دھاتیں دریافت تا استعمال

پتھروں کےدور کے بعد انسان نے نسبتاً خام اشیاء کا استعمال سیکھنا شروع کیا۔لیکن اِن نئی اشیاء کی مفید خصوصیات جاننے کے لیے انسان کو مشکل اور کھٹن مراحل کے ساتھ سخت تحقیقی عمل سے گزرنا پڑا۔آج ہم ان نئی اشیاء کو دھاتوں (Metals)کے نام سے جانتے ہیں۔Metalsممکنہ پر یونانی زبان سے اخذ کردہ ہے ،جسکے معنی تلاش کے ہیں۔
پہلی دریافت ہونے والی دھاتیں جو کہ خام ڈھلوں کی صورت میں دریافت ہوئیں ، لازمی طور پر سونے یا تانبے کے ٹکڑے تھے۔کیونکہ یہ ان چند دھاتوں میں سے ہیں جو کبھی کبھار خالص حالت میں بھی مل جاتی ہیں۔سونے کا سنہرا اور تانبے کا سرخی مائل چمکدار  رنگ آنکھوں کو بہت جاذب اور بھلا لگا ہو گا،جو کہ بلا شبہ پتھروں کے  پھیکے رنگوں سے بہت بہتر تھا۔تاہم دھاتیں انسان کو جس بھی حالت میں ملیں، انکا استعما ل  پہلے پہل رنگدار قیمتی  پتھروں اور سیپ کے موتیوں کے ساتھ بطورِ زیور کیا گیاہو گا۔
دوسری خصوصیات کے ساتھ دھاتو ں میں ایک اضافی صفت یہ بھی تھی کہ دھاتیں لوچدار(Malleable)ہوتی ہیں یعنی کوٹنے پر یہ بغیر ٹوٹے، ہموار ہو جاتی ہیں۔جبکہ پتھر ،مٹی اور لکڑی وغیرہ  باریک ذروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔یہ خاصیت اتفاقا ً انسان کے علم میں آئی ہو گی۔ مگر اس جان لینے کے بعدانسان نے کوٹ کر دھاتوں کو پیچیدہ اور خوبصورت اشکال میں ڈھالنا شروع کر دیا۔
تانبے کا دور : 
تانبے پر کام کرنے والے کاریگروں کو جلد  ہی یہ مشاہدہ ہوا ہوگا کہ تانبے کو آسانی سے تیز دھار بنایا جا سکتا ہے؛ اور اسکی دھار ان مواقع پر بھی قائم رہتی ہے جہاں پتھروں کی نوک ٹوٹ جاتی ہے۔مزید یہ کہ کند ہونے کی صورت میں اسے آسانی سے دوبارہ تیز دھار بنایا جا سکتا ہے۔لیکن اس دور میں تانبے کی کمیابی ہی آلات و زیورات میں اسکے وسیع استعمال میں حائل تھی۔
تاہم یہ دریافت ہونے کے بعد کہ لازم نہیں تانبہ ہمیشہ خالص حالت میں ملے، اسے پتھروں(کچ دھات) سے بھی کشید کیا جا سکتا ہے؛ اسکی پیداوار بڑھنے لگی۔مگر یہ دریافت کہاں ، کب اور کیسے ہوئی ؟ اس حقیقت سے ہم ابھی تک ناواقف ہیں۔
لیکن اندازہ ہے کہ کسی ایسے جنگل میں جہاں نیلگوں چٹانیں ہوں۔ جب حادثاتی طور پر آگ لگنے سے درجہءحرارت بہت بڑھ گیا ہو گا ،تو پھروہاں نیلگوں کچ دھات سے تانبہ کشید ہوا ہو گا، اوریوں آگ کے بعد بچ جانے والی راکھ سے تانبے کی چمکدار گولیاں ملیں ہونگی۔لیکن ایسا بہت دفعہ ہونے  کے بعد ہی کسی کے ذہن میں آیا ہو گا کہ اگر موزوں نیلی چٹانیں جمع کر کےانھیں بہت ذیادہ گرم کیا جائے تو خالص تانبہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہ طریقہ 400قبل  ِ مسیح میں دریافت ہو گیا تھااوریہ دریافت  مغربی مصر یا  بابل میں سے کسی جگہ ہوئی یا پھر دونوں جگہوں پر انفرادی طور پر۔

