310 بھی اپنے سے پہلے موبائل کی روایت  پر پورا اتر سکے گا۔یہ ابھی تک سوالیا نشان ہے۔

ذیادہ تر ناقدین کے خیال میں یہ نیا والا  نوکیا 3310 ان بچوں کیلئے ہی ہےجن کو والدین پہلا موبائل خرید کر دے رہے ہیں، یا پھر ان بابوں کیلئے جو اپنا آخری موبائل استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی عمر کے لوگوں کیلئے مارکیٹ میں ایک سے ایک بڑھ کر فون موجود ہیں۔

اسمارٹ آڈیو بک پلیئر،ایپ ریویو

اسمارٹ آڈیو بک  پلئیر ایک اسمارٹ فون ایپ ہے جس سے آپ اپنےاسمارٹ فون میں موجودصوتی کتب( آڈیو بکس) سننے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس وقت یہ ایپ  اینڈرائڈ  کیلئے ہی دستیاب ہےاور یہ  دو مختلف ورژن میں موجود ہے۔ایک نسخہ مفت جبکہ دوسرا قیمتاً دستیاب ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ مفت ورژن میں بھی تمام فیچرزکو ایک ماہ کیلئے  آزمائشی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ایک ماہ کے بعد نسبتاً ایڈاوانس فیچر جن میں آڈیوایفیکٹس ، ساؤنڈ انہانسر اور کرداروں کا خاکہ لکھنے کی سہولت وغیرہ غیر فعال ہو جائیں گے۔ اگر آپ چاہیں تو یہ سب فیچر قیمتاً خرید کر استعمال کر سکتے ہیں۔
اسمارٹ آڈیو بک پلئیر سکرین شاٹس

اسمارٹ آڈیو بک پلیئر کا انٹرفیس بہت سادہ ہے ۔پہلی دفعہ انسٹال ہونے کےبعد یہ آپ کی فون میموری اور ایس ڈی کارڈ کو سکین کرتے ہوئے تمام آڈیو فائیلز کو کھنگال کر آپکے سے سامنے لے آئے گا۔لیکن یہ ایپ تمام صوتی میڈیا کوصوتی کتاب ہی سمجھتی ہے۔اس لئے سود مند یہی ہو گا کہ آپ آڈیو کتابیں کسی ایک فولڈر میں اکٹھی کر لیں لیں اور اس کے بعد اسمارٹ آڈیوپلئیر کی پراپرٹینز  ٹیب میں جا کر اسی فولڈر کوسلیکٹ کر لیں جہاں آپ کی کتب موجود ہیں۔یوں ایپ آپ کوصرف آڈیو کتابیں ہی دکھائے گی اوراس میں موسیقی  یا کوئی دوسری آڈیو فائل نہیں موجود ہو گی۔

اس ایپ کومکمل طور پر صوتی کتابیں سننے کیلئے تیار کیا گیا ہے اسلئے صوتی کتب سننے کیلئے اس میں بہت خاص خصوصیات موجود ہیں۔ یہاں موجود کچھ خاص فیچر کا تعارف ضروری ہے۔

آٹو سلیپ

 رات کو سونے سے پہلے اگر آپ ہیندفری سےکتاب سن رہے ہیں اور اسی دوران سو جاتے ہیں تو خدشہ یہی ہے کہ ساری رات کتاب چلتی رہے گی ،اس لئے ایپ میں سلیپ کافیچر ہے جس میں آپ طے کر سکتے ہیں کہ کتنے منٹوں بعد اگر موبائل کو حرکت نہ دی گئی تو ایپ خود بخود بعد ہو جائی گی۔سونے سے پہلے کتابیں سننے والوں کیلئے یہ ایک بہت عمدہ فیچر ہے۔

کرداروں کاخاکہ

بہت سے ناولوں میں  کچھ کردار آپ  کی پسندیدہ لسٹ میں شامل ہو جاتے ہیں،اور بعض اوقات ایک ہی ناول میں بہت سے مختلف کردار موجود ہوتے ہیں۔ہر کردار کو الگ الگ یاد رکھنے  اسکا تعارت اور اپنے پسندیدکرداروں کےمتعلق اپنے احساسات کو فوری طور پر قلم بندکرنے کیلئے آپ کریکٹرفیچراستعمال کر سکتے ہیں۔

بک مارکس

بک مارکے فیچر میں آپ کسی بھی کتاب کے اندر کسی اپنے پسندیدہ جگہ  کو نشانذہ کر کے اسے دوبارہ سن سکتے ہیں۔

