Showing posts with label سائنس. Show all posts
Showing posts with label سائنس. Show all posts

فزکس کی تعریف


علم طبعیات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ انسانیت کیلئے سب سے اہم اور سب سے فائدہ مند ترین علوم میں سے ایک ہے۔طبعیات میں ہونے والی پیش رفت کی بدولت ہی جدید طرز زندگی کی آسائشیں ممکن ہو سکی ہیں۔
یہ نفع بخش ہونے کے ساتھ سائنس کی وسیع ترین(یوں تو سائنس کی سبھی شاخیں وسیع ہیں۔) میں سے ایک ہے جسکا دائرہ کار ہمارے گرد ماحول میں موجود اشیاء سے لیکر پوری کائنات اور ان میں موجود تمام تر اجسام  تک پھیلا ہوا ہے۔
یعنی آپ کے گرد موجود ہوا، قدموں میں بچھی زمین،سورج و چاند تاروں سے پھوٹتی کرنوں  ،کانوں سے ٹکراتی آواز کے علاوہ  آپ کو د کھائی دینے والی تمام تر اشیاء  و مظاہر فطرت کے مطالعے کو طبعیات /فزکس ہی کہتے ہیں۔
اب  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا علم جو کہ اس قدر وسیع ہو اس ایک جملے میں بیان کرنا ممکن ہے۔۔۔؟ اور اگر ہم فزکس کی ایک جملے پر مشتمل تعریف کرنا ہو تو دریا کو کوزے میں کیسے بند کیا جائے؟ تو  ساتھ رہیے گا آج یہ کر کے دیکھتے ہیں۔

مادہ

طبیعات کے مطالعے میں ہمارا واسطہ سب سے پہلے لفظ مادے سے پڑھتا ہے۔
"ہر وہ چیز جسکی کمیت اور حجم ہو، مادہ کہلاتی ہے۔" یعنی کمیت ( mass ) رکھنے والی تمام اشیاء  جو کوئی جگہ گھیریں مادہ کہلاتی ہیں۔یہ تعریف سائنس کی ابتدائی جماعتوں سے ہی بچوں کو پڑھا دی جاتی ہے۔ مادے کو ہم اسکی ساخت کی بنیا د پر ٹھوس ، مائع اور گیس میں تقسیم کر سکتے ہیں۔مثلاً برف ٹھوس ہوتے ہے اور اسکی شکل اور حجم بدلتے نہیں۔
پانی مائع حالت میں ہوتا ہے اور تمام مائعات بہنے (flow) کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لئے انکا حجم تو یکساں رہتا ہے مگر شکل برتن کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔
مائع پانی کا ایک قطرہ۔ فوٹؤ بشکریہ : Unsplash
گیس مادہ کی تیسری شکل ہے جو کہ بہنے کے ساتھ کوئی مخصوص حجم بھی نہیں رکھتی  ہیں۔اس لئے  دباؤ کے زریعے گیسوں کا حجم تبدیل کیا جا سکتا ہے۔بھاپ اور ہمارے گرد پھیلی ہوا گیس کی شکل میں  ہیں۔
انکے علاوہ مادہ کی ایک چوتھی حالت بھی ہے جس میں ذیلی ایٹمی ذرات ایک ملغوبے یا mixture  کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔زمین پر پلازمہ خال خال اور کم جگہوں پر ملتا ہےلیکن کائنات میں موجود کھربوں ستاروں میں موجود گیسیں پلازمہ حالت ہی میں موجود ہیں یوں زمین پر ماد ے کی انتہائی کمیات شکل کائناتی طور پر سب سے ذیادہ پائے جانے والی حالت ہے۔

توانائی

طبعیات میں مادے کے بعد ہمارا واسطہ دوسری سب سے ذیادہ زیر مطالعہ چیز توانائی ہے ۔یہاں شایدکچھ لوگوں کے ذہن میں حرکت کا نام آیا ہو گا کیونکہ تمام تر نصابی کتب میں دوسرا باب حرکت کے متعلق ہی ہوتا ہےمگر درحقیقت حرکت توانائی ہی ایک شکل ہے جس کو ہم میکانکی توانائی (Kinetic Energy)کہتے ہیں۔
" کسی مادے چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے  یا ایسا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی چیز کو ہم  توانائی کہتے ہیں۔"
مادہ کی طرح توانائی بھی بہت ہی مختلف شکلوں میں ہمارے گرد موجود ہے۔ہر متحرک جسم میں میکانکی توانائی موجود ہوتی ہے۔اس کے علاوہ مخفی توانائی، روشنی ،آواز،بجلی اور حرارت سبھی توانائی کی ہی صورتیں ہیں۔

