آگ لگنے اور پھٹنے سےمحفوظ نئی سالڈا سٹیٹ بیٹری

امریکی ٹیکساس یونیورسٹی کی انجنیئرنگ ٹیم نے ایک نئے بیٹری  سیل کا  ابتدائی نمونا( پروٹوٹائپ  )تیار کیا ہےجو کہ نہ صرف پھٹنے اورآگ پکڑنے سے محفوظ ہے بلکہ یہ آج کی مروجہ لیتھیم آئن بیٹریوں کی نسبت سستی اور دیر پا بھی ہو گی۔خاص بات یہ ہے کہ یہ نئی بیٹری سالڈ سٹیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔جبکہ لیتھیم آئن بیڑیاں مائع الیکٹرو لائیٹ سے تیار کی جاتی  ہیں۔
94 سالہ پروفیسر جون گاڈون

مذکورہ بیٹری ٹیکساس یونیورسٹی کے 94 سال  پروفیسر جوہن گاڈوِن کی زیر نگرانی تیار کی گئی ہے۔بتاتے چلیں کہ یہی صاحب  مقبول ترین لیتھیم آئن بیٹری کے شریک موجد بھی ہیں۔جو کہ  آج کل نہ صرف  موبائل ولیپ ٹاپ بلکہ  برقی گاڑیوں  تک میں استعمال ہو رہی ہیں ۔مگرکثرت استعمال کے باوجود انکی  ایک بڑی خامی یہ ہے کہ کچھ خاص حالا ت میں یہ آگ پکڑ سکتی ہیں۔جو کہ کسی  حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
سیمسنگ نوٹ 7 بیٹری پھٹنے کے بعد

لیتھیم بیٹری کی اسی خامی کی وجہ سے سیمسنگ نوٹ 7 کی بیٹریاں پھٹنے اور آگ پکڑے کے کئی  واقعات رونما ہوچکے ہیں،جس وجہ سے سیمسنگ کو کروڑوں ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑھا تھا ۔بات سیمسنگ نوٹ 7 تک محدود  نہیں بلکہ  پچھلے دنوں ایپل کے مہنگے ترین آئی فون 7 پلس کے پھٹنے کی وڈیو بھی سامنے آ چکی ہے۔اگرچہ دورانِ تیاری  ان موبائلز میں بیٹری کو محفوظ رکھنے کیلئے بہت سی حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتیں ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ان تمام تر حفاظتی  اقدامات کے باوجود بھی لیتھیم آئن بیٹری میں  آگ پکڑےیا پھٹنے کی کچھ نہ کچھ امکان ضرور موجود رہتا ہے۔


لیٹھیم بیٹریوں میں مسلسل چارج ذخیرہ (Charging)اور استعمال ہونے (Discharging) کے دوران لیتھیم آئن پر ایک خاص تہہ بنتی رہتی ہےجو بیٹری کی عاجز(Insulating layer) کو نقصان پہچاتی ہے جس وجہ سے شارٹ سرکٹ اور بیٹری  میں آگ لگنے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔

اسکے علاوہ لیتھیم ان  عناصر میں شامل ہے جن کی دستیابی اگلے 100 سال بعد زمین پر انتہائی ناپید ہو چکی ہوو گی۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے ادارے  مروجہ لیتھیم آئن  بیٹری ٹیکنالوجی کو پختہ کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: منٹوں میں چارچ ہونے والی موبائل بیٹر


اسی تناظر میں ماہرین اس نئی سالڈ اسٹیٹ بیٹری  کو ایک اہم پیش رفت قراردے رہے ہیں۔بیٹری کی موجد انجنئیرنگ ٹیم کے مطابق سالڈ اسٹیٹ  بیٹری  میں  چارج ذخیرہ کرنے کی صلاحیت لیتھیم آئن بیڑی سے تین گناہ ذیادہ ہو گی۔جس وجہ سے مستقبل میں مزید پتلےاور ذیادہ دیرپا بیٹری لائف والے موبائل تیار کیے جائیں سکیں گے۔اس کے علاوہ  الیکٹرک گاڑیاں  بھی انکی  بدولت  ایک مکمل چارجنگ کے بعد ذیادہ فاصلہ طے کر سکیں گی۔

عام استعمال بیٹریوں میں مائع لیتھیم آئن استعمال کیا جاتا ہے جو کہ مثبت اور منفی بروقیروں کے درمیان برقی آئن کی ترسیل کرتا ہے۔اس کے برعکس سالڈ اسٹیٹ  بیٹری میں  گلاس الکٹرو لائٹ استعمال کیے  گئے ہیں جس وجہ  سے ان میں لیتھیم کے علاوہ کسی  بھی الکی دھات (پوٹاشیم،کیلشیم وغیرہ)  کو مثبت برقیرے کے طور پر استعمال کی جا سکے گی ۔کیونکہ باقی الکی گروپ کی دھاتیں لیتھیم کی نسبت سستی ہیں اس لئے یہ بیٹریاں کم قیمت بھی ہو ں گی۔

آج موبائل ، لیپ ٹاپ اور الیکٹرک کاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے بیٹریوں کی مانگ بھی اپنے عروج پر ہے۔اس لئے بہت سے ادارے نئی  پیشرفت کے دعوے ماضی میں بھی کرتے رہے ہیں مگر دعوں کے برعکس کوئی متبادل  پروڈکت متعارف نہیں کرا سکے۔اس لئے دیکھنا یہ ہےکہ سالڈ اسٹیٹ بیڑی لیتھیم آئن کی اجارہ داری کو چیلنج کر سکے گی یہ پھر ایک دعویٰ تک ہی رہے گی۔

اسپیس ایکس کرائے گی چاند کا سیاحتی دورہ

ہائی سکول کی درسی کتاب میں ابن انشاء کے سفر نامے 'چلتے ہو تو چین کو چلیے ' میں سے ایک اقتباس پڑھا تو  دل میں  چین کی سیاحت کی خواہش پیدا ہو گئی تھی۔ لیکن اب نیا دور ہے اور اس کے تقاضے بھی نئے ہیں۔  یہ چین سے بھی  آگے جانے کا زمانہ ہے بلکہ  اب انسان دوبارہ چاند پر کمند ڈالنے کا سوچ رہا ہے۔

اس تمہید کی وجہ امریکی کمپنی اسپیس ایکس کا  اعلان  ہے کہ وہ دو 'عام شہریوں' کو اگلے سال چاند کی سیاحت کے لئے لے کر جائے گی۔ یعنی اب آپ نے کسی نئی جگہ جانا ہی ہے تو چاند کی سیاحت کیلئے جانے کا سوچیں۔
اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک
 
خاص بات یہ ہے کہ اس مشن میں دو مسافر جن کا ابھی تک نام ظاہر نہیں کیا گیا، کسی بھی طرح کے خلا باز یا سائنسدان  نہیں ہیں۔یہ  ایک نجی سیاحتی سفر میں چاند کے گرد چکر پورا کریں گے۔ اس سفر  کا پہلا حصہ زمین سےخلاء اور پھر وہاں سے اصل ایڈونچر ایک خاص سواری بردارڈریگن کیپسول کے ذریعے چاند کی گرد چکرکی صورت میں مکمل ہو گا۔دوران سفر یہ سیاح چاند پر اتریں گے نہیں، بلکہ اس کے ثقلی میدان میں گردش کے دوران  چاند کو قریب سے دیکھنے کا لطف حاصل کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:مریخ پر اکیلے بے یارو مدد گار خلا نورد کی داستان


اگر سب کچھ توقعات کے مطابق رہا تو اگلے سال کے آخری دنوں میں یہ خلائی سیاح کینیڈی خلائی سٹیشن سے اپنے سفر پر روانہ ہونگے۔یہ وہی تاریخی سٹیشن ہے جہاں سے اپالو مشن کے زریعے ناسا نے چاند کو تسخیر کیا تھا۔اس مشن کے لانچ کیلئے فالکن راکٹ استعال کیا جائے گا جو کہ اسپیس ایکس کا اپنا تیار کردہ ہے۔ چاند تک چلنے کا یہ سفر ایک ہفتے پر محیط ہو گا اور اس دوران خلائی جہاز تین سے چار لاکھ میل کا فاصلہ طے کرے گا۔

اس سفر کے درست اخراجات ابھی ظاہر نہیں کیے گئے مگر اندازہ ہے کہ اس سفر کیلئے ایک انسانی بردار خلائی مشن جتنا خرچ آئے گا۔موازنے کیلئے بتاتے چلیں کہ روسی سویز کیپسول کے ذریعے ایک خلاء باز کو خلا میں لے جانے کیلئے ناسا کو 8 کروڑ ڈالر خرچ کرنے پڑھتے ہیں۔

اس مشن کے متعلق کمپنی کے مالک ایلون مسک بہت پرجوش ہیں ۔ایلون نے خلائی سفرمیں حکومتی اجارہ داری کوختم کرنے اور خلائی تسخیر  عام انسانوں کی دسترس میں لانے کیلئے ہی اس کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔
اس موقع پر ایلون کا کہنا تھا کہ 'ہمارے یہ کلائنٹ اس بات کا مکمل ادراک رکھتے ہیں کہ چاند تک کا خلائی سفر خطروں سے بھرپور ہو گا۔مگر ہماری پوری کوشش اس بات پر مرکوز رہے گی کہ اتنے بڑھے خلائی سفر کیلئے ممکنہ خطراک کو کم سے کم کیا جائے۔

ان کے مطابق اور بھی بہت سے افراد نے خلائی سفرمیں دلچسبی کا اظہار کیا ہے۔اس مشن کی کامیابی کی صورت میں اسے کو وسعت دے جائے گی،جس سے نہ صرف کمپنی کو مالی فائدہ حاصل ہو گا ، بلکہ انسان کی خلائی دسترس کا ایک نیا باب بھی شروع ہو گا۔

نوکیا3310 کی غیر متاثر کن واپسی

نوکیا ایک عرصے کی 'رسوائی 'کے بعد دوبارہ موبائل فون مارکیٹ میں واپسی کر رہی ہے۔سپین کے شہر بارسلونا میں جاری موبائل ورلڈ کانگرس میں نوکیا نے جہاں   اپنی ضد سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تین اینڈرائڈ فون متعارف کرائے ہیں۔وہیں  ساتھ ہی کمپنی نے اپنےپرانے صارفین کی ہمدردیاں سمیٹے(اور پرانے گاہک واپس لانے) کیلئے نوکیا 3310کو نئے انداز میں متعارف کرایا ہے۔ 

نیا نوکیا 3310

کیا واقعی نیا نویلا نوکیا 3310 اس قابل ہے کہ اس خریدا جائے، آئیے دیکھتے ہیں۔۔۔
نوکیا 3310  جو کہ آج دوتقریباً دہائی پہلے2000 پیش کیا گیا ۔اسکی 1 کروڑ25 لاکھ  کاپیاں فروخت ہوئیں۔اس بےمثال کامیابی پر نوکیا مزیدعروج پر پہنچی۔لیکن پھر تقریباً ایک دہائی بعد  یہی نوکیا  کا آسمان سے زمین تک آ پہنچی ۔نوکیا کی ناکامی کا باعث آئی فون تھا۔باقی کمپنیوں نے جہاں آئی فون سے مقابلے کیلئے اینڈرائڈ کو اپنا لیا اور اپنے مارکیٹ ویلیو بچانے اور بڑھانے میں کامیاب ہوئیں، وہیں نوکیا نے نئے آپریٹنگ سسٹم کو اپنانے میں پہلے تو تذبذب کا مظاہرہ کیا۔جب آخر کار نئے آپریٹنگ سسٹم کا انتخاب کیا بھی تو مائیکروسافٹ' ونڈوز فون 'کو چنا۔

 مزید پڑھیں:پہلا مائیکروسافٹ فون

 

لیکن۔۔۔اسی مائیکروسافٹ نے نوکیا کو ہی خرید لیا ۔ اوریہ سودا بھی کارگر نہ ہوا،نوکیا کا نام ونڈوز فون کو کامیاب نہ بنا سکااور مسلسل خساروں کے بعد مائیکروسافٹ کومجبوراً نوکیا  ہی کو بیچنا پڑا۔اب ایچ ایم ڈی گلوبل  نوکیا موبائل کی مالک ہے جو کہ نوکیا کی موبائل لیگسی کو کیش کرنا چاہتی ہے، تا کہ نوکیا کو واپس اپنے پیروں پر کھڑا کر سکے۔

اسی سلسلے کی کڑی نوکیا 3310کی شکل میں ہمارے سامنے آئی ہے۔ نیا 3310 دیکھنے میں دیدہ زیب اورنئے ڈیزائن  پر مشتمل ہے۔16 جی میموری ، بلیو ٹوٹھ اور اضافی میموری کارڈ کی گنجائش کے ساتھ اس میں کیمرہ اور رنگین سکرین میں موجود ہے۔اسکی قیمت 49 یورو تقریباً 5500 روپے کی قریب ہو گی۔

ڈیزائن کے علاوہ نئے نوکیا 3310 کی ایک واحد خوبی اس کی بیٹری لائف ہےجو کہ  22 گھنٹے کا ٹاک ٹائم مہیا کر سکتی ہے(اگر آپ اتنے ٹائم  کسی سے بات کرنا چاہیں تو) اس کے علاوہ یہ  ایک مہینے تک فون کو  سٹینڈ بائی پر رکھ سکتی ہے جو کہ بہت ذبردست فیچر ہے۔ 

مزید پڑھیں: موبائل ورلڈ کانگرس 2016


مگر دیکھنا یہ ہے کہ  موبائل آج کے اسمارٹ فونز کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟اس میں وائی فائی موجود نہیں۔ اگرچہ اس میں کیمرہ ہے بھی تو صرف 2 میگا پکسل کا۔ ساتھ ہی پرانا 3310 مظبوطی اور پائیداری کی علامت تھا،جسے یار دوست 'کھوتا سیٹ' بھی کہتے تھے،کیانیا 3310 بھی اپنے سے پہلے موبائل کی روایت  پر پورا اتر سکے گا۔یہ ابھی تک سوالیا نشان ہے۔

ذیادہ تر ناقدین کے خیال میں یہ نیا والا  نوکیا 3310 ان بچوں کیلئے ہی ہےجن کو والدین پہلا موبائل خرید کر دے رہے ہیں، یا پھر ان بابوں کیلئے جو اپنا آخری موبائل استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی عمر کے لوگوں کیلئے مارکیٹ میں ایک سے ایک بڑھ کر فون موجود ہیں۔

اسمارٹ آڈیو بک پلیئر،ایپ ریویو

اسمارٹ آڈیو بک  پلئیر ایک اسمارٹ فون ایپ ہے جس سے آپ اپنےاسمارٹ فون میں موجودصوتی کتب( آڈیو بکس) سننے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس وقت یہ ایپ  اینڈرائڈ  کیلئے ہی دستیاب ہےاور یہ  دو مختلف ورژن میں موجود ہے۔ایک نسخہ مفت جبکہ دوسرا قیمتاً دستیاب ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ مفت ورژن میں بھی تمام فیچرزکو ایک ماہ کیلئے  آزمائشی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ایک ماہ کے بعد نسبتاً ایڈاوانس فیچر جن میں آڈیوایفیکٹس ، ساؤنڈ انہانسر اور کرداروں کا خاکہ لکھنے کی سہولت وغیرہ غیر فعال ہو جائیں گے۔ اگر آپ چاہیں تو یہ سب فیچر قیمتاً خرید کر استعمال کر سکتے ہیں۔
اسمارٹ آڈیو بک پلئیر سکرین شاٹس

اسمارٹ آڈیو بک پلیئر کا انٹرفیس بہت سادہ ہے ۔پہلی دفعہ انسٹال ہونے کےبعد یہ آپ کی فون میموری اور ایس ڈی کارڈ کو سکین کرتے ہوئے تمام آڈیو فائیلز کو کھنگال کر آپکے سے سامنے لے آئے گا۔لیکن یہ ایپ تمام صوتی میڈیا کوصوتی کتاب ہی سمجھتی ہے۔اس لئے سود مند یہی ہو گا کہ آپ آڈیو کتابیں کسی ایک فولڈر میں اکٹھی کر لیں لیں اور اس کے بعد اسمارٹ آڈیوپلئیر کی پراپرٹینز  ٹیب میں جا کر اسی فولڈر کوسلیکٹ کر لیں جہاں آپ کی کتب موجود ہیں۔یوں ایپ آپ کوصرف آڈیو کتابیں ہی دکھائے گی اوراس میں موسیقی  یا کوئی دوسری آڈیو فائل نہیں موجود ہو گی۔

اس ایپ کومکمل طور پر صوتی کتابیں سننے کیلئے تیار کیا گیا ہے اسلئے صوتی کتب سننے کیلئے اس میں بہت خاص خصوصیات موجود ہیں۔ یہاں موجود کچھ خاص فیچر کا تعارف ضروری ہے۔

آٹو سلیپ

 رات کو سونے سے پہلے اگر آپ ہیندفری سےکتاب سن رہے ہیں اور اسی دوران سو جاتے ہیں تو خدشہ یہی ہے کہ ساری رات کتاب چلتی رہے گی ،اس لئے ایپ میں سلیپ کافیچر ہے جس میں آپ طے کر سکتے ہیں کہ کتنے منٹوں بعد اگر موبائل کو حرکت نہ دی گئی تو ایپ خود بخود بعد ہو جائی گی۔سونے سے پہلے کتابیں سننے والوں کیلئے یہ ایک بہت عمدہ فیچر ہے۔

کرداروں کاخاکہ

بہت سے ناولوں میں  کچھ کردار آپ  کی پسندیدہ لسٹ میں شامل ہو جاتے ہیں،اور بعض اوقات ایک ہی ناول میں بہت سے مختلف کردار موجود ہوتے ہیں۔ہر کردار کو الگ الگ یاد رکھنے  اسکا تعارت اور اپنے پسندیدکرداروں کےمتعلق اپنے احساسات کو فوری طور پر قلم بندکرنے کیلئے آپ کریکٹرفیچراستعمال کر سکتے ہیں۔

بک مارکس

بک مارکے فیچر میں آپ کسی بھی کتاب کے اندر کسی اپنے پسندیدہ جگہ  کو نشانذہ کر کے اسے دوبارہ سن سکتے ہیں۔

اب اگر آپ کے پاس کوئی آڈیوبک موجود ہے تو سفر میں اور فارغ اوقات میں اس ایپ کے ذریعے  کتابیں سننا شروع کر دیں،ایک دفعہ آپ کو آڈیوکتابیں سننےکا چسکا پڑھ گیا تو پھر آپکو موسیقی کی بجائے آپکا شوق بن جائے گا۔لیکن یہاں ایک قباحت ہے کہ اردومیں آڈیو بکس ایک تو ہیں ہی بہت کم اوردوسرا جو دستیاب ہیں ان میں بھی ریکارڈنگ کا معیار اور صداکاری کا معیار بہت کمتر ہے۔ مگر ضیاء محی الدین کی پر وجاہت آواز میں اردو ادب کے کچھ مشہور افسانے اور مضامین  یو ٹیوب پر موجود ہیں ،جن کو آپ ایم پی 3 میں کنورٹ کر کے سن سکتے ہیں۔

(میں نے توابھی تک کوئی معیاری اردو آڈیوبک نہیں سنی ہے۔اگرقارئین میں سے کوئی اردو زبان میں دستیاب معیاری آڈیو بک سے آگاہ ہے تو برائے مہربابی اپنے تبصرے میں مجھے اس سے ضرور آگاہی دیجئے گا۔)

مفت آڈیو بکس

اس لئے اگر آڈیو بکس سننی ہیں تو آپکو انگریزی زبان میں ہی کتابوں کا انتخات کرنا ہوگا۔اس سے ایک تو آپ کا انگریز ی زبان پر عبور بڑھے گا اور دوسرااردو کے مقابلےمیں انگریزی زبان میں مختلف موضوعات پر لاکھوں آڈیوبکس اس وقت دستیاب ہیں۔
Librvox سے آپ تقریباً سینکڑون کلاسیکس میں سے کوئی بھی کتاب مفت ڈواؤن لوڈکرسکتےہیں۔اسکے علاوہ اگر نئی کتابیں سننے کادل کرےتو وہ آڈیبل سے مل تو جائیں گے مگر مہنگی ہوں گی۔

اظہار تشکر

ایک عرصہ پہلے 2012جب محترم شاکر عزیز کے گلوبل سائنس میں شائع مضامین کے  توسط سےاردو بلاگنگ سے آشنائی ہوئی تو بلاگ پڑھنے شروع کیے۔اپنے ایک بلاگ میں شاکر صاحب نے ایک انگریزی آڈیو بک غالباً" ویل آف ٹائم" کا ذکر کیا تھا۔سو بلاگنگ کے بعد انہی کی وساطت سے آڈیو بکس کی دنیا سے بھی روشنائی ہوئی اور میرا تو ان میں ایسا دل لگا ہے کہ اب میرے موبائل میں موسیقی کے بجائے آڈیو بکس کی بھرمار ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ محترم عدنان مسعود نے بھی اسی عرصہ میں 52 ہفتے 52 کتابیں کاسلسلہ شروع کیاتھا،وہیں انھوں نے ہنگر گیمزپر اپنا تبصرہ لکھا۔انھیں دنوں اسی فلم پر ہنگرگیمزکی پہلی فلم کی نمائش بھی شروع تھی ، اس لئے انٹرنیٹ پر یہ آڈیوبک مل گئی، اسے سنا توواقعی بہت اچھی لگی اور اس کے بعد پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔آج جب اسمارٹ آڈیو بک پلئیر کے بارے میں  لکھنا چاہاتو سوچا یہی بہتر موقع ہے کہ دونوں حضرات کا شکریہ بھی ادا کر دو ، جن کی بدولت اس مفید اوردلسچب مشغلے  سے روشنائی ہوئی۔