اس بات سے قطع نظر کہ تانبہ کہاں دریافت ہوا ،تانبے کی پیدوار اتنی ہو گئی کہ زیورات کے علاوہ اب مختلف آلات بنانے کیلئے اسکا استعمال ہونے لگا۔مثلا ً مصر میں ایک 3020قبلِ مسیح کے مقبرے سے تانبے سے بنا ایک برتن دریافت ہوا ہے۔
3000 قبل مسیح تک تانبے کی سخت بھرتیں بھی تیار کی جانے لگی تھیں،جو کی اکٹھے تانبے اورقلعی کی کچ دھاتوں کی کشید سے حاصل ہوئیں۔تانبے اور قلعی کی بھرت کو کانسی کہا جاتا ہے۔(بھرت مختلف دھاتوں کے آمیزے کو کہا جاتا ہے)اس کے بعد 2000قبل ِ مسیح تک کانسی سے بنے جنگی ہتھیاراور زرہ بکتر عام استعمال ہونے لگے۔مصر میں کانسی سے بنی اشیاء ایک فرعون کے مقبرے سے دریافت ہوئیں ہیں جو کہ 3000قبل مسیح  میں حکومت کر رہا تھا۔
تانبے اور کانسی کے ہتھیار
کانسی کے دور کا سب سے قابلِ ذکر واقعہ ٹروجان کی جنگ تھی؛ جس میں کانسی  کے زرہ بکتروں میں ملبوس افواج کانسی کے ہتھیاروں سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہویئں۔اس دور میں کوئی بھی فوج کانسی کے ہتھیاروں کا بغیر دھاتی اسلحہ کے مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔یعنی تب کانسی کے کاریگر آج کے دور میں نیوکلیائی سائنسدانوں جیسی اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ دھاتوں سے متعلق کام کرنے والےکاریگر  اور تاجر،طاقتور طبقہ میں شمار ہوتے تھے۔
لوہے کا دور: 
اس کے بعد ایک انسانی تہذیب نئے دور میں داخل ہوئی اورکانسی کے دور کے انسان نے ایک نئی دھات دریافت کر لی،یہ نئی دھات لوہا تھی۔لیکن تب لوہا بہت قلیل مقدار میں دستیاب تھا،اسلئے یہ بہت قیمتی اور اسلحہ بنانے کےلئے ناکافی تھا۔لوہے  کی کمیابی کی وجہ یہ تھی کہ یہ خالص حالت میں صرف مختلف جگہوں پر پھیلے شہابِ ثاقب کے ٹکڑوں سے ملتا تھا جو کہ بہت کم مقدار میں تھےاور نہ ہی اس وقت لوہے کو کچ دھات سے کشید کرنے کا کوئی طریقہ موجود تھا۔
مشکل یہ تھی کہ لوہا،تانبے کی نسبت اپنی کچ دھات سے  زیادہ مظبوطی سے جڑا ہوتا ہے۔اس لئے لوہے کو کچ دھات سے کشید کرنے کیلئے تانبے کی نسبت ذیادہ مقدار میں حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔یوں لوہے کی کچ دھات سے کشید کیلئے لکڑیوں کی آگ ناکافی تھی۔جبکہ ہوا کی بہترین متواتر فراہمی پرجلتے کوئلے سے  حاصل شدہ انتہائی  درجہ ء حرارت پر ہی لوہے کی کچ دھات سے کشید ممکن تھی۔
سب سے پہلے لوئے کو Asia Minnorمیں 1500قبل مسیح میں کامیابی سے کشید کیا گیا۔ہٹی پہلی قوم تھے جنھوں نے لوہے کی دھات کاری میں مہارت حاصل کی ۔انھوں نے لوہے کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا اور اس سے مختلف اوزار و ہتھیار تیار کیے۔1200 قبل مسیح میں Asia Minnor کے بادشاہ کے اپنے گورنر کو لکھے خطوں میں لوہے کی پیداوار کے حوالہ جات ملتے ہیں۔
لوہا خالص حالت میں بہت زیادہ سخت نہیں ہوتا۔لیکن دھاتی کشید کے دوران یہ کوئلے کی اتنی مقدار جذب کر لیتا ہے کہ لوہے اور کوئلے کی بھرت بن سکے جس کو ہم سٹیل کہتے ہیں ۔سٹیل سختی اور مظبوطی میں بہترین قسم کی کانسی سے ذیادہ بہتر ہوتا ہےاور اس کی دھار لمبے عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔سٹیل سازی کے ہنر نے میٹلرجی(دھاتوں کے کشید کے علم)کی ترقی و ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا۔لوہے کے ہتھیاروں سے لیس فوج کانسی سے مسلح فوج کو باآسانی شکست دے سکتی تھی۔یوں اس دور کو ہم  لوہے کا دور کہتے ہیں۔اسی عرصے میں کانسی سے مسلح اہل یونان کو لوہے سے لیس کم تر فوج سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔لوہے کے ہتھیاروں سے بھاری طور پر مسلح افواج شام کی تھیں ،جنھوں نے اپنے لئے بہت بڑی سلطنت فتح کی۔

علم کیمیاء کا آغاذ:
اہل ِ یونان کے عروج سے پہلے عملی کیمیاء کے بہت سے فنون عملی اور تکنیکی لحاظ سے پختگی حاصل کر چکے تھے؛بالعموم اہل مصر مذہبی اور تہذیبی رسم و رواج کے تحت لاشوں کو حنوط کرنے کے لیے نت نئے کیمیائی مرکبات وضع کر چکے تھے۔ساتھ ہی مصری نہ صرف دھاتوں کی کشید میں مہارت رکھتے تھےبلکہ معدنیات،پھلوں کے رس اور جڑی بوٹیوں کے ملاپ سے رنگدار مادوں کی تیاری کے علاوہ خوشبویات کی تیاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔
کیمیاء کے ماخذ کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ لفظ 'خم' سے اخذ کردہ ہے جو مصری اپنے ملک کیلئے استعمال کرتے تھے؛ اسلئے کیمیاء کو ہم اہل مصر کا علم بھی کہہ سکتے ہیں۔ایک اور روایت میں کیمیاء لاطینی لفظ خمس(Khums)سے اخذ کیا گیا ہے ،جسکا مطلب "پودوں کے رس نکالنے" کا علم ہے۔اگر ہم 'رس' سے مراد پگلی ہوئی دھات لیں تو کیمیاء کو دھاتیں کشید کرنے کا علم بھی کہا جا سکتا ہے۔(اسکے علاوہ ایک تیسری روایت یہ ہے کہ کیمیاء عربی لفظ 'الکیمی' سے اخذ کردہ ہے جسکے معنی راکھ کے ہیں۔مصنف)تاہم کیمیاء یا کیمسٹری کا ماخذ کوئی بھی ہو، آجکل یہ علم کیمیاء کیلئے مستعمل ہے۔
یہ تحریر پچھلی تحریر تاریخ کیمیاء کا اگلا حصہ ہے جسے آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment