Showing posts with label ٹیکنالوجی. Show all posts
Showing posts with label ٹیکنالوجی. Show all posts

سولہ سالہ نوجوان فورٹ نائیٹ ورلڈ کپ کا فاتح 47 کروڑ روپے کی انعامی رقم

نیویارک میں 26 سے 28 جولائی کو ہونے والے فورٹ نائٹ ورلڈ کپ میں "بوگا" نامی کھلاڑی جس کااصل نام کائل (Kyle "Bugha" Giersdorf) ہے نے جیت لیا ہے۔اس مقابلے میں فورٹ نائیٹ کھیلنے والے 4 کروڑ افراد نے شرکت کی تھی جن کو 6 ریجن میں تقسیم کیا گیا تھا۔ کمپنی نے مقابلے میں انعامات کیلئے 3 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی تھی جس وجہ سے یہ مقابلہ ای سپورٹس یعنی الیکٹرنک گیمز کے بڑے مقابلوں میں شامل ہو چکا ہے۔

فورٹ نائیٹ ورلڈ کپ کا فائنل مقابلہ نیویارک میں واقع آرتھر ایش گراؤنڈ میں منعقد ہوا جو ای اسپورٹس فینز سے کھچا کھچ برا ہوا تھا۔ 'بوگا' نے 6 روانڈز میں سب سے ذیادہ پوائنٹ حاصل کے کر 30 لاکھ ڈالر مالیت کی خطیر رقم اپنے نام کی۔پاکستانی روپوں میں یہ رقم 47 کروڑ روپے بنتی ہے جو کہ بہت سے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی فاتح رقم سے ذیادہ ہے۔

فورٹ نائیٹ بیٹل رائل گیم

فورٹ نائیٹ ایک فری آنلائن لڑنے ،مارنے اوراپنا دفاع کرنے کی گیم ہے ۔جس میں 100 کھلاڑیوں کو ایک جزیرے پر اتارا جاتا ہے جہاں وہ ایک دوسرے سے لڑنے کیلئے مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور اپنے دفاع کیلئےبنکر یا مورچے بھی بنا سکتے ہیں۔گیم میں آپ کو دوسرے کھلاڑیوں کو مارنے کے ساتھ اپنی بقا کو یقینی بنانا پڑتا ہے۔مقابلے میں شامل سارے کھلاڑی بیک وقت ایک دوسرے سے بھی لڑ رہے ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو محفوظ بھی رکھنے کی کوشش کرتے ہی۔ اس وجہ سے یہ ایک بہت مشکل گیم ہے مگر انتہائی دلچسب بھی۔

اپنے لانچ کے ساتھ ہی یہ گیم ایک انٹرنیشنل ہٹ ثابت ہوئی اور ایک سال میں 12 کروڑ سے زائد کھلاڑیوں نے فورٹ نائیٹ اکاؤنٹ فعال کیے۔
گیم کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ونڈوز،میک، ایکس باکس،پلے اسٹیشن ، آئی فونز اور اینڈرائڈ پلیٹ فارمز پر موجود ہے۔

فلم ہٹ ہو گی یا فلاپ۔۔ پیش گوئی کرے گی مصنوہی ذہانت

فوکس سٹوڈیو نے مصنوہی ذہانت سے لیس ایسا سافٹ وئیر تیار کیا ہے جو کہ فلم کے ٹریلر سے اندازہ لگائےکا کہ فلم ہٹ ہو گی کہ فلاپ۔۔؟ امریکہ میں فلم انڈسٹری ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہےاور ہالی وڈ کی فلمیں دنیا بھر سے پیسے کماتی ہیں۔لیکن فلم انڈسٹری کیلئے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک  سال میں فلاپ ہونے والی فلموں کی تعداد ہٹ فلموں سے کہیں ذیادہ ہوتی ہے۔چنانچہ  فلم اسٹوڈیو مسلسل ایسی ٹیکنالوجی کی تلاش میں ہیں جو کہ فلم ریلیز سے پہلی پیش گوئی کر سکے کہ فلم صارفین میں مقبول ہو سکے گی کہ نہیں۔۔۔؟
اس سلسلے میں سینکڑوں ماڈل اور طریقہ کار وضع کیے جا چکے ہیں مگر اس میں سے کوئی بھی متواتر  قابل بھروسہ پیش گوئی  نہیں کر سکا ہے۔اسی لئے اب اس میدان میں مصنوہی ذہانت کو آزمایا جا رہا ہےجو کہ اےآئی (Artificial Intelligence )کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔

اس سلسلے میں فاکس سٹوڈیو کا بنایا گیا سسٹم پہلے سے ریلیزکیے گئے ہزاروں فلم ٹریلرز اور فلم ٹکٹ خریدنے والے شائقین کا آپس میں ڈیپ لرننگ کے زریعے  نیورل لنک بنائے گا۔یہ لنک فلم ٹریلر میں موجود بصری عناصر(Visual Elements)  کوفلم دیکھنے والے شائقین کی عمر، سکونت اور صنف کا آپس میں موازنہ کر نے کے بعد اپنا ڈیٹابیس تشکیل دے گا۔کسی بھی نئے ٹریلر کو دیکھنےکے بعد یہ  سافٹ وئیر اپنے ڈیٹابیس کو استعمال کرتے ہوئے یہ پیش گوئی کر سکے گا کہ نئی فلم کو دیکھنے والوں کی عمر،سکونت یا جنس کیا ہو گی۔جس سے اسٹوڈیو انتظامیہ فلم بجٹ کے علاوہ ریلیز کیلئے اسکرینوں کی تعداد کا درست تعین کر سکی گی۔

علاوہ ازین اسی ٹیکنالوجی کےزریعے نئی فلموں کا ٹریلر ڈیزائن کرنے میں مدد بھی حاصل کی جا سکے گی۔سافٹ وئیر رزلٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسا ٹریلر بنایا جائے گا جو کہ ذیادہ سے ذیادہ فلم شائقین کو متوجہ کر سکے۔
فاکس اسٹوڈیو کو امید ہے کہ جس طرح زندگی کے دیگر شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کا کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے کوئی بعید نہیں کہ سنیما انڈسٹری بھی مصنوہی ذہانت کی طاقت سے فائدہ حاصل کرسکے گی۔

آگ لگنے اور پھٹنے سےمحفوظ نئی سالڈا سٹیٹ بیٹری

امریکی ٹیکساس یونیورسٹی کی انجنیئرنگ ٹیم نے ایک نئے بیٹری  سیل کا  ابتدائی نمونا( پروٹوٹائپ  )تیار کیا ہےجو کہ نہ صرف پھٹنے اورآگ پکڑنے سے محفوظ ہے بلکہ یہ آج کی مروجہ لیتھیم آئن بیٹریوں کی نسبت سستی اور دیر پا بھی ہو گی۔خاص بات یہ ہے کہ یہ نئی بیٹری سالڈ سٹیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔جبکہ لیتھیم آئن بیڑیاں مائع الیکٹرو لائیٹ سے تیار کی جاتی  ہیں۔
94 سالہ پروفیسر جون گاڈون

مذکورہ بیٹری ٹیکساس یونیورسٹی کے 94 سال  پروفیسر جوہن گاڈوِن کی زیر نگرانی تیار کی گئی ہے۔بتاتے چلیں کہ یہی صاحب  مقبول ترین لیتھیم آئن بیٹری کے شریک موجد بھی ہیں۔جو کہ  آج کل نہ صرف  موبائل ولیپ ٹاپ بلکہ  برقی گاڑیوں  تک میں استعمال ہو رہی ہیں ۔مگرکثرت استعمال کے باوجود انکی  ایک بڑی خامی یہ ہے کہ کچھ خاص حالا ت میں یہ آگ پکڑ سکتی ہیں۔جو کہ کسی  حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
سیمسنگ نوٹ 7 بیٹری پھٹنے کے بعد

لیتھیم بیٹری کی اسی خامی کی وجہ سے سیمسنگ نوٹ 7 کی بیٹریاں پھٹنے اور آگ پکڑے کے کئی  واقعات رونما ہوچکے ہیں،جس وجہ سے سیمسنگ کو کروڑوں ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑھا تھا ۔بات سیمسنگ نوٹ 7 تک محدود  نہیں بلکہ  پچھلے دنوں ایپل کے مہنگے ترین آئی فون 7 پلس کے پھٹنے کی وڈیو بھی سامنے آ چکی ہے۔اگرچہ دورانِ تیاری  ان موبائلز میں بیٹری کو محفوظ رکھنے کیلئے بہت سی حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتیں ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ان تمام تر حفاظتی  اقدامات کے باوجود بھی لیتھیم آئن بیٹری میں  آگ پکڑےیا پھٹنے کی کچھ نہ کچھ امکان ضرور موجود رہتا ہے۔


لیٹھیم بیٹریوں میں مسلسل چارج ذخیرہ (Charging)اور استعمال ہونے (Discharging) کے دوران لیتھیم آئن پر ایک خاص تہہ بنتی رہتی ہےجو بیٹری کی عاجز(Insulating layer) کو نقصان پہچاتی ہے جس وجہ سے شارٹ سرکٹ اور بیٹری  میں آگ لگنے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔

اسکے علاوہ لیتھیم ان  عناصر میں شامل ہے جن کی دستیابی اگلے 100 سال بعد زمین پر انتہائی ناپید ہو چکی ہوو گی۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے ادارے  مروجہ لیتھیم آئن  بیٹری ٹیکنالوجی کو پختہ کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: منٹوں میں چارچ ہونے والی موبائل بیٹر


اسی تناظر میں ماہرین اس نئی سالڈ اسٹیٹ بیٹری  کو ایک اہم پیش رفت قراردے رہے ہیں۔بیٹری کی موجد انجنئیرنگ ٹیم کے مطابق سالڈ اسٹیٹ  بیٹری  میں  چارج ذخیرہ کرنے کی صلاحیت لیتھیم آئن بیڑی سے تین گناہ ذیادہ ہو گی۔جس وجہ سے مستقبل میں مزید پتلےاور ذیادہ دیرپا بیٹری لائف والے موبائل تیار کیے جائیں سکیں گے۔اس کے علاوہ  الیکٹرک گاڑیاں  بھی انکی  بدولت  ایک مکمل چارجنگ کے بعد ذیادہ فاصلہ طے کر سکیں گی۔

عام استعمال بیٹریوں میں مائع لیتھیم آئن استعمال کیا جاتا ہے جو کہ مثبت اور منفی بروقیروں کے درمیان برقی آئن کی ترسیل کرتا ہے۔اس کے برعکس سالڈ اسٹیٹ  بیٹری میں  گلاس الکٹرو لائٹ استعمال کیے  گئے ہیں جس وجہ  سے ان میں لیتھیم کے علاوہ کسی  بھی الکی دھات (پوٹاشیم،کیلشیم وغیرہ)  کو مثبت برقیرے کے طور پر استعمال کی جا سکے گی ۔کیونکہ باقی الکی گروپ کی دھاتیں لیتھیم کی نسبت سستی ہیں اس لئے یہ بیٹریاں کم قیمت بھی ہو ں گی۔

آج موبائل ، لیپ ٹاپ اور الیکٹرک کاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے بیٹریوں کی مانگ بھی اپنے عروج پر ہے۔اس لئے بہت سے ادارے نئی  پیشرفت کے دعوے ماضی میں بھی کرتے رہے ہیں مگر دعوں کے برعکس کوئی متبادل  پروڈکت متعارف نہیں کرا سکے۔اس لئے دیکھنا یہ ہےکہ سالڈ اسٹیٹ بیڑی لیتھیم آئن کی اجارہ داری کو چیلنج کر سکے گی یہ پھر ایک دعویٰ تک ہی رہے گی۔

اسپیس ایکس کرائے گی چاند کا سیاحتی دورہ

ہائی سکول کی درسی کتاب میں ابن انشاء کے سفر نامے 'چلتے ہو تو چین کو چلیے ' میں سے ایک اقتباس پڑھا تو  دل میں  چین کی سیاحت کی خواہش پیدا ہو گئی تھی۔ لیکن اب نیا دور ہے اور اس کے تقاضے بھی نئے ہیں۔  یہ چین سے بھی  آگے جانے کا زمانہ ہے بلکہ  اب انسان دوبارہ چاند پر کمند ڈالنے کا سوچ رہا ہے۔

اس تمہید کی وجہ امریکی کمپنی اسپیس ایکس کا  اعلان  ہے کہ وہ دو 'عام شہریوں' کو اگلے سال چاند کی سیاحت کے لئے لے کر جائے گی۔ یعنی اب آپ نے کسی نئی جگہ جانا ہی ہے تو چاند کی سیاحت کیلئے جانے کا سوچیں۔
اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک
 
خاص بات یہ ہے کہ اس مشن میں دو مسافر جن کا ابھی تک نام ظاہر نہیں کیا گیا، کسی بھی طرح کے خلا باز یا سائنسدان  نہیں ہیں۔یہ  ایک نجی سیاحتی سفر میں چاند کے گرد چکر پورا کریں گے۔ اس سفر  کا پہلا حصہ زمین سےخلاء اور پھر وہاں سے اصل ایڈونچر ایک خاص سواری بردارڈریگن کیپسول کے ذریعے چاند کی گرد چکرکی صورت میں مکمل ہو گا۔دوران سفر یہ سیاح چاند پر اتریں گے نہیں، بلکہ اس کے ثقلی میدان میں گردش کے دوران  چاند کو قریب سے دیکھنے کا لطف حاصل کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:مریخ پر اکیلے بے یارو مدد گار خلا نورد کی داستان


اگر سب کچھ توقعات کے مطابق رہا تو اگلے سال کے آخری دنوں میں یہ خلائی سیاح کینیڈی خلائی سٹیشن سے اپنے سفر پر روانہ ہونگے۔یہ وہی تاریخی سٹیشن ہے جہاں سے اپالو مشن کے زریعے ناسا نے چاند کو تسخیر کیا تھا۔اس مشن کے لانچ کیلئے فالکن راکٹ استعال کیا جائے گا جو کہ اسپیس ایکس کا اپنا تیار کردہ ہے۔ چاند تک چلنے کا یہ سفر ایک ہفتے پر محیط ہو گا اور اس دوران خلائی جہاز تین سے چار لاکھ میل کا فاصلہ طے کرے گا۔

اس سفر کے درست اخراجات ابھی ظاہر نہیں کیے گئے مگر اندازہ ہے کہ اس سفر کیلئے ایک انسانی بردار خلائی مشن جتنا خرچ آئے گا۔موازنے کیلئے بتاتے چلیں کہ روسی سویز کیپسول کے ذریعے ایک خلاء باز کو خلا میں لے جانے کیلئے ناسا کو 8 کروڑ ڈالر خرچ کرنے پڑھتے ہیں۔

اس مشن کے متعلق کمپنی کے مالک ایلون مسک بہت پرجوش ہیں ۔ایلون نے خلائی سفرمیں حکومتی اجارہ داری کوختم کرنے اور خلائی تسخیر  عام انسانوں کی دسترس میں لانے کیلئے ہی اس کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔
اس موقع پر ایلون کا کہنا تھا کہ 'ہمارے یہ کلائنٹ اس بات کا مکمل ادراک رکھتے ہیں کہ چاند تک کا خلائی سفر خطروں سے بھرپور ہو گا۔مگر ہماری پوری کوشش اس بات پر مرکوز رہے گی کہ اتنے بڑھے خلائی سفر کیلئے ممکنہ خطراک کو کم سے کم کیا جائے۔

ان کے مطابق اور بھی بہت سے افراد نے خلائی سفرمیں دلچسبی کا اظہار کیا ہے۔اس مشن کی کامیابی کی صورت میں اسے کو وسعت دے جائے گی،جس سے نہ صرف کمپنی کو مالی فائدہ حاصل ہو گا ، بلکہ انسان کی خلائی دسترس کا ایک نیا باب بھی شروع ہو گا۔

گوگل سیلف ڈرائیونگ کار اب سڑکوں پر آمد کے مزید قریب

ایک عرصہ سے سیلف ڈرائیونگ کاروں کی تیاری اور اس میدان میں مختلف کمپنیوں کی طرف سے ہونے والی پیش رفت خبروں کا حصہ ہے۔ لیکن سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کی سڑکوں پرآمد اور کمرشل دسیتابی کے حوالے سے 'گوگل کار' باقی حریفوں پر بازی لے گئی ہے۔سٹرکوں اور ہائی ویز کے لئے اصول ضوابط تیار کرنے والے امریکی ادراے"بیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی انڈمنسٹریشن" نے گوگل کار کو انسانی ڈرائیور کے ہم پلہ قرار دینے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔اس طرح  گوگل کی بغیر سٹیرنگ وییل اور بریک و سپیڈ پیڈل  سے عاری گوگل کار  کی سڑکوں پر آمد کی راہ ہموار ہو گی۔
گوگل سیلف ڈرائیونگ کار،جس میں سٹیرنگ وہیل اور بریک اور سپیڈ پیڈل موجود نہیں۔