مزید پڑھیے:گوگل میپس اب آفلائن سرچ اور نیویگیشن کے ساتھ

موبائل ورلڈ کانگرس 2016

بارسلونا میں اس وقت موبائل  دنیا کی سب سے بڑی نمائش جاری ہے، جس میں  تقریباً تمام مشہور موبائل ساز ادارے اپنی  جدید مصنوعات  کی رونمائی کر رہے ہیں۔ 21 فرووری سے جاری نمائش میں سیمسنگ کی جانب سےگلیکسی ایس 7 اور گلیکسی ایس 7 ایج متعارف کرائے گئے ، جو کہ تمام افراد کی توجہ کا مرکز ہیں۔اس کے  علاوہ بھی تقریباً تمام بڑی  موبائل کمپنیاں اپنی مصنوعات کے ساتھ صارفین کےدل جیتنے کیلئے موجود ہیں۔موبائل ورلڈ کانگرس 2016 کی کچھ اہم جھلکیاں   یہ ہیں۔
موبائل ورلڈ کانگرس  2016

سیمسنگ گلیکسی ایس 7 اور ایس 7ایج

سیمسنگ گلیکسی ایس بلاشبہ کمپنی کی سب سے اہم  موبائل پروڈکٹ ہے۔پچھلے سال کی طرح اس مرتبہ بھی سیمسنگ نے ایس 7 سیریز کے دوموبائل گلیکسی ایس 7 اور گلیکسی ایس 7 ایج متعارف کرائے ہیں۔لیکن خاص بات یہ ہے کہ اس دفعہ گلیکسی سیریز میں مائیکروایس ڈی سلاٹ موجود ہے ، پچھلے سال یہ سہولت دستیاب نہیں تھی۔اس کے علاوہ دونوں موبائلوں میں بیٹری کی گنجائش میں اضافے کے ساتھ ساتھ کیمرہ، ریم ، سکرین اور پروسیسر میں بہت ذیادہ بہتری پیدا کی گئی ہے۔اس وجہ سے گلیکسی سیریز  کے یہ موبائل سال کے بہترین موبائلوں میں شمار ہونگے۔
سیمسنگ گلیکسی ایس 7 اور ایس 7 ایج

ایل جی :جی 5

علاوہ جنوبی کوریاہی کی دوسری کمپنی ایل جی نے بھی اپناسب سے بہترین فون جی 5 بھی پیش کیا ہےجو کہ بہت سی اختراعات کی وجہ سے بہت پزیرائی حاصل کر رہا ہے۔جی 5 کے ڈیزائن کو ایل جی نے ازسر نو تیار کیا ہے جو کہ پچھلے تمام جی سیریز کے موبائلوں سے بہت مختلف اور خوبصورت ہے۔یہ جی سیریز کا پہلا مکمل میٹل باڈی موبائل ہے۔
اس کے علاوہ ایل جی جی5  کی سب سے خاص بات ماڈیولر سلاٹ ہے جس کی مدد سے آپ موبائل ایل جی یا کسی تھرڈ پارٹی کی تیار کردہ اضافی پرزہ جات شامل کر سکتے ہیں۔تعارفی طور پر ایل جی نے کیمرہ کنٹرولر ماڈیول اور بہترین معیار کی ساونڈ ریکارڈنگ جیسے ماڈیول شامل ہیں۔
اس کے علاوہ G5 میں  دو کیمرہ لینس موجود ہیں،ایک 16 میگا پکسل نارمل کیمرہ اور دوسرا 8 میگا پکسل کیمرہ سنسر 135ڈگری کے وسیع زاویہ میں تصویر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ جی 5 میں اس دفعہ ہمیشہ آن رہنے والی سکرین بھی شامل ہے۔
ایل جی جی5 کی ماڈیولر سلاٹ

سونی  ایکسپیریا X سیریز

سونی نے اس دفعہ ایکسپریا Z کی بجائے  ایک نئی موبائل سیریز ایکسپیریا X اور XAمتعارف کرائی ہیں۔یہ دونوں اقسام مکمل میٹل باڈی اور اعلی معیار کے کیمرہ سینسر کے ساتھ پیش کی گئی ہیں۔ایکسپیریا ایکس میں Z سیریز موبائلوں سے مختلف ڈیزائن میں پیش کی گئی ہے۔ یہ موبائل مکمل میٹل باڈی کے ساتھ کچھ خمدار بھی ہیں تا کہ ہاتھ میں گرفت رکھنا آسان رہے۔
یہ موبائل  فوٹو گرافی کے شوقین حضرات کیلئے خاص طور پر بنایا گیا ہے کیونکہ اس  میں 23 میگاپکسل بیک کیمرہ موجود  ہونےکے ساتھ 13 میگاپکسل فرنٹ کیمرہ بھی موجود ہے۔
ایکسپیریا ایکس سیریز


اس کے علاوہ سونی نے نمائش میں ایکسپریا ائیر نامی وائرلیس ہیڈ سیٹ بھی متعارف کرایا ہے ۔ مصنوعی ذہانت سے لیس معاون کی بدولت ایکسپریا ائیر آپ کے آواز کے تابع ہو گا۔آپ اپنی آواز سے کال ملا نے کے ساتھ انٹرنیٹ سرچ ، ٹیکسٹ میسج  بھی بھیج سکتے ہیں۔