مادہ اور توانائی

ابھی تک ہم ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ سمجھ چکے ہیں ؛ لیکن ہمارے کائنات میں بظاہر مختلف نظر آنی والی یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے گہرا رشتہ رکھتی ہیں۔مادہ اور توانائی کا یہ تعلق سمجھنے کیلئے ہمیں ایک تیسری طبعی مقدار کو بھی سمجھنا ہو گا۔
مادے کی  خصوصیات میں سے ایک  میدان ِ قوت (force fields)کا پیدا کرنا بھی ہے۔ مثلاً مادے کی ایک بنیادی خاصیت کشش ثقل کی ہے جس کی وجہ سے  مادی چیز دوسری مادی اشیاء کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مادے کی مقدار اور اشیاء کے درمیان فاصلہ جتنا کم ہو گا اتنی ہے یہ کشش بھی زیادہ ہو گی۔یہی وہ کشش ہے جسکی وجہ سے مشہور زمانہ سیب نیوٹن کے "سر" پر گرا اور اس نے قوت کشش کا قانون دریافت کیا تھا۔
اسی طرح مادہ برقی اور مقناطیسی خصوصیات بھی رکھتا ہے جس کی وجہ سے چارج شدہ یا مقناطیسی میدان دوسرے چارج شدہ اجسام پر قوت لگا سکتے ہیں۔ جب بھی کسی جسم پر قوت اثر کرے گی تو اس میں حرکت پیدا ہو گی۔ اور اگر آپ کو پہلا پیراگراف یاد ہو تو حرکت توانائی ہی کی قسم ہے  یعنی مادہ سے میدان قوت پیدا ہوئی اور اسی میدان کی وجہ سے مادہ اشیاء میں توانائی پیدا ہو گئی ۔اس مختصر تعارف سے جان لیجئے کہ مادے کی وجہ سے توانائی  پیدا کی جا سکتی ہے۔
اب اسکا الٹ بھی درست  ہے یعنی کہ توانائی کو بھی مادے میں بدلا جا سکتا ہے۔اگر انتہائی ذیادہ توانائی والی برقناطیسی شعاعیں( جن کو گیما ریز کہا جاتا ہے ۔) کسی  ایٹمی نیوکلئس سے عین وسط میں ٹکرائیں تو نتیجے میں  الیکڑان اور پازیٹران کا ایک جوڑا پیدا ہوتا ہے۔ اب گیما شعاع جو کہ توانائی کی  ہی ایک شکل تھی اس سے مادی ذرے  الیکڑان /پازیٹران کا جوڑا پیدا ہو گیا ۔یعنی ہم نے توانائی کو مادے میں تبدیل کر دیا ہے۔اسی تعلق کو  آئن سٹائن نے ایک ریاضیاتی فارمولے میں سمویا ہے جس کو ہم فزکس کی سب سے مشہور مساوات  بھی کہتے ہیں۔

ایک جملے کی تعریف

اگر آپ یہاں تک آ گئے ہیں تو اب ہم فزکس کی ایک جملے پر آسانی سے سمجھ میں آ جانے والی تعریف کر سکتے ہیں جو کہ کچھ یوں ہو گی :
"فزکس ایک کائناتی علم ہے جس میں ہم مادہ اور توانائی کے مطالعے کے ساتھ ان کے باہمی تعلق کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔"

فلم ہٹ ہو گی یا فلاپ۔۔ پیش گوئی کرے گی مصنوہی ذہانت

فوکس سٹوڈیو نے مصنوہی ذہانت سے لیس ایسا سافٹ وئیر تیار کیا ہے جو کہ فلم کے ٹریلر سے اندازہ لگائےکا کہ فلم ہٹ ہو گی کہ فلاپ۔۔؟ امریکہ میں فلم انڈسٹری ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہےاور ہالی وڈ کی فلمیں دنیا بھر سے پیسے کماتی ہیں۔لیکن فلم انڈسٹری کیلئے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک  سال میں فلاپ ہونے والی فلموں کی تعداد ہٹ فلموں سے کہیں ذیادہ ہوتی ہے۔چنانچہ  فلم اسٹوڈیو مسلسل ایسی ٹیکنالوجی کی تلاش میں ہیں جو کہ فلم ریلیز سے پہلی پیش گوئی کر سکے کہ فلم صارفین میں مقبول ہو سکے گی کہ نہیں۔۔۔؟
اس سلسلے میں سینکڑوں ماڈل اور طریقہ کار وضع کیے جا چکے ہیں مگر اس میں سے کوئی بھی متواتر  قابل بھروسہ پیش گوئی  نہیں کر سکا ہے۔اسی لئے اب اس میدان میں مصنوہی ذہانت کو آزمایا جا رہا ہےجو کہ اےآئی (Artificial Intelligence )کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔

اس سلسلے میں فاکس سٹوڈیو کا بنایا گیا سسٹم پہلے سے ریلیزکیے گئے ہزاروں فلم ٹریلرز اور فلم ٹکٹ خریدنے والے شائقین کا آپس میں ڈیپ لرننگ کے زریعے  نیورل لنک بنائے گا۔یہ لنک فلم ٹریلر میں موجود بصری عناصر(Visual Elements)  کوفلم دیکھنے والے شائقین کی عمر، سکونت اور صنف کا آپس میں موازنہ کر نے کے بعد اپنا ڈیٹابیس تشکیل دے گا۔کسی بھی نئے ٹریلر کو دیکھنےکے بعد یہ  سافٹ وئیر اپنے ڈیٹابیس کو استعمال کرتے ہوئے یہ پیش گوئی کر سکے گا کہ نئی فلم کو دیکھنے والوں کی عمر،سکونت یا جنس کیا ہو گی۔جس سے اسٹوڈیو انتظامیہ فلم بجٹ کے علاوہ ریلیز کیلئے اسکرینوں کی تعداد کا درست تعین کر سکی گی۔

علاوہ ازین اسی ٹیکنالوجی کےزریعے نئی فلموں کا ٹریلر ڈیزائن کرنے میں مدد بھی حاصل کی جا سکے گی۔سافٹ وئیر رزلٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسا ٹریلر بنایا جائے گا جو کہ ذیادہ سے ذیادہ فلم شائقین کو متوجہ کر سکے۔
فاکس اسٹوڈیو کو امید ہے کہ جس طرح زندگی کے دیگر شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کا کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے کوئی بعید نہیں کہ سنیما انڈسٹری بھی مصنوہی ذہانت کی طاقت سے فائدہ حاصل کرسکے گی۔

الکیمی اور ہر دھات کو سونا بنانےکا جنون

ارسطو کے زمانے ہی میں مقدونیہ  کے مشہور فاتح سکندر اعظم نے فارس(ایران)کی عظیم سلطنت کو فتح کر لیاتھا ۔ اپنی فوجی مہم جوئی کے دوران یہ عظیم فاتح ہندوستان میں بھی داخل ہوا تھا ۔کہا یہ جاتا ہے کہ  ہندوستان میں کسی سپائی کہ زہر میں بجھے تیر سے سکندراعظم زخمی ہوا اور بعد ازاں اسی زخم کی وجہ سے اس کی وفات ہوئی۔ 323 قبل مسیح میں اس کی وفات کے بعد ہی سکندر کی فتح کردہ سلطنت ٹکڑوں میں بٹ گئی۔البتہ اس کے باوجود  اہل یونان وسطی ایشیاء کے بڑے حصوں پر حکمران رہے۔سکندر اعظم کی لشکر کشی جہاں جنگ و جدل کا بازار گرم رہا  وہیں  ایرانی ،ہندی،مصری  اور یونان جیسی مختلف تہذیبوں کا آپس میں ملاپ  ممکن ہو سکا۔

پچھلی قسط: ایٹم کا ابتدائی تصور

سکندر اعظم کے جرنیلوں میں سے ایک بطلیموس ( Ptolemy)نے مصر کی حکمرانی حاصل کی اور سکندر اعظم کے نام پر ایک نیا شہر سکندریہ  تعمیر کیا اور اسکو  ملک کا دارلحکومت بنایا۔اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے یہاں ایک تحقیق و تعلیم کا  ایک عظیم و الشان ادارہ قائم کیا جسے ہم آجکل کی  یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی مانند قرار دے سکتے ہیں۔اسی سے متصل قدیم دور کی سب سے بڑی لائبریری بھی تعمیر کی گئی  ،جہاں اہل علم کے لئے لاکھوں  کتب کاذخیرہ موجود تھا۔

