بلیک فرائی ڈے: عالمی شاپنگ فیسٹول

نومبر کے آمد کے ساتھ ہی بلیک فرائی ڈے کا نام تسلسل سے سننے میں آتا ہے۔خاص کر جو لوگ بیرون ملک رہائش پزیر ہیں یا آنلائن شاپنگ کا تجربہ رکھتے ہیں وہ بلیک فرائی ڈے سے واقفیت رکھتے ہیں اور شاپنگ کیلئےبھی سال بھرا س خاص موقعے کا انتطار کرتے ہیں کیونکہ اس دن بہت سے بین لاقوامی سپر سٹور اور آنلائن سٹور سال کی سب سے بڑی سیل کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ دن رفتہ رفتہ بین الاقوامی سیل ڈے(Sale Day) کی حثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
بلیک فرائیڈے امریکہ میں نومبر کی آخری جمعرات "Thanks Giving Day" کے بعد آنے والے جمعہ کو کہا جاتا ہے۔اس دن کے آغاز سے ہی مغرب میں کرسمس شاپنگ سیزن بھی شروع ہو جاتا ہے جس دوران ماریکٹوں میں گہما گہمی اپنے عروج پر ہوتی ہے اور ہر طرح کی ضروریات زندگی او ر تحائف کی خریداری اپنے عروج پر ہوتی ہے۔
 ایک سٹور میں بلیک فرائی ڈے کے دن گاہکوں کا رش

شاپنگ کا تہوار:

بلیک فرائی ڈے کا آغاز امریکہ میں سے ہوا جب ایک سٹور نے خریداری کے لحاظ سے بنجر دنوں میں صارفین کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ایک دن میں سیل کا اہتمام کیا، حسب توقع اس دن گاہکوں کی بڑی تعداد نے خریداری کی۔ یوں کاروباری لحاظ سے ایک غیر منافع بخش سیزن میں اس دن ریکارڈ فروخت ہوئی۔اگلے سال ایک سے زائد سٹورز نے اسی دن سیل کا اہتمام کیا اور یوں رفتہ رفتہ یہ دن ایک نئی روایت اور تہوار کی حثیت حاصل کر گیا۔ 90ء کی دھائی میں انٹرنیٹ اور آنلائن شاپنگ سٹورز کی وجہ سے یہ روایت امریکہ سے دوسرے ترقی ممالک میں بھی پھیل گئی اور اب آہستہ آہستہ یہ تمام دنیا میں اپنائی جا رہی ہے۔
امسال بلیک فرائی ڈے 27 نومبر 2015 کو منایا جائے گا، دنیا بھر کے بڑے آنلائن سٹورز اور سپر سٹور چین صارفین کیلئے سب سےبڑی سیل کا اہتمام کریں گے ۔جس کا دورانیہ صرف ایک دن کیلئے ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سٹور چاہے وہ آنلائن ہو یا کسی چین کا حصہ ہو ، کی کوشش ہوتی ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ ڈسکاؤٹ ، اور تمام پروڈکٹس کو قیمت سے ہرممکن حد تک کم قیمت پر فروخت کیا جائے ۔ یہی وجہ ہےکہ ہر سال پہلے سے ذیادہ صارفین خریداری کیلئے اسی دن کا انتخاب کرتے ہیں ۔ریٹ کم ہونے کی وجہ سے ہر صارف کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ضرورت کی تمام اشیاء اسی دن خرید سکے ۔ اس لئے یہ بین الاقوامی طور پر اس دن نہ صرف ماریکٹوں میں بلا کا رش ہوتا ہے بلکہ آنلائن شاپنگ سائٹس پر بھی ٹریفک اپنے زوروں پر ہوتی ہے ،یہی چیزیں بلیک فرائی ڈے کو سال کا سب سے منافع بخش دن بناتی ہیں۔یوں اشیاء سے سستے ریٹ اور اوسط سے ذیادہ خریداری کی عجہ سے سٹورز اور صارفین دونوں فریقین کو یکساں فائدہ ہوتا ہے۔
اس دن نہ صرف روز مرہ استعمال کی اشیاء بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے مزین آلات مثلاً اسمارٹ فون، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ ، ٹیبلیٹ اور ٹیلی وژن تک بھی انتہائی کم داموں فروخت کیلئے پیش کیے جاتے ہیں۔

بلیک فرائی ڈے پاکستان میں بھی:

امریکہ،کینیڈا، برطانیہ اوردوسرے یورپی ممالک میں بلیک فرائی ڈے کی روایت کافی عرصے سے موجود ہے۔ذیادہ منافع بخش ہونے کی وجہ سے اب یہ بہت تیزی سے دوسرے ممالک میں بھی فروغ حاصل کر رہی ہے۔اس دن کی آمد سے پہلے ہی ذیادہ سے ذیادہ گاہکوں کو متوجہ کرنے کیلئے تشہیری مہم شروع کر دی جاتی ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ پاکستانی آنلائن شاپنگ سائٹ "دراز "نے اس سال پاکستان میں پہلی دفعہ بلیک فرائی ڈے سیل کیلئے تشہیری مہم شروع کر رکھی ہے،امید ہے کہ اگلے برس ایک سے ذیادہ سٹور اس منافع بخش دن میں سے اپنا حصہ حاصل کرنے کیلئے اس روایت میں شامل ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: نیا لیپ ٹاپ کون سا خریدیں؟

زیر زمین میٹھا پانی قلت کا شکار

اس وقت دنیا بھر میں زیر زمین پانی کے بہت سے ذخائر موجود ہیں۔ یہ ذخیرے ہمارے لئے ایک پانی کے بینک کا کام کرتے ہیں۔ بارشوں ،ڈیموں اوردریاؤں کے زریعے ان میں پانی جمع ہو سکتا ہے ، اور اسے استعمال کیلئے نکالا جا سکتا ہے۔یہی پانی دنیا کی ایک بڑی آبادی کے پینے ،روزمرہ استعمال اور زراعت کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک نئی تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ :موسمیاتی تبدیلیاں اور حد سے بڑھتا ہوئے ا انسانی استعمال سے نہ صرف زیر زمین ذخائر میں موجود پانی کی مقدار میں انتہائی تیزی سے کم ہو رہی بلکہ بعض ممالک میں کمی کی رفتار خطرناک حد تک ذیادہ ہے۔

کنواں: زیر زمین پانی کو نکالنے کا صدیوں پرانا طریقہ

پانی کی ذخیروں میں کمی میٹھے پانی کی قلت کے بہت سے مسائل کا باعث بنے گی جن میں سرفہرست پینے کے قابل پانی کی قلت ہے کیونکہ یہ ذخیرے دنیا بھر کے 2 ارب سے ذیادہ انسانوں کے پینے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے علاقوں میں زرعی پانی بھی انہی ذخیروں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں موجود میٹھے پانی کے 37 بڑھے ذخیروں میں سے 21 پانی کی مقدار مسلسل گھٹ رہی ہے۔
واشنگھٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ماہر آیبات (hydrologist) ساشا رچی ، جو کہ اس تحقیقی مقالے کی شریک لکھاری ہیں کا کہنا ہے کہ "لوگوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ زیر زمین پانی کے یہ ذخیرے پانی کی فراہمی کا بہت قیمتی و اہم زریعہ ہیں جنکو دنیا کے بیشر حصوں میں غیر مناسب طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔"
زیر زمین پانی ایک خاص قسم کی چٹانوں میں جمع ہوتا ہے جو کہ ایقویفائر (aquifer ) کہلاتی ہیں ۔ یہ چٹانیں بارش ، ڈیموں ، دریاؤں اور ندی نالوں سے مٹی میں جذب ہونے والی پانی کو ذخیرہ کر لیتی ہیں ۔ضرورت کے تحت کنویں اور ٹیوب ویل کھود کر انہی چٹانوں سے پانی نکالا جاتا ہے۔
پانی ذخیرہ کرنے والی چٹانوں"ایقوفائز" کی تصویر
جب ذیر زمین پانی میں کمی ہو تو کنویں یا ٹیوب ویل میں پانی کی سطح گرنے لگتی ہے۔ اس لئے کسی علاقے میں کنوؤں اور ٹیوب ویلز کی گہرائی میں کمی بیشی سے زیر زمین پانی میں تبدیلی کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ہم اس طرح سے عالمی پیمانے پر پانی کے ذخائر کے بارے میں قابل اعتماد اعداد و شمار نہیں حاصل کر سکتے۔
یوں عالمی طور ہر زیر زمین پانی کے ذخائر کو جانچنے کیلئے ساشا رچی اور ان کی ٹیم نے مصنوعی سیاروں گریس " GRACE " کو استعال کرنا پڑھا۔گریس مشن میں دو مصنوعی سیاروں کو موسمیاتی اور زمین کی کشش ثقل میں ہونے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: کینڈی کرش اس قدر لت لگا دینے والی کیوں ہے؟