ان تمام بڑے ناموں کے علاوہ اس نمائش میں بہت سی چینی کمپنیاں بھی اپنی مصنوعات کے ساتھ موجود ہیں۔ان میں ہواؤے اور زی ٹی ای جیسے نام شامل ہیں لیکن موبائل سازی میں ابھرتی ہوئی چپنی کمپنیاں مثلاً ون پلس ، اوپو ، میزو ، زیامی اور آنر موجود نہیں، یہ کمپنیاں کم قیمت اور معیاری موبائل بنا رہی ہیں اور مغربی منڈیوں میں ان کی مصنوعات سیمسنگ اور سونی کو لئے سخت مقابلہ پیدا کر سکتی ہیں۔

دی ماریشین ؛ مریخ پر اکیلے بے یارو مدد گار خلا نورد کی داستان

دی مارشین اکتوبر 2015 میں نمائش کیلئے پیش کی گئی سائنس فکشن فلم ہے۔ اس فلم میں مریخ پر بھیجے گئے ایک خلائی مشن کو موضوع بنایا گیا ہے،جسے ایک ناگہانی طوفان کی وجہ سے فی الفور ختم کر دیا جاتا ہے۔اس ہنگامی انخلاء کے دوران ایک مریخ نورد 'مارک واٹنی ' ایک حادثے کا شکار ہو کر بے ہوش ہو جاتا ہے اوراسکا باقی ساتھیوں سے ریڈیو  رابطہ بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔طوفان کی سنگینی کی وجہ سے خلائی  ٹیم مارک واٹنی کو مردہ سمجھ کر مریخ پر اکیلا چھوڑ کر واپسی اختیار  کر لیتی ہے۔

دی ماریشین، فلم پوسٹر

فلم کی کچھ کہانی۔۔۔

لیکن ۔۔۔مارک اس حادثے میں شدید زخمی ہو کر  بے ہوش ضرور ہو تا ہے مگر زندگی کی بازی نہیں ہارتا۔ہوش میں آنے کے بعد اسے مریخ جیسے بے آب و گیاہ ،سنسان اور ویران سیارے پر زندہ رہنے کیلئے جدو جہد کرنی پڑھتی ہے۔مگرخاص بات یہ ہے کہ یہ جدوجہد دوسری مصالحہ سائنس  فکش فلموں کی طرح ایک انتہائی ترقی یافتہ ، بھیانک اور انسان دشمن مریخی مخلوق کی بجائے مریخ کے انتہائی شدید ماحول،آکسیجن سے عاری فضا، خوراک کی کمی   اور بنجرزمین کے ساتھ ہوتی ہے۔

ایسا سیارہ جس پر زندگی کیلئے حالات انتہائی غیر موافق ہیں وہاں امید کی واحد صورت زمین سے ناسا(NASA) کے ریسکیو مشن کی آمد ہے۔جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ زمین پر کسی کو مارک کے زندہ نچ کا علم نہیں اور مریخ پر  ترتیب شدہ اگلا خلائی مشن 4 سال ترتیب دیا گیا ہے۔ ان  حالات میں  مارک واٹنی پر یہ بےرحم حقیققت واضح ہوتی ہے کہ مریخ پرمرنے والا پہلا انسان مارک خور ہی  ہوگا۔ لیکن خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے کےبجانے وہ حالات سے لڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

سیارہ مریخ پر ناسا کے  ایڈوانس خلائی پروگرام کی بدولت واٹنی کے پاس  رہائش کیلئے ایک جدید خیمہ ، ساتھی عملے کی خلائی سوٹ اور تحقیقی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والی مریخی گاڑیاں تو دستیاب ہوتی ہیں  لیکن مریخ پر زندہ رہنے کیلئے  خوراک اور پانی  انتہائی کم مقدارمیں  موجود ہوتے ہیں ۔

یہاں واٹنی کو  مریخی اسٹیشن پر موجود اشیاء کو استعمال کرتے ہوئے  اپنے  لئے آلو اگانا پڑھتے ہیں ، اس کے ساتھ ہی آلوؤں فصل اور ایک لمبے قیام کیلئے اسے  ہائیڈوجن کو جلا کر پانی بھی حاصل کرنا پڑھتا ہے۔لیکن ان سب کے باوجود  زندہ زمین پر واپسی کیلئے اس کو زمین پر موجود ناسا کی خلائی اڈے سے رابطہ کرنا بہت ضروری  ہوتا ہے اور  وہاں موجود مریخی اڈے سے زمین  رابطے کیلئے کوئی زریعہ موجود نہیں ہوتا۔اس مقصد کیلئے مارک کو کلومیٹر دور موجود ایک مریخی کھوجی "پاتھ فائینڈر" کو تلاش کرنا پڑھتا ہے۔

اسی اثناء میں مریخ  کے گرد گردش کرنے والے مصنوعی سیارچوں سے لی گئی تصویروں کی بدولت ناسا کو بھی مارک کے زندہ  ہونے کا علم ہو جاتا ہے ،لیکن ناسا کے پاس بھی مارک واٹنی کے ساتھ رابطے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہوتا۔ اس کے  بعد  فلم میں ایک طرف  زمین پر مارک کو بچانے اور زندہ کوششون واپس  لانے کیلئے کوششوں کا ذکر ہے تو دوسری طرف مریخ پر مارک کی انتہائی مشکل حالات میں زندہ رہنے کی جدجہد دکھائی گئی ہے۔جبکہ تیسری جانب واٹنی کے ساتھ مشن پر جانے والی ٹیم کی  اسے بچانے کیلئے تگ و دو اور قربانی آپ کو فلم کے اختتام تک سکرین سے نظریں ہٹانے کا موقع نہیں دیتی۔

کچھ ذکر کتاب کا۔۔۔

فلم کی کہانی اینڈی وئیر کے ایک اسی نام سے لکھے گئے ایک ناول سے ماخود ہے اورناول نگار فلم کے سکرپٹ میں بھی شریک لکھاری کی حثیت سے شامل رہے ہیں۔اینڈی وئیر کا یہ ناول "دی ماریشین" انکی آنلائن ویب سائٹ پہ  ایک عرصہ موجودرہا اور اس کو بہت پسند کیا گیا بعد ازاں 2014   میں یہ  کتابی صورت میں شائع ہوا ۔ اصل زندگی کے قریب تر مریخی  کی منظر کشی کی وجہ سے اسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور اسی وجہ سے اس کے کہانی کو پردہ سکرین پر پیش کرنے کیلئے چنا گیا۔

فلم کاسٹ اور دیگر عملہ

فلم  میں نا مصائب حالات میں ہار نہ ماننے والے خلانورد' مارک واٹنی' کا کردار مشہور اداکار میٹ ڈیمن نے  نہایت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔اپنی پرفارمنس سے میٹ ڈیمن نے ثابت کیا ہے کہ سرخ سیارے پر  ایک کے  تنہا مگرباہمت اور مستقل مزاج خلا باز کے کردار  کیلئے  ان سے بہتر کوئی اور انتخاب نہیں ہو سکتا تھا۔

فلم کے ڈائکٹر مشہور رڈلی سکاٹ ہیں جوکہ "بلیک ہاک ڈاؤن "، "گلیڈی ایٹر" اور" کنگڈم آف ہیون" جیسی یادگار فلمیں بنا چکے ہیں۔دی ماریشین ان کی بہترین فلموں میں ایک اور شاندار اضافہ ہے۔ اس فلم میں انھوں نے بہت خوبصورتی کے ساتھ نہ صرف 'سرخ سیارے' یعنی مریخ کے ماحول کو پیش  کیا ہےبلکہ اس کے ساتھ خلائی جہازوں اور راکٹ لانچر کے ذریعےسفر کو حقیقی زندگی کے قریب تر انداز میں پردہ سکرین پر پیش کیا ہے۔

باکس آفس کارکردگی اور پزیرائی

اس فلم کی تیاری پر 108 ملین ڈالر لاگت آئی اور اس کو 2 اکتوبر 2015 میں نمائش کیلئے پیش کیا گیا۔فلمی شائقین کی طرف سے فلم کو زبردست رسپائس ملا اور دنیا بھر میں اس نے 614 ملین ڈالر کا برنس کیا۔
باکس آفس پر ہٹ ہونے کے  ساتھ فلم ناقدین کو بھی پسند آئی اور اسی وجہ سے آسکر 2016 میں اس فلم کو سات مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا جن میں بہترین لیڈ رول، بہترین  بصری اثرات اور سال کی بہترین فلم جیسی اہم شامل ہیں۔

مزید سائنس فکش ریویوز:  1۔ گریوٹی      2۔  انٹرسٹیلر

چھ سادہ طریقوں سے اردو کے فروغ میں حصہ لیں

اردو ہماری قومی زبان ہونے کے ساتھ ملک بھر میں رابطے کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ اس وجہ سے اردو کی ترقی اور ترویج کی ذمہ داری ریاست کے ساتھ ہم شہریوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ حال ہی میں عدالت عظمیٰ نے اردو کو دفتری زبان قرار دینے کے لیے ایک عدالتی حکم نامہ بھی جاری کیا تھا مگر اس پر ابھی تک قابل ذکر کام نہیں ہو سکا۔
دفاتر کے علاوہ انٹرنیٹ پر اردو زبان میں قابل ذکر مواد صرف نیوز ویب سائٹس کی حد تک ہی ہے، یہاں تک کہ حکومت پاکستان کی سرکاری ویب سائٹ بھی اردو میں دستیاب نہیں، جبکہ دنیا کے ہر ملک کی سرکاری ویب سائٹ اس کی قومی زبان میں موجود ہے۔ یہاں ریاست کی بے حسی کا رونا رونے کے بجائے ہمیں کچھ عملی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک عام شہری کی حثیت سے ہم اردو کے فروغ اور اس کو دیگر عالمی زبانوں کے ہم پلہ بنانے کے لیے باآسانی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کی وجہ سے اردو کا آن لائن فروغ ان چھ طریقوں سے باآسانی ممکن ہے۔ یقیناً بہت سے قاری ان سے واقفیت رکھتے ہوں گے مگر انہیں غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

1: اپنے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون میں اردو نصب کریں

اردو کے آن لائن فروغ کے لیے سب سے پہلا قدم اپنے ذاتی کمپیوٹر یا اسمارٹ فون میں اردو کی بورڈ کی انسٹالیشن ہے تاکہ آپ کسی بھی جگہ اردو ٹائپ کرنے کے قابل ہو سکیں۔
اگر آپ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہے ہیں تو ونڈوز 8 اور 10 میں اردو کی سپورٹ پہلے سے موجود ہوتی ہے، آپ نے صرف لینگوئج آپشنز میں جا کر اسے فعال کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ آپ کو مشکل محسوس ہو تو گھبرائیے نہیں، بلکہ انٹرنیٹ سے "پاک اردو انسٹالر" اتار کر نصب کر لیں۔ اس سے آپ کو اردو لکھنے کے لیے 'ان پیج' جیسے سافٹ وئیر کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ آپ مائیکروسافٹ آفس اور گوگل سرچ بار تک ہر جگہ اردو لکھ سکتے ہیں۔
پاکستان میں فروخت ہونے والے بہت سے موبائل فونز اور آئی فون میں اردو سپورٹ پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ اگر آپ کے اینڈرائیڈ سیٹ میں اردو کی بورڈ موجود نہیں تو ایپ سٹور سے 'ملٹی لنگ کی بورڈ' ڈاؤن لوڈ کر لیں اور پھر اس کے ساتھ اردو زبان کا پلگ ان نصب کرنا ہوگا۔ اس کے بعد آپ اپنے اینڈرائیڈ ہینڈ سیٹ میں بھی ہر جگہ باآسانی اردو لکھ سکتے ہیں۔

2: انٹرنیٹ سرچ اردو میں

اپنے موبائل/کمپیوٹر پر اردو کی بورڈ نصب کرنے کے بعد اس کا سب سے مؤثر استعمال یہ ہوگا کہ آپ گوگل، یاہو یا بنگ، کوئی بھی سرچ انجن استعمال کریں تو سرچ باکس میں رومن کے بجائے اردو زبان استعمال کریں۔ اگر آپ نے پہلے انٹرنیٹ کی تلاش میں اردو استعمال نہیں کی تو سرچ رزلٹس سے ظاہر ہونے والے مواد کی تعداد سے حیرت ضرور ہو گی۔
اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ سرچ رزلٹس اردو میں ہونے کی وجہ سے آپ آسانی سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور دوسرا فائدہ براہ راست اردو کو ہوگا کیونکہ اردو میں جتنی زیادہ سرچ بڑھے گی اتنے ہی زیادہ ادارے اردو میں معلومات مہیا کرنے کی کوشش کریں گے۔

3: پیغامات اور سوشل میڈیا پوسٹیں اردو میں

آجکل اردو داں طبقہ سوشل میڈیا اور ذاتی پیغامات میں رومن اردو کا استعمال کرتا ہے، جس کے لیے کوئی باضابطہ قواعد نہ ہونے کی وجہ سے اردو زبان کا معیار مسلسل زوال پزیر ہے۔ اپنے موبائل/کمپیوٹر پر اردو میں انٹرنیٹ سرچ شروع کرنے کے بعد جیسے ہی آپ اردو ٹائپنگ میں روانی حاصل کریں، اپنی فیس بک اور ٹوئٹر پوسٹس کے ساتھ دوستوں سے پیغامات کے تبادلے میں اردو کا استعمال کریں۔

4: اردو وکی پیڈیا پر لکھیں

فرض کیا کہ آپ نے ہماری پہلی دو گزارشات مان لیں ہیں اور آپ نے انٹرنیٹ پر تلاش اردو میں شروع کر دی ہے، تو پھر نتائج میں آپ کا واسطہ سب سے زیادہ اردو وکی پیڈیا سے پڑے گا۔ اس وقت اگرچہ اردو وکی پیڈیا پر ایک لاکھ سے زیادہ مضامین موجود ہیں، لیکن ان میں سے اکثریت کا معیار وکی پیڈیا پر دوسری عالمی زبانوں میں موجود مضامین کے مقابلے میں بہت کمتر ہے۔
اس لیے آپ اپنے فارغ وقت میں یہاں پر موجود مضامین کی نوک پلک کے ساتھ ان میں موجود مواد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے وقت کا بہترین مصرف ہوگا اور ساتھ ہی مختلف موضوعات پر آپ کی اپنی معلومات میں بھی بے پناہ اضافے کا باعث بنے گا۔

5: گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد کریں

وکی پیڈیا پر مضامین کے بعد اردو کی ترویج کی سب سے اہم جگہ گوگل ٹرانسلیٹ ہے۔ گوگل ٹرانسلیٹ مشینی ترجمہ کرنے کی ایک ہمہ گیر ویب سائٹ ہے جہاں آپ دنیا کی تمام بڑی زبانوں کا ایک سے دوسری میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس مشینی ترجمے کے لیے گوگل کو پہلے سے ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کی گئی فائلیں درکار ہوتی ہیں۔
یہ ترجمہ شدہ فائلیں جتنی زیادہ ہوں گی اور ترجمے کا معیار جتنا اچھا ہوگا، ان دو زبانوں کے لیے گوگل ٹرانسلیٹ اتنا ہی بہتر ترجمہ کر سکے گا۔ اس لیے اگر آپ اردو کے ساتھ کسی اور زبان مثلاً انگریزی، فارسی، عربی یا ہندی پر عبور رکھتے ہیں تو گلوگل ٹرانسلیٹ پر جائیے اور گوگل ٹرانسلیٹ کمیونٹی کا حصہ بن کر چھوٹے چھوٹے جملے ترجہ کر کے حسبِ توفیق اردو کی ترویج میں اپنا حصہ ڈالیے۔

6: اپنا اردو بلاگ لکھیں

اگر آپ اردو ٹائپنگ میں روانی رکھتے ہیں اور اپنے خیالات اردو داں طبقے تک پہنچانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سب سے آسان راستہ اردو بلاگ ہے۔ بلاگ ایک آن لائن ذاتی ڈائری کی طرح ہے جس میں آپ اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق کسی بھی موضوع پر لکھ سکتے ہیں۔
بلاگ لکھنے کے لیے آپ کو بہت سی مفت ویب سائٹس مل جائیں گی جن میں سب سے مشہور بلاگر ڈاٹ کام اور ورڈ پریس ڈاٹ کام ہیں، جن میں اردو کی مکمل سپورٹ موجود ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ چاہیں تو حالات حاضرہ یا پاکستانی معاشرے کے بارے میں آن لائن اردو نیوز ویب سائٹس پر بھی بلاگ لکھ سکتے ہیں، جس سے آپ کی تحریر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے گی۔ 

نوٹ: یہ مضمون سب سے پہلے ڈان اردو میں شائع ہوا۔