اسکندریا اور الکیمیاء

اسکندریہ   میں  یونانیوں  کی نظریاتی  اور اہل مصر کی کیمیاء میں عملی  و فنی مہارت کو  آپس مدغم ہونے کاموقع ملا۔اہل مصرعملی طور پر بہت سے کیمیائی طریقوں سے واقف تھے  گو کہ انکا علم اور مہارتیں مذہبی پیشواؤں اور بادشاہوں کے  مردوں حنوط کرنے اور مذہبی رسومات کی ادائیگی تک  محدود تھا۔ ان کے عقیدوں کے مطابق یہ سارا علم دیوتاؤں کی نوازشوں کا نتیجہ تھا۔مصریوں کی  مہارتوں کو دیکھ کر  اہل یونان انکی  علمی و فنی برتری سے مرغوب ہوئےاورانکے دیوتاؤں سے منسوب داستانوں  اور ان سے جڑی  خصوصیات کو یونانی  متھالوجی میں موجود دیوتا ہرمس سے ملتا جلتا پا کر  ان عقیدوں  کو بھی اپنے  ساتھ جمع کر لیا۔یوں ااسکندریہ میں ان دو تہذیبوں کے ملاپ سے علم کیمیاء میں اضافہ و ترقی دیکھنے میں آئی۔
چونکہ علم کیمیاء پر مصری کے مذہبی پیشواؤں کی اجارہ داری تھی اس لئے عام لوگوں کے نزدیک یہ لوگ چونکہ  مختلف مادوں کی ہئیت تبدیل کرنے کے مخفی علم سے واقف تھے۔اسی وجہ سے انکی جادوگر ی اور خفیہ طاقتوں  کے کئی قصے مقبول کہانیوں کا حصہ بن گئے ۔ اپنی علمی برتری اور طاقتوں کے زعم میں یہ لوگ الکیمیاء کے علم کو خفیہ  اور پراسرار علامتوں  کی شکل میں محفوظ کرنے لگے جس سے کیمیاء  کوایک طاقتور اور پراسرار علم سمجھا جانے لگا۔
اس کے ساتھ دو نقصات ہوئے ایک تو اہل علم کے مابین معلمومات کا تبادلہ ختم ہوا اور دوسرا کوئی بھی شخص پراسراری کا لبادہ اوڑھ کر خود کو کیمیاء کاعالم کہلوا لیتا۔

سات سیارے سات دھاتیں 

الکیمی اور پراسرار خاکے
مثلاً اس وقت آسمان پر 7 سیاروں کی نشاندہی ہو چکی تھی اور انسان سات ہی دھاتوں (سونا، چاندی، تانبا،قلعی،لوہا سیسہ اور پارہ)سے واقف تھے۔ یوں سماوی اور ارضی اجسام میں تعلق پیدا کرنے کیلئے ہر سیارے کی نسبت ایک دھات کے ساتھ کر دی گئی۔ مثال کے طور پر سورج کو سونے، چاند کو چاندی اور تانبے کو زہرا  کے ساتھ ملایا گیا۔ یہ نسبتیں چونکہ مکمل طور خیالی تھیں اس لئے آج پراسرار علوم کی کتب کےسوا سائنس میں انکا استعمال مفتود ہو چکا ہے۔

الکیمی اور سونا

اسی دور میں ایک کیمیاء دان بلوس مندس نے اپنی ساری عمر ایک دھات کو دوسری دھات اور خاص کر سونے میں بدلنے کیلئے ساری عمر صرف کر دی۔چونکہ تب عام خیال یہ تھا کہ اگرچاروں عناصر ہوا،پانی ،آگ اورمٹی ایک سے دوسری شکل میں تبدیل ہو سکتے ہیں ؛پانی بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہوتا ہے پھر بارش کے دوران دوبارہ پانی بن جاتا ہے،لکڑ جلنے کےدوران آگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اور اگر سرخ پگھلی ہوئی کچ دھات سے لوہا بن سکتی ہے اور بالکل اسی طرح کسی بھی  دھات کو سونے میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یوں 100قبل از مسیح کے بعد علم کیمیاء میں کوئی بھی قابل ذکر پیش رفت نہ ہو سکی اور آنے والے کئی صدیوں تک  الکیمی کےماہرین دوسری دھاتوں کو سونا بنانے کیلئےبے سود تجربات کرتے رہے۔یہاں تک کہ یورپ تاریک دور سے گزرنے لگا ۔اس دور میں مسلمانوں نے اہل یونان کی کتب کا عربی میں تراجم کیے اور اسکے بعد یونانی نظریات، ریاضی،فلسفہ ،طب اور بالخصوص کیمیاء میں نیا اضافہ کیا۔(جاری ہے)

کیمیاء کی تاریخ پر گذشتہ تحاریریہاں ملاحضہ کریں۔