کیونکہ مختلف خطوں میں زمین کی بیرونی سطح کی کثافت میں ہونے والی تبدیلی ، اس مقام پر کشش ثقل میں بھی تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔اور زمین کی بیرونی سطح کی کثافت میں تبدیلی کی ایک وجہ زیر زمین ذخائر میں پانی کا بڑھنا اور کم ہونا بھی ہے۔ اسی لئے پانی کے ان ذخیروں کے اوپر سے گزرتے ہوئے گریس سٹیلائٹ کشش ثقل میں ہونے والی تبدیلی سے پانی کی مقدار کی پیمائش کر لیتے ہیں۔
تحقیق کاروں نے 2003سے 2013 تک کے عرصے میں ان خطوں میں ثقل میں تبدیلیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ا س عشرے میں آٹھ ذخائر پانی کے بہت بڑھے حجم سے محروم ہوئے۔ماہرین نے ان کی درجہ بندی "انتہائی دباؤ" (overstressed)کے شکار ذخائر کے طور پر کی ہے۔ کیونکہ ان ذخائر میں سے نکالے جانے والے پانی کی مقدار ، قدرتی طور پر جمع ہونے والی پانی کی مقدار سے انتہائی ذیادہ ہے۔ان خطوں میں جنوبی امریکا، مشرق وسطیٰ ، شمال مغربی ہندوستان اور پاکستان شامل ہیں۔
پانی کی قلت کا شکار زیر زمین ذخائر انتہائی گنجان آباد شہروں کے قریب ہیں، یا وہ بہت زیادہ زرعی علاقے یا پھر بارانی علاقوں میں موجود ہیں۔ یوں امریکی ریاست کیلفورنیا، مشرق وسطی ٰ اورپاکستان میں زیر زمین پانی کی قلت کی معقول وجہ سامنے آتی ہے۔ کیونکہ ان جگہوں پر زیر زمین پانی زراعت اور انسانی آبادی دونوں کے استعمال میں ہے۔
امریکی ماہر آبیات گورڈن گرانٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ گریس کے ڈیٹا سے ہمیں یہ علم ضرور ہوا ہے کہ عالمی پیمانے پر زیر زمیں پانی کا لیول کس طرح تبدیل ہو رہا ہے۔ مگر اس ڈیٹا سے ہم یہ نہیں معلوم کر سکتے کہ ان زیر زمیں ذخائر میں پانی کی کتنی مقدار باقی ہے۔لیکن ماہر آبیات اس بات کا حساب ضرور رکھ سکتے ہیں کہ سالانہ ان ذخیروں میں کتنا پانی جمع اور خرچ ہو رہا ہے۔

انٹرسٹیلر2014 کی بہترین سائنس فکشن فلم

سائنس فکشن مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہیں۔لیکن عموماً ہالی وڈ کی سائنس فکشن فلمیں سائنس فکشن سے ذیادہ سائنس فینٹیسی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود ہر سال ہالی وڈ ایسی فلمیں ضروربناتا ہے جس میں سائنس کو عمدگی اور حقیقت کے قریب تر پیش کیا جاتا ہے۔ انہی فلموں میں گذشتہ برس پیش کی جانے والی "انٹرسٹیلر" ہے ،جس میں مستقبل میں نظام شمسی سے ماوراء خلائی سفر کی کہانی انتہائی مہارت اور باریک ترین جزئیات کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔
انٹرسٹیلر :فلم پوسٹر
اس فلم کے ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کی بنائی ہوئی تقریباً ہر فلم ایک ماسٹرپیس کا درجہ رکھتی ہے۔چاہے تو وہ کامک ہیرو پر مبنی" بیٹ مین سیریز "ہو کہ اس سپر ہیرو فرنچائز میں نولان میں نہ صرف نئی روح پھونکی ہے بلکہ وہ کامک ہیروز پر بننے والی فلموں کو نئی بلندیوں تک لے گئے ہیں۔سائنس فکش اور خوابوں کی سحرانگیر دنیا "Inception" ہو، ایک صدی پہلے کی جادوائی دنیا"Prestige"ہو یا پھر انسانی دماغ کی بھول بھلیاں "Memento" ہو۔نولان نے اپنی ہر فلم میں کہانی ، کردار نگاری ،سسپنس،تھرل اور مکالمات ہر چیز سے مکمل انصاف کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج کے دور کے انتہائی کامیاب اور شائقین کے پسندیدہ ترین ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں۔اس لیے صرف نولان کا نام اور ان کا پروجیکٹ ہونے کی وجہ سے شائقین کو اس فلم کی نمائش کا بے چینی سے انتظار تھا اور یہ فلم ان کی توقعات پر پورا بھی اترتی ہے۔

مزید پڑھیں: گریوٹی : ایک سائنس فکشن شاہکار

کہانی:

فلم کی کہانی میں زمین کے مستقبل کی تصویر کشی کرتی ہے، جب کہ زمین بیشتر بنجر ہونے لگتی ہے اور ہر وقت گرد وغبار کے طوفان اس سیارے کو اپنے گھیرے میں لئے رکھتے ہیں۔ایسے میں انسانی آبادی کی بقا کیلئے زمین سے ماؤراء کسی ایسی دنیا کے تلاش ناگزیر ہو جاتی ہے جو کہ قابل رہائش ہو ،تاکہ تمام نسل انسانی کو خاتمے سے بچایا جا سکے۔انہی کوششوں کےدوران سائنسدان سیارہ زحل کے قریب زمان و مکان میں ایک ورم ہول دریافت کرتے ہیں جس کی بدولت نظام شمسی سے ماؤراء خلائی سفر ممکن ہوتا ہے۔اس سفر کیلئے خلا بازوں کی ایک ٹیم روانہ کی جاتی ہے تا کہ وہ بنی آدم کیلئے ایک نیا رہائشی سیارہ ڈھونڈ سکیں۔
چونکہ فلم کے پلاٹ اور کہانی سے پیشگی واقفیت سے فلم میں دلچسبی کم یاختم ہو سکتی ہے اس لیے بجائے اس کے کہ کہانی /پلاٹ کی مزید تفصیل پیش کیا جائے اس فلم کی کچھ خاص باتیں آپکی خدمت میں پیش ذیادہ مناسب ہے۔

1۔نظریاتی طبیعات کا استعمال :

اس فلم کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں نظریاتی طبیعات(Theoretical Physics) کے تصورات کو انتہائی احسن اندازمیں کہانی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔اس مقصد کے لئےخاص طور پر مشہور طبیعات "کپ تھورن" کی خدمات حاصل کی گئیں، جو کہ فلم کی پوری کہانی اور سکرین پلے میں موجود طبیعاتی تصورات کی مستند اور حقیقت سے قریب ترمنظر کشی کیلئے راہنمائی کرتے رہے۔
بیک ہول کے گرد گردش کرتے سیارے کا سین
ان تصورات میں بلیک ہول، ورم ہول ، مصنوعی ذہانت اورآئن سٹائن کا نظریہ اضافت اور بالخصوص وقت کی اضافیت کو بہت عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔

2۔ خلائی سفر:

کیونکہ فلم ایک بین الستاروی خلائی سفر کی ہی کہانی ہے اس لئے اس میں مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے اس خلائی سفر کو انتہائی خوش اسلوبی سے بیان کیا گیا ہے۔ چاہے وہ خلائی جہازوں کے ڈیزائن ہوں، عملے کے انسانی رویے اور جذباتی کشمکش ہو یا پھر خلائے بسیط کے بے پناہ وسعتیں اور بے نظیر فلکیاتی مناظر نولان نے ہر ایک جزو کو انتہائی مہارت سے پردہ سکرین پر پیش کیا ہے۔

فلم میں دکھایا جانے والا خلائی جہاز


3۔وژیول ایفیکٹس:

فلم خلائی سفر،دوسرے سیاروں پر لینڈنگ اور خلائی جہازوں کی منظر کشی کیلئے بہت سے بصری اثرات کو استعمال کیا گیا ہے۔کچھ ناقدین کی رائے میں نولان کی اب تک کی فلموں میں انٹرسٹیلر بصری (Visual) لحاظ سے سب سے خوبصورت مناظر سے مزین ہے۔سفر در سفر کائنات کے پرتوں میں جاری یہ سفر ایک وژیول ٹریٹ(Visual Treet) ہے خاص کر ان لوگوں کیلئے ایک بہترین تحفہ ہے جو کھلی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہیں۔
خلائی سفر کا ایک خوبصورت منظر
انٹرسٹیلر اپنے بصری اثرات کی وجہ سے اکیڈمی ایوار ڈ کیلئے نامزد ہوئی اور سال 2014 میں بہترین وژیول ایفیکٹس کا ایوارڈ جیتنے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔دلچسب بات یہ ہے کہ یہ وژیول ایفیکٹس ناصرف جمالیاتی طور پر خوب صورت ہیں بلکہ بلیک ہولز، ورم ہولز اوردیگر مناظر کو حقیقت کے قریب تر پیش کیا گیا ہے۔اس مقصد کیلئے پیچیدہ سائنسی مساواتوں اور تصورات کو پردہ سکرین پر لانے (Simulate) کیلئے خاص طور پر ایک خصوصی سی جی آئی(CGI) سافٹ وئیر تیارکیا گیا تھا۔

4۔ ماضی سے رشتہ:

جو فلم بین ہالی وڈ کے شائقین ہیں وہ اسٹین کیوبرک کی 1968 کی یاد گار ہالی وڈ کلاسیک "2001: اے سپس آڈیسی" کے علاوہ "سٹار وار" اور" سٹار ٹریک "سیریزسے ضرور واقفیت رکھتے ہونگے۔ خاص کیوبرک نے ساٹھ کی دہائی میں بننے والی شاہکار فلم میں دو خلابازوں کے خلائی سفر کی داستان بیان کی گئی تھی۔ فلم میں خلائی جہاز میں انکا ساتھ دینے کیلئے ایک مصنوعی ذہانت سے لیش کمپیوٹر پروگرام "ہال 9000" بھی ہے۔"ہال" اگرچہ عملے کی معاونت کیلئے تیار کیا گیا تھا مگر کسی فنی خرابی کی وجہ سے وہ مددگار سے ولن میں ڈھل جاتا ہے۔ان فلموں کی خاص بات سائنس فکشن کے علاوہ ان میں موجود بصری اثرات ہیں ، جب CGI ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر معاونت نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن مناظر اس قدر دم بخود کرنے والے ہیں جوآج بھی دیکھنے والوں کو دھنگ کر دیتے ہیں۔
انٹرسٹیلر میں نولان نے بھی کوپر ، ڈاکٹر برانڈ اور باقی ٹیم کے ساتھ ایک ذہین روبوٹ "ٹارس" کاکردار رکھا ہے۔ٹارس اپنی مصنوعی ذہانت کے علاوہ اپنی اعلیٰ حرکت پزیری(High Level Mobility) کی بدولت انتہائی مشکل صورتحال میں عملے کامعاون و مددگارثابت ہوتا ہے۔نولان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی فلم کے زریعے نئی نسل کو اسی خوابناک اور حیرت انگیز دنیا میں لے جانا چاہتے ہیں ، جس کے تجربے سے وہ ماضی میں "2001: اے سپیس آڈیسی "،"سٹارٹریک " یا "سٹاروار" کو دیکھتے ہوئے گزرے ہیں۔

کاسٹ :

نولان کے تعارف کے بعد انٹرسٹیلر کی کاسٹ کی بات کریں تو اس میں ہیرو "کوپر"کا کردار آسکر انعام یافتہ میتھیو میکانہےنے بخوبی نبھایا ہے جو کہ دو بچوں کا باپ اور ایک سابقہ پائلٹ ،خلانورد اور انجنیئر ہے۔ ہیروئن "ڈاکٹر برانڈ کوپر" کے کیلئے بھی آسکر انعام یافتہ اینی ہیتھوے کا انتخاب کیا گیا۔معاون اداکاروں میں جیسکا چیسٹن اور مائکل کین اور میٹ ڈیمن قابل ذکر ہیں۔
میتھیو میکانہے اور اینی ہیتھوےساتھی اداکار کے ساتھ

باکس آفس کارکردگی اور پزیرائی:

باکس آفس پر بھی اس فلم کو کامیابی حاصل ہوئی۔اپنے سنجیدہ موضوع کے باعث یہ گارڈین آف گلیکسی اور ٹرانفارمرز :ایج آف ایکسٹینشن جیسی بلاک بسٹر تو نہ بن سکی مگر ناقدین اور شائقین سے بھرپور دار حاصل کی۔165 ملین ڈالر کے بجٹ سے بننے والی اس فلم سے دنیابھر میں 675 ملین ڈالر(67کروڑ 5 لاکھ)کا بزنس کیا۔
کچھ فلمی پنڈتوں نے اس کو 2014 اور نولان کے کیرئیر کی بہترین فلم قرار دیا ہے۔ساتھ ہی مشہور سائٹ آئی ایم ڈی بی کے چارٹ پر بھی یہ پچھلے سال کی بہترین فلم قرار پائی ہے۔ اگر آ پ نے یہ فلم دیکھی ہے تو اپنی رائے کا ضرور اظہار کیجیے گا۔
فلم ٹریلیرآپ یہاں ملاحضہ کر سکتے ہیں۔

ونڈوز 10کی تنصیب اور پہلا تاثر

مائیکروسافٹ نے بلاآخر 29 جولائی 2015 کو اپنے نئے آپرئٹنگ سسٹم کا اجراء کیا۔ونڈوز 10 کے نام کے ساتھ پیش کیا جانے والا یہ او ایس 3 سال پرانی  ونڈوز 8  کے بعد مائیکروسافٹ کی پہلی  بڑی اپڈیٹ ہے۔ ونڈوز 8 میں مائیکروسافٹ نے پرسنل کمپیوٹرز کے ساتھ ٹیبلٹ اور موبائل فون ہر ایک کیلئے ایک ہی آپریٹنگ سسٹم  وضع کرنے کی کوشش کی ۔پرانے آئیکون کی بجائے اس میں لائیو ٹائیلز کو پیش کیا گیا،ونڈوز ایپس کیلئے ٹچ سپورٹ مہیا کی گئی،مگر شاید سب سے بڑا  رسک  سٹارٹ مینو بٹن کو ختم کرنے کا فیصلہ تھا۔لیکن ونڈوز 8 کا لائیو ٹائل انٹرفیس صارفین کو باکل متاثر نہ کر سکا ۔
ونڈوز 10 ڈیفالٹ ڈیکسٹاپ
اب ونڈوز 10 کے ساتھ مائیکرسافٹ دوبارہ پی سی ، ٹیبلٹ اور موبائل مارکیٹ میں اپنی گرتی  ہوئی ساکھ بحال کرنے کے عزم کے ساتھ واپس آئی ہے۔شاید اسی لیےونڈوز 10 کے لانچ کے ساتھ مائیکروسافٹ کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب کمپنی  کسی نئے آپریٹنگ سسٹم کو صارفین کیلئے مفت اپگریڈ کرنے کی آفر دی گئی۔ لیکن یاد رہے یہ اپڈیٹ ونڈوز 7 اور 8 کی جینوئن کاپی رکھنے والے صارفین کیلئے ہی ہے۔
اسی وجہ سے میں نے بھی مائیکروسافٹ کی فیاضی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ دونوں کیلئے ونڈوز کی ایک کاپی اپنے لئے محفوظ کرا لی۔خدا خدا کر کے جب 29 جولائی کا دن آیا تو بار ہا ونڈوز 10 ایپ کودیکھا کہ اب اپڈیٹ آئی کہ اب آئی، مگر اس کے تو کوئی آثار ہی نہ تھے۔
آخر تنگ آ کر انٹرنیٹ پر چیک کہ کسی طرح اس انتظار کی زحمت کا علاج مل جائے، حسب توقع ایک  جگاڑ مل گیاجس کو استعمال کرنے ہوئے کمپنی کی اپڈیٹ کیلئے  انتظار کی چکی میں پسنے سے بچ گیا  ۔
کیونکہ شک تھا  اس انسٹالیشن کی دوران کہ پی سی شاید درست اپڈیٹ نہ ہو سکے اس لیے اپڈیٹ کرنے پہلے اپنے تمام ڈاکومنٹس اور ڈاونلوڈ فائلز کو سی ڈرائیو سے نکال کر  ادھر ادھر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
خدا خدا کر کے جب اپڈیٹ شروع ہوئی تو 32 بٹ ونڈوز 10 کی فائنل کا سارز 2 جی بی سے ذیادہ تھااور پی ٹی سی ایل کنکشن پر 2 جی بی کی اپڈیٹ کیلئے اچھا خاصا وقت چاہیے ۔  یوں بھی رات کافی بیت چکی تھی ،اس لیے پی سی اپڈیٹ پہ لگارہنے دیا اور  سورہا۔ صبح اٹھا تو ونڈوز 10 ڈاونلوڈ ہو چکی تھی۔لیکن کمپوٹر صاحب کا کہنا تھا کہ کچھ دیگر ونڈوز اپڈیٹ انسٹال نہیں ہو سکیں اس لئے  نئی ونڈوز اپنی تنصیب مکمل نہیں کر سکتی۔
اف خدایا۔۔۔ اتنی محنت اور انتظار کے بعد ایک اور زحمت ۔خیر پھر انٹرنیٹ کنگھالا اور  شکرکیا کہ ایک چھوٹی سی یوٹیلیٹی سے  اپڈیٹ فائل میں آنے والا ایرر (Error) حل ہو گیا۔
اس کے بعد جیسے ہی کمپیوٹر جی نے پوچھا کیا آپ ونڈوز 10 انسٹال کرنا چاہتے ہیں تو فوراً اثبات والے بٹن پہ کلک کیا اور لیجئے ونڈوز انسٹالیشن شروع ہو گئی۔آپ کو بتاتا چلوں کی جس پی سی پر ونڈوز انسٹال کی وہ ڈیل کا Optiplex" 755"ہے جو کہ  2008 میں مارکیٹ میں آیا ، راقم نے2.3 گیگا ہرٹز کور ٹو ڈو پروسیسر اور 3 جی بی ریم  پر مشتمل اس سسٹم کو اس طرح کے تجربات کیلئے کہنہ مشق بنایا ہوا ہے۔
ونڈوز اپگریڈیشن پروسیس
غیر کوئی 40 منٹ میں ونڈوز 10 کی تنصیب مکمل ہوئی،جیسے ہی پاسورڈ انٹر کرنے کے بعد ہوم  سکرین نمودار ہوئی تو یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ پہلے سے انسٹال تمام سافٹ وئیر اسی طرح موجود تھے، تمام ڈرائیورز از خود انسٹال ہو چکےتھے،مائی ڈاکومنٹ میں موجود فائلز بھی جوں کی توں موجود تھیں  اور یہاں تک کہ ڈیسک ٹاپ بیک گرانڈ کی تصویر بھی تبدیل نہیں ہوئی۔
ساتھ ہی ونڈوز 10 پچھلے 24 گھنٹوں سے بغیر کسی رکاؤٹ کے روانی کے ساتھ چل رہی ہے اور ابھی تک تو سسٹم سست ہوتا محسوس نہیں ہوا ہے۔اب چند بڑی تبدیلیاں جو کہ ونڈوز 10 کو ممتاز کرتی ہے انکا مختصر احوال ہو جاہے۔
1۔سٹارٹ مینو کی واپسی
 ونڈوز انسٹال کرنے کے بعد  سب سے پہلے سٹارٹ مینو پر کلک کی اور ونڈوز 10 کے نئے سٹارٹ مینوکو دیکھا تو یقین آیا کہ واقعی ونڈوز 10 ہی انسٹال ہوئی ہے۔ اس نئے سٹارٹ مینو میں ونڈوز 7 اور 8 دونوں کی خوصیات جمع ہیں،یعنی اس میں آپ بیک جدت اور قدامٹ دونوں کا امتزاج دیکھ سکتے ہیں۔
ونڈوز 10 سٹارٹ مینو
2۔ مائیکرسافٹ کورٹانہ
سٹارٹ بٹن کے ساتھ ہی مائیکروسافٹ ڈیجیٹل اسسٹنٹ کورٹانہ کا بٹن و سرچ باکس موجود ہے جس کے زریعے آنلائن اور آفلائن دونوں جگہ سرچ کی جا سکی ہے۔جیسے ہی آپ کورٹانہ پر کلک کریں تو یہ موسم اور دوسری ضروری معلمومات سکرین پر دکھاتا ہے۔
کورٹانہ مجازی معاون