اب اگر آپ کے پاس کوئی آڈیوبک موجود ہے تو سفر میں اور فارغ اوقات میں اس ایپ کے ذریعے  کتابیں سننا شروع کر دیں،ایک دفعہ آپ کو آڈیوکتابیں سننےکا چسکا پڑھ گیا تو پھر آپکو موسیقی کی بجائے آپکا شوق بن جائے گا۔لیکن یہاں ایک قباحت ہے کہ اردومیں آڈیو بکس ایک تو ہیں ہی بہت کم اوردوسرا جو دستیاب ہیں ان میں بھی ریکارڈنگ کا معیار اور صداکاری کا معیار بہت کمتر ہے۔ مگر ضیاء محی الدین کی پر وجاہت آواز میں اردو ادب کے کچھ مشہور افسانے اور مضامین  یو ٹیوب پر موجود ہیں ،جن کو آپ ایم پی 3 میں کنورٹ کر کے سن سکتے ہیں۔

(میں نے توابھی تک کوئی معیاری اردو آڈیوبک نہیں سنی ہے۔اگرقارئین میں سے کوئی اردو زبان میں دستیاب معیاری آڈیو بک سے آگاہ ہے تو برائے مہربابی اپنے تبصرے میں مجھے اس سے ضرور آگاہی دیجئے گا۔)

مفت آڈیو بکس

اس لئے اگر آڈیو بکس سننی ہیں تو آپکو انگریزی زبان میں ہی کتابوں کا انتخات کرنا ہوگا۔اس سے ایک تو آپ کا انگریز ی زبان پر عبور بڑھے گا اور دوسرااردو کے مقابلےمیں انگریزی زبان میں مختلف موضوعات پر لاکھوں آڈیوبکس اس وقت دستیاب ہیں۔
Librvox سے آپ تقریباً سینکڑون کلاسیکس میں سے کوئی بھی کتاب مفت ڈواؤن لوڈکرسکتےہیں۔اسکے علاوہ اگر نئی کتابیں سننے کادل کرےتو وہ آڈیبل سے مل تو جائیں گے مگر مہنگی ہوں گی۔

اظہار تشکر

ایک عرصہ پہلے 2012جب محترم شاکر عزیز کے گلوبل سائنس میں شائع مضامین کے  توسط سےاردو بلاگنگ سے آشنائی ہوئی تو بلاگ پڑھنے شروع کیے۔اپنے ایک بلاگ میں شاکر صاحب نے ایک انگریزی آڈیو بک غالباً" ویل آف ٹائم" کا ذکر کیا تھا۔سو بلاگنگ کے بعد انہی کی وساطت سے آڈیو بکس کی دنیا سے بھی روشنائی ہوئی اور میرا تو ان میں ایسا دل لگا ہے کہ اب میرے موبائل میں موسیقی کے بجائے آڈیو بکس کی بھرمار ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ محترم عدنان مسعود نے بھی اسی عرصہ میں 52 ہفتے 52 کتابیں کاسلسلہ شروع کیاتھا،وہیں انھوں نے ہنگر گیمزپر اپنا تبصرہ لکھا۔انھیں دنوں اسی فلم پر ہنگرگیمزکی پہلی فلم کی نمائش بھی شروع تھی ، اس لئے انٹرنیٹ پر یہ آڈیوبک مل گئی، اسے سنا توواقعی بہت اچھی لگی اور اس کے بعد پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔آج جب اسمارٹ آڈیو بک پلئیر کے بارے میں  لکھنا چاہاتو سوچا یہی بہتر موقع ہے کہ دونوں حضرات کا شکریہ بھی ادا کر دو ، جن کی بدولت اس مفید اوردلسچب مشغلے  سے روشنائی ہوئی۔

مزید پڑھیے:گوگل میپس اب آفلائن سرچ اور نیویگیشن کے ساتھ

موبائل ورلڈ کانگرس 2016

بارسلونا میں اس وقت موبائل  دنیا کی سب سے بڑی نمائش جاری ہے، جس میں  تقریباً تمام مشہور موبائل ساز ادارے اپنی  جدید مصنوعات  کی رونمائی کر رہے ہیں۔ 21 فرووری سے جاری نمائش میں سیمسنگ کی جانب سےگلیکسی ایس 7 اور گلیکسی ایس 7 ایج متعارف کرائے گئے ، جو کہ تمام افراد کی توجہ کا مرکز ہیں۔اس کے  علاوہ بھی تقریباً تمام بڑی  موبائل کمپنیاں اپنی مصنوعات کے ساتھ صارفین کےدل جیتنے کیلئے موجود ہیں۔موبائل ورلڈ کانگرس 2016 کی کچھ اہم جھلکیاں   یہ ہیں۔
موبائل ورلڈ کانگرس  2016