اس سے پہلےقانون کے مطابق کوئی بھی کار بغیر"انسانی  ڈرائیور "کے کسی بھی ہائے وے یا سڑک پرچلنے کی اہل نہیں تھی، مگر امریکی ادارے کےسربراہ کا کہنا ہے کہ  ٹیکنالوجی  میں تیز رفتار اضافے کی وجہ سے اب صورتحال پہلےسے بہت مختلف  ہو چکی ہے۔ اسی لئے ہم مروجہ  قوانین اور معیارات  میں اضافہ و تبدیلیاں کرنے جا رہے ہیں۔ 

مزید پڑھیں:آڈی کی نئی کار 900 کلومیٹر کاسفر بغیر ڈرائیور کےکرنے کو تیار


انکا  مزید کہنا تھا کہ "اگر کسی کار کو ڈرائیو کرنے کیلئے انسانی ڈرائیور کے متبادل کوئی سسٹم نصب ہو تو ہم اسی خودکار سسٹم کو کار کا قانونی ڈرائیور قرار دیں گے۔کیونکہ گاڑی کی باگ دوڑ اس  میں موجود سواری کی بجائے  خود کار سسٹم کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔"

سیلف ڈرائیونگ کاروں کیلئے مثبت پیش رفت

اس پیش رفت کے بعد گوگل اپنی  سیلف ڈرائیونگ کار جس میں روایتی گاڑیوں کے برعکس کوئی بھی سٹیرنگ یابریکنگ و سپیڈ پیڈل نصب نہیں  کو شاہراوں پر لانے سے ایک قدم مزید قریب ہو گیا ہے۔ان تمام قانونی تبدیلیوں کے بعد گوگل کار امریکہ میں رائج وفاقی موٹر گاڑی کے حفاظتی معیارات (Federal Motor Vehicle Safety Standards) کے ٹیسٹ میں شامل ہونے کی اہل ہو جائے گی اور ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد گوگل کار امریکہ بھر کی سڑکوں پر چلنے کیلئے قانونی طور پر منظوری حاصل کر سکے گی۔

یاد رہے کہ دنیا بھر میں بہت سے اداروں کی جانب سے سیلف ڈرائیونگ کاروں کی تیاری  کی کوششیں ایک عرصہ سے جاری ہیں ، اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے  جنوری 2016 میں سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کی  سڑکوں پر آمد کے حوالے سے اصول و ضوابط اور حفاظتی معیارات وضع  کرنے کیلئے امریکی حکومت نے 4 ارب ڈالرکی خطیررقم مختص کی تھی۔

 تنقید

بہت سے ناقدین نے سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کو قانونی طور پر ڈرائیونگ کے قابل قرار دینے کیلئے جاری پیش رفت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے ایک کیلیفورنیا میں موجو دڈیپارٹمنٹ آف موٹر وئیکلز کے سربراہ بھی شامل ہیں جن کا ماننا ہے کہ "ہر کار میں ایک انسانی ڈرائیور ہر صورت میں موجود ہوتا چاہیے۔"  انکے ردعمل میں  گوگل کا کہنا ہے کہ اس طرح کابیان سیلف ڈرائیونگ گاڑویوں کی قانون سازی  کیلئے پہلے سے ہی مبہم اور غیر واضح  صورتحال کو پیچیدہ کرنے کا باعث بنے گا۔

مزید پڑھیں:نیویارک انٹرنیشنل آٹو شو 2015

نئے کمپیوٹر پروسیسر صرف ونڈوز 10 کو سپورٹ کریں گے: مائیکروسافٹ

اگست 2015 میں ونڈوز 10 کی رونمائی کی بعد مائیکروسافٹ کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سے ذیادہ سے ذیادہ صارفین کو ونڈوز 10 کے پلیٹ فارم تک لایا جائے۔خبر یہ ہے کہ ا س مہم  میں مائیکروسافٹ  نے اب اپنےساتھ سی پی یو مینوفیکچررز کو بھی شامل کر لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ انٹل ،اے ایم ڈی اور کوالقام جیسے اداروں کے تیار کردہ نئے سی پی یو صرف اور صرف ونڈوز 10 کے ساتھ ہی مکمل مطابقت رکھیں گے۔اس وجہ سے  نئے کمپیوٹرز پر ونڈوز10 ذیادہ بہتر اندازاور برق رفتاری سے کام کر سکے گی مگرونڈوز  کے پرانے ورژن  مثلاً ونڈوز7 اور ونڈوز 8سہولت سے نہیں چل سکیں گے۔
 
ونڈوز10 کا سکرین شاٹ
مائیکروسافٹ کی نڈوز 10 کی ریلیز سے ہی  کوشش تھی کہ جلد از جلد ذیادہ سے ذیادہ کمپیوٹرصارفین ونڈوز 10 پر منتقل ہو جائیں۔ اسی لئے مائیکروسافٹ نے تاریخ میں پہلی دفعہ صارفین کو آفر دی کہ وہ مفت اور بلا معاوضہ  اپنے  کمپیو ٹر کو  ونڈوز 10 پراپگریڈ کر سکتے ہیں۔یوں بہت سے صارفین نے اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے آپریٹنگ سسٹم پر منتقل بھی ہوئے لیکن شاید  مائیکروسافٹ ابھی بھی ونڈوز 10 کے صارفین کی تعداد سے مطمئن نہیں ہے۔اس لئے ساتھ کچھ ماہ پہلے مائیکروسافٹ  نےتاحال  ونڈوز 8 اور 7 استعمال  کرنے والے صارفین کو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے خبردار کیا کہ وہ جلد از جلد  ونڈوز 10 پر منقتل ہو جائیں یا پھر  تاخیر کی صورت میں وہ کبھی نئے آپریٹنگ سسٹم پر منتقل نہیں ہو سکیں گے۔

مزید پڑھیے:پہلا مائیکروسافٹ فون

 اب  مائیکروسافٹ کے اس اعلان کے بعد وہ  پرسنل کمیپوٹرز  جن پر ونڈوز 8 یا 7 نصب ہو گی ان کو 2017 میں یہ پیغام بھیجا جائے گا کہ "آپ کا کمپیوٹر صرف انتہائی سنگین سیکورٹی خدشات  سے روک تھام کیلئے اپڈیٹ حاصل کر ے گا۔" مگریہ نئی حکمت علمی مائیکروسافٹ کی پالیسی کےخلاف ہے جس میں کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ونڈوز 7 کی سپورٹ 2020 جبکہ ونڈوز 8 کی سپورٹ 2020 تک جاری رکھی گی۔یہ تمام  پیش رفت اس بات   کا ثبوت ہے کہ کمپنی اپنے پرانے آپریٹنگ سسٹم کو نظرانداز کر کے اپنی توجہ صرف ونڈوز 10 پرمرکوز کرنا چاہتی ہے۔ 

تنقید:

مائیکروسافٹ جس طرح سے جارحانہ پایسی کے زریعے اپنے صارفین کو ونڈوز 10 پر منقتل کرنا چاہ رہی ہے اس سے وہ مسلسل تنقید کی زد میں ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے صارفین کی ایک بڑی تعداد ونڈوز کےمتبادل سسٹمز لینکس اور ایپل میک پر منقتل ہو جائے گی جو کہ کمپنی کیلئے سود مند نہیں کیونکہ پہلے ہی اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے پرسنل کمپیوٹرز کی فروخت مسلسل گراوٹ کا شکار ہے  ۔کم کمپیوٹرفروخت ہونے کی وجہ  سے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے صارفین بھی کم ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیے:ونڈوز 10کی تنصیب اور پہلا تاثر 

 


ایپل اسمارٹ واچ ،صارف کا پہلا انتحاب

ایپل نے 2007ء میں اسمارٹ فون کے میدان میں پہلی دفعہ قدم رکھا اور آتے ہی اس نے تمام صارفین کو اپنا گرویدہ کر لیا،آٹھ سا ل بعد آج  بھی ایپل آئی فون 6ایس سب سے ذیادہ فروخت ہونے والے  موبائل فونوں میں سے ایک  ہے۔بالکل یہی صورتحال اب ذہین گھڑیوں کی مارکیٹ کی بھی ہے، ایپل نے اپرئل 2015 میں  ایپل واچ فروخت کیلئے پیش کی ا ور یہ بھی توقعات کی عین مطابق سال میں سب سے ذیادہ فروخت ہونی والی اسمارٹ گھڑی بن گئی۔

ایک جاپانی تحقیقی ادارے کی مطابق 2015 میں فروخت ہونے والی اسمارٹ گھڑیوں میں ایپل واچ کا حصہ 52 فیصد تھا۔یعنی  سیمسنگ ، ایل جی ، مٹرولا اور ہواؤے جیسی باقی تمام  اداروں کی اسمارٹ گھڑیاں ملکر بھی ایپل واچ کا مقابلہ نہیں کر سکیں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق  گذشتہ سال گوگل کے آپریٹنگ سسٹم اینڈرائد وئیر (Android Wear) پر مشتمل گھڑیوں کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوا اور انکی مانگ میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی۔
ایپل واچ

نومبر 2015 میں سیمسنگ نے اپنے تیار کردہ آپریٹنگ سسٹم ٹائزن (Tizen) سے لیس گھڑی گلیسی گئیر ایس 2 بھی پیش کی جو خاطر خواہ پزیرائی نہ حاصل کر سکی۔چونکہ یہ ادارے کوئی مظبوط حریف پروڈکٹ نہیں کر سکے اس لئے چھوٹی اور غیر معروف کمپنیوں کی سستی اسمارٹ گھٹریوں کی فروخت میں بھی قابل قدر اضافہ دیکھنے میں آتا۔یہ گھڑیاں کم قیمت ہونے کے باوجود ایک اسمارٹ واچ کے بنیادی فعل مثلاً نوٹیفیکیشن الرٹ اور فٹنس ٹریکنگ مہیا کرتی ہیں جب کہ بڑے ناموں کی مصنوعات  مہنگی بھی ہیں اور اپنی قیمت کے مطابق صارفین کیلئے پرکشش اضافی فیچر ز سے بھی محروم ہیں۔

مزید پڑھیے: ایپل بمقابلہ سیمسنگ اور نوکیا و مٹرولا کی فروخت


تجزیہ کاروں کےمطابق اگرچہ اسمارٹ واچ اور دوسے پہننے کے قابل آلات(وئیرایبل) فی الحال عالمی  مارکیٹ میں مستحکم جگہ نہیں بنا سکے اسی وجہ سے آئندہ برس میں بھی اسمارٹ گھڑیوں کی فروخت میں ڈرامائی اضافے کا امکان نہیں،کیونکہ ان مصنوعات کے تیار کنندگان کے پاس گھڑیوں کے ڈیزائن میں تبدیلی کے علاوہ ان کی افادیت و صلاحیت(Functionality) میں نمایاں اضافے کا امکان نہیں ہے۔

اس صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ اپرئل 2016 میں پیش کیا جانے والا ایپل واچ کا اگلاورژن  کتنا بہتر ہو گا اور صارفین میں مقبولیت برقرار رکھ پائے گا کہ نہیں۔

مزید پڑھیے:  سمارٹ فون:ماضی ،حال اور مستقبل 


وائی فائی سے سو گناہ تیز رفتار لائی فائی ٹیکنالوجی کی آمد

حال ہی میں ایک کمپنی نے ریڈیو موجوں کے بجائے روشنی کے زریعے انٹرنیٹ ڈیٹا کی ترسیل کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے ، جس میں ایک روایتی وائی فائی راؤٹر کا کام (یعنی انٹرنیٹ سگنلز کی براڈکاسٹ )کیلئے  ایک ایل ای ڈی بلب کو استعمال کیا گیا۔یوں یہ ایل ای ڈی بلب روشنی کے ساتھ ڈیٹا کی  منتقلی کا اضافی کام بھی کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس طریقے میں ڈیٹا کی منتقلی لائٹ  کے زریعے ہوتی ہے اس لئے  ٹیکنالوجی کو لائی فائی کا نام دیا گیا ہے۔