سیمسنگ گلیکسی ایس 7 اور ایس 7ایج

سیمسنگ گلیکسی ایس بلاشبہ کمپنی کی سب سے اہم  موبائل پروڈکٹ ہے۔پچھلے سال کی طرح اس مرتبہ بھی سیمسنگ نے ایس 7 سیریز کے دوموبائل گلیکسی ایس 7 اور گلیکسی ایس 7 ایج متعارف کرائے ہیں۔لیکن خاص بات یہ ہے کہ اس دفعہ گلیکسی سیریز میں مائیکروایس ڈی سلاٹ موجود ہے ، پچھلے سال یہ سہولت دستیاب نہیں تھی۔اس کے علاوہ دونوں موبائلوں میں بیٹری کی گنجائش میں اضافے کے ساتھ ساتھ کیمرہ، ریم ، سکرین اور پروسیسر میں بہت ذیادہ بہتری پیدا کی گئی ہے۔اس وجہ سے گلیکسی سیریز  کے یہ موبائل سال کے بہترین موبائلوں میں شمار ہونگے۔
سیمسنگ گلیکسی ایس 7 اور ایس 7 ایج

ایل جی :جی 5

علاوہ جنوبی کوریاہی کی دوسری کمپنی ایل جی نے بھی اپناسب سے بہترین فون جی 5 بھی پیش کیا ہےجو کہ بہت سی اختراعات کی وجہ سے بہت پزیرائی حاصل کر رہا ہے۔جی 5 کے ڈیزائن کو ایل جی نے ازسر نو تیار کیا ہے جو کہ پچھلے تمام جی سیریز کے موبائلوں سے بہت مختلف اور خوبصورت ہے۔یہ جی سیریز کا پہلا مکمل میٹل باڈی موبائل ہے۔
اس کے علاوہ ایل جی جی5  کی سب سے خاص بات ماڈیولر سلاٹ ہے جس کی مدد سے آپ موبائل ایل جی یا کسی تھرڈ پارٹی کی تیار کردہ اضافی پرزہ جات شامل کر سکتے ہیں۔تعارفی طور پر ایل جی نے کیمرہ کنٹرولر ماڈیول اور بہترین معیار کی ساونڈ ریکارڈنگ جیسے ماڈیول شامل ہیں۔
اس کے علاوہ G5 میں  دو کیمرہ لینس موجود ہیں،ایک 16 میگا پکسل نارمل کیمرہ اور دوسرا 8 میگا پکسل کیمرہ سنسر 135ڈگری کے وسیع زاویہ میں تصویر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ جی 5 میں اس دفعہ ہمیشہ آن رہنے والی سکرین بھی شامل ہے۔
ایل جی جی5 کی ماڈیولر سلاٹ

سونی  ایکسپیریا X سیریز

سونی نے اس دفعہ ایکسپریا Z کی بجائے  ایک نئی موبائل سیریز ایکسپیریا X اور XAمتعارف کرائی ہیں۔یہ دونوں اقسام مکمل میٹل باڈی اور اعلی معیار کے کیمرہ سینسر کے ساتھ پیش کی گئی ہیں۔ایکسپیریا ایکس میں Z سیریز موبائلوں سے مختلف ڈیزائن میں پیش کی گئی ہے۔ یہ موبائل مکمل میٹل باڈی کے ساتھ کچھ خمدار بھی ہیں تا کہ ہاتھ میں گرفت رکھنا آسان رہے۔
یہ موبائل  فوٹو گرافی کے شوقین حضرات کیلئے خاص طور پر بنایا گیا ہے کیونکہ اس  میں 23 میگاپکسل بیک کیمرہ موجود  ہونےکے ساتھ 13 میگاپکسل فرنٹ کیمرہ بھی موجود ہے۔
ایکسپیریا ایکس سیریز


اس کے علاوہ سونی نے نمائش میں ایکسپریا ائیر نامی وائرلیس ہیڈ سیٹ بھی متعارف کرایا ہے ۔ مصنوعی ذہانت سے لیس معاون کی بدولت ایکسپریا ائیر آپ کے آواز کے تابع ہو گا۔آپ اپنی آواز سے کال ملا نے کے ساتھ انٹرنیٹ سرچ ، ٹیکسٹ میسج  بھی بھیج سکتے ہیں۔

ان تمام بڑے ناموں کے علاوہ اس نمائش میں بہت سی چینی کمپنیاں بھی اپنی مصنوعات کے ساتھ موجود ہیں۔ان میں ہواؤے اور زی ٹی ای جیسے نام شامل ہیں لیکن موبائل سازی میں ابھرتی ہوئی چپنی کمپنیاں مثلاً ون پلس ، اوپو ، میزو ، زیامی اور آنر موجود نہیں، یہ کمپنیاں کم قیمت اور معیاری موبائل بنا رہی ہیں اور مغربی منڈیوں میں ان کی مصنوعات سیمسنگ اور سونی کو لئے سخت مقابلہ پیدا کر سکتی ہیں۔

دی ماریشین ؛ مریخ پر اکیلے بے یارو مدد گار خلا نورد کی داستان

دی مارشین اکتوبر 2015 میں نمائش کیلئے پیش کی گئی سائنس فکشن فلم ہے۔ اس فلم میں مریخ پر بھیجے گئے ایک خلائی مشن کو موضوع بنایا گیا ہے،جسے ایک ناگہانی طوفان کی وجہ سے فی الفور ختم کر دیا جاتا ہے۔اس ہنگامی انخلاء کے دوران ایک مریخ نورد 'مارک واٹنی ' ایک حادثے کا شکار ہو کر بے ہوش ہو جاتا ہے اوراسکا باقی ساتھیوں سے ریڈیو  رابطہ بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔طوفان کی سنگینی کی وجہ سے خلائی  ٹیم مارک واٹنی کو مردہ سمجھ کر مریخ پر اکیلا چھوڑ کر واپسی اختیار  کر لیتی ہے۔

دی ماریشین، فلم پوسٹر

فلم کی کچھ کہانی۔۔۔

لیکن ۔۔۔مارک اس حادثے میں شدید زخمی ہو کر  بے ہوش ضرور ہو تا ہے مگر زندگی کی بازی نہیں ہارتا۔ہوش میں آنے کے بعد اسے مریخ جیسے بے آب و گیاہ ،سنسان اور ویران سیارے پر زندہ رہنے کیلئے جدو جہد کرنی پڑھتی ہے۔مگرخاص بات یہ ہے کہ یہ جدوجہد دوسری مصالحہ سائنس  فکش فلموں کی طرح ایک انتہائی ترقی یافتہ ، بھیانک اور انسان دشمن مریخی مخلوق کی بجائے مریخ کے انتہائی شدید ماحول،آکسیجن سے عاری فضا، خوراک کی کمی   اور بنجرزمین کے ساتھ ہوتی ہے۔

ایسا سیارہ جس پر زندگی کیلئے حالات انتہائی غیر موافق ہیں وہاں امید کی واحد صورت زمین سے ناسا(NASA) کے ریسکیو مشن کی آمد ہے۔جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ زمین پر کسی کو مارک کے زندہ نچ کا علم نہیں اور مریخ پر  ترتیب شدہ اگلا خلائی مشن 4 سال ترتیب دیا گیا ہے۔ ان  حالات میں  مارک واٹنی پر یہ بےرحم حقیققت واضح ہوتی ہے کہ مریخ پرمرنے والا پہلا انسان مارک خور ہی  ہوگا۔ لیکن خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے کےبجانے وہ حالات سے لڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

سیارہ مریخ پر ناسا کے  ایڈوانس خلائی پروگرام کی بدولت واٹنی کے پاس  رہائش کیلئے ایک جدید خیمہ ، ساتھی عملے کی خلائی سوٹ اور تحقیقی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والی مریخی گاڑیاں تو دستیاب ہوتی ہیں  لیکن مریخ پر زندہ رہنے کیلئے  خوراک اور پانی  انتہائی کم مقدارمیں  موجود ہوتے ہیں ۔

یہاں واٹنی کو  مریخی اسٹیشن پر موجود اشیاء کو استعمال کرتے ہوئے  اپنے  لئے آلو اگانا پڑھتے ہیں ، اس کے ساتھ ہی آلوؤں فصل اور ایک لمبے قیام کیلئے اسے  ہائیڈوجن کو جلا کر پانی بھی حاصل کرنا پڑھتا ہے۔لیکن ان سب کے باوجود  زندہ زمین پر واپسی کیلئے اس کو زمین پر موجود ناسا کی خلائی اڈے سے رابطہ کرنا بہت ضروری  ہوتا ہے اور  وہاں موجود مریخی اڈے سے زمین  رابطے کیلئے کوئی زریعہ موجود نہیں ہوتا۔اس مقصد کیلئے مارک کو کلومیٹر دور موجود ایک مریخی کھوجی "پاتھ فائینڈر" کو تلاش کرنا پڑھتا ہے۔