یہ ٹیکنالوجی یورپی ملک ایسٹونیا میں موجود ایک کمپنی ویلمنی (Velmenni) نے اپنی آفس میں متعارف کرائی ہے۔ اگرچہ ویلمنی کے دفتر میں لائی فائی کے زریعے ڈیٹا کی منتقلی کی رفتار 1 گیگا بٹس فی سیکنڈ تھی لیکن لیبارٹری ٹیسٹوں میں لائی فائی کے زریعے 224 گیگا بٹس فی سیکنڈ کی انتہائی رفتار کامیابی سے حاصل کی جا چکی ہے جو کہ وائی فائی کی بہ نسبت 100 گناہ ذیادہ تیز ہے۔

اس طریقہ کار میں ایک روشنی کا منبع( Source)  مثلاً ایل ای ڈی بلب ،انٹرنیٹ ڈیٹا کنکشن اور ایک فوٹو ڈیکٹر درکار ہوتا ہے۔یہ تمام اجزاء آجکل مارکیٹ میں بہ آسانی دستیاب ہیں۔ اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ جلد ہی یہ ٹیکنالوجی صارفین کیلئے دستیاب ہو گی۔

لائی فائی کا آئیڈیاایڈنبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر ہیرالڈ ہاس نے 2011 میں منعقدہ TED کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ اسی کانفرنس میں جہاں انھوں نے ایک ایل ای ڈی بلب کے زریعے ڈیٹا کی ترسیل کی آئیڈیا پیش کیا وہیں پروفیسر اور ان کی ٹیم نے ایک قدم آگے جاتے ہوئے ایک ایل ای ڈی  بلب کے زریعے  وڈیو اسٹیمرنگ کا عملی نمونہ  بھی پیش کیا  ۔ اس موقع پر پروفیسر ہیرالڈ کا کنہا تھا  کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کروڑوں ایل ای ڈی بلبوں کو لائی فائی راؤٹروں میں بدل دے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

فوائد:

لائی فائی کو روایتی وائی فائی ٹیکنالوجی  کی نسبت مندرجہ ذیل فوائد دے گی۔

1۔ یہ روایتی وائی فائی راؤٹرز کی نسبت بہت ذیادہ تیز رفتار ہے، اور اس کے لیے درکا ر خام مال بھی بہ آسانی دستیاب ہیں۔

2۔ کچھ خاص  ماحولوں مثلاً  ہوی انڈسٹری اور ہوائی جہازوں  میں وائی فائی سگنل  برقی شور  (Electrical Noise) کی وجہ سے کارگر نہیں رہتے۔ اس لئے صنعتوں اور ہوائی جہازوں میں لائی فائی سے انٹرنیٹ سے منسلک ہونا آسان ہو گا کیونکہ روشنی برق مقناطیسی شور سے متاثر نہیں ہوتی۔

3۔ ریڈیو بینڈاب  انتہائی گنجان ہو چکے ہیں اور بہت مہنگے بھی ہیں۔ جبکہ مرئی  روشنی میں موجود تمام تر ریڈیو  بینڈ ابھی تک استعمال میں نہیں لایا گیا اور مفت دستیاب ہے۔

نقصانات:

1۔ دن کی روشنی میں لائی فائی راؤٹرز کا استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دن کے وقت سورج کی روشنی کی وجہ سے ایل ای ڈی کی روشنی بالکل  کارگر نہیں رہتی۔

2۔ کیونکہ مرئی روشنی دیوار کے آر پار نہیں جا سکتی اس لئے ایل ای ڈی بلب سے براڈ اکاسٹ ہونے والا ڈیٹا بھی ایک ہی کمرے تک محدود رہے گا۔اگر آپ انٹرنیٹ کو ایک ہی کمرے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے پھر اس صورت میں لائی فائی آپ کے لئے موزوں نہیں۔

ممکنہ استعمالات:

اوپر بیان کردہ  لائی فائی کے مضبوط پہلوؤں اور کمزوریوں کی روشنی میں ہم اتنا کہہ سکتے ہیں  مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ہسپتالوں، ہوائی جہازوں اور دیگر کاروباری اداروں میں  اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