اسی اثناء میں مریخ  کے گرد گردش کرنے والے مصنوعی سیارچوں سے لی گئی تصویروں کی بدولت ناسا کو بھی مارک کے زندہ  ہونے کا علم ہو جاتا ہے ،لیکن ناسا کے پاس بھی مارک واٹنی کے ساتھ رابطے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہوتا۔ اس کے  بعد  فلم میں ایک طرف  زمین پر مارک کو بچانے اور زندہ کوششون واپس  لانے کیلئے کوششوں کا ذکر ہے تو دوسری طرف مریخ پر مارک کی انتہائی مشکل حالات میں زندہ رہنے کی جدجہد دکھائی گئی ہے۔جبکہ تیسری جانب واٹنی کے ساتھ مشن پر جانے والی ٹیم کی  اسے بچانے کیلئے تگ و دو اور قربانی آپ کو فلم کے اختتام تک سکرین سے نظریں ہٹانے کا موقع نہیں دیتی۔

کچھ ذکر کتاب کا۔۔۔

فلم کی کہانی اینڈی وئیر کے ایک اسی نام سے لکھے گئے ایک ناول سے ماخود ہے اورناول نگار فلم کے سکرپٹ میں بھی شریک لکھاری کی حثیت سے شامل رہے ہیں۔اینڈی وئیر کا یہ ناول "دی ماریشین" انکی آنلائن ویب سائٹ پہ  ایک عرصہ موجودرہا اور اس کو بہت پسند کیا گیا بعد ازاں 2014   میں یہ  کتابی صورت میں شائع ہوا ۔ اصل زندگی کے قریب تر مریخی  کی منظر کشی کی وجہ سے اسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور اسی وجہ سے اس کے کہانی کو پردہ سکرین پر پیش کرنے کیلئے چنا گیا۔

فلم کاسٹ اور دیگر عملہ

فلم  میں نا مصائب حالات میں ہار نہ ماننے والے خلانورد' مارک واٹنی' کا کردار مشہور اداکار میٹ ڈیمن نے  نہایت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔اپنی پرفارمنس سے میٹ ڈیمن نے ثابت کیا ہے کہ سرخ سیارے پر  ایک کے  تنہا مگرباہمت اور مستقل مزاج خلا باز کے کردار  کیلئے  ان سے بہتر کوئی اور انتخاب نہیں ہو سکتا تھا۔

فلم کے ڈائکٹر مشہور رڈلی سکاٹ ہیں جوکہ "بلیک ہاک ڈاؤن "، "گلیڈی ایٹر" اور" کنگڈم آف ہیون" جیسی یادگار فلمیں بنا چکے ہیں۔دی ماریشین ان کی بہترین فلموں میں ایک اور شاندار اضافہ ہے۔ اس فلم میں انھوں نے بہت خوبصورتی کے ساتھ نہ صرف 'سرخ سیارے' یعنی مریخ کے ماحول کو پیش  کیا ہےبلکہ اس کے ساتھ خلائی جہازوں اور راکٹ لانچر کے ذریعےسفر کو حقیقی زندگی کے قریب تر انداز میں پردہ سکرین پر پیش کیا ہے۔

باکس آفس کارکردگی اور پزیرائی

اس فلم کی تیاری پر 108 ملین ڈالر لاگت آئی اور اس کو 2 اکتوبر 2015 میں نمائش کیلئے پیش کیا گیا۔فلمی شائقین کی طرف سے فلم کو زبردست رسپائس ملا اور دنیا بھر میں اس نے 614 ملین ڈالر کا برنس کیا۔
باکس آفس پر ہٹ ہونے کے  ساتھ فلم ناقدین کو بھی پسند آئی اور اسی وجہ سے آسکر 2016 میں اس فلم کو سات مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا جن میں بہترین لیڈ رول، بہترین  بصری اثرات اور سال کی بہترین فلم جیسی اہم شامل ہیں۔

مزید سائنس فکش ریویوز:  1۔ گریوٹی      2۔  انٹرسٹیلر