3۔ٹاسک ویو
کورٹانہ کے ساتھ ہی ٹاسک ویو کا بٹن ہی جس پہ کلک کرتے ہی تمام جاری ونڈوز کا سنیپ شاٹ سکرین پر نمودار ہو جاتا ہے اور ایک سافٹ وئیر ونڈؤز سے دوسری  میں جانا آسان ہو جاتا ہے۔
ٹاسک ویو

4۔ مائیکروسافٹ ایج  براؤزر
ساتھ ہی اس ونڈوزمیں انٹرنیٹ ایکسپلورر کی جگہ مائیکروسافٹ ایج کا براؤز بھی موجود ہے۔مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ رفتارمیں گوگل کروم سے بہتر ہے۔مجھےایج بروزکا انٹر فیس بہت سادہ اور آوٹ آف ڈیٹ لگا۔ اورچونکہ ونڈوز 8 میں نصب فائر فاکس اپگریڈیشن کے بعد بھی موجود تھا اس لئے میں نے ابھی تک اسے ذیادہ استعمال نہیں کیا۔
مائیکروسافٹ ایج براؤزر
5۔ونڈوز ایکشن سنٹڑ
 ایک اور واضح تبدیلی ونڈوز 8 اور 8.1 میں موجود چارم بار کا خاتمہ ہے جسکی جگہ اب ونڈوز ایکشن سنٹر کا بٹن موجود ہے۔ایکشن سنٹر میں موبائل او ایس کی طرز پہ ونڈوز نوٹیفکیشن سنٹر ہے۔
6۔ ورچوئل ڈیسک ٹاپ
ونڈوز 10 میں آپ کسی تھرڈ پارٹی سافٹ وئیر کے علاوہ بھی ورچوئل ڈیکس ٹاپ بنا سکتے ہیں۔ یوں ایک سے ذیادہ کام کرتے ہوئے ، مختلف ڈیکس ٹاپ استعمال کرتے ہوئے اپنے کام کو منظم کر سکتے ہیں۔
ورجوئل ڈیکسٹاپ

کینڈی کرش اس قدر لت لگا دینے والی کیوں ہے؟

اگر آپ سمارٹ فون یوزر ہیں تو غالب امکان ہے کہ آپ نے کینڈی کرش گیم ضرور کھیلی ہو گی ۔بالفرض اگر آپکو اس گیم سے چڑ ہے اور یہ نہ بھی کھیلی ہو تب بھی فیس بک پر اس گیم کے انوائٹس نے آپکی ناک میں ضرور دم کر رکھا ہو گا۔آخر کیا وجہ ہے کہ یہ گیم اتنی مقبول ہے اور جس کو ایک دفعہ چسکا پڑھ جائے وہ ہر وقت یہی گیم کھیلتا نظر آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ 2012 میں اپنی ریلیز کے بعد اس گیم نے کروڑوں ڈالرز کمائے ہیں ، جب کہ کھیلنے والے کروڑوں صارفین کے وقت کا ضیاع اس کے علاوہ ہے۔
جب گیم ایکسپرٹ جیسپر جول (جو کہ میچ –تھری ٹائپ کی گیموں کی تاریخ پر کام کر چکے ہیں )سے یہ سوال پوچھا گیا توانکا جواب انتہائی سادہ تھا۔۔۔
"کیوں کہ اس سیکھنا بہت آسان ہے پر اس میں مہارت حاصل کرنا انتہائی مشکل۔"
ایک لت زدہ کھلاڑی کیںڈی کرش کھیلتے ہوئے
کینڈی کرش کمپیوٹر گیمز کی کیٹگری "میچ -3" سے تعلق رکھتی ہے۔ جس میں آپ اوپر /نیچے ، دائیں /بائیں یا ڈائیگنل کسی بھی سمت میں تین رنگ،اشکال،ٹائلز یا ایک طرح کی تصاویر کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں ، اور جیسے ہی یہ رنگ یا اشکال ایک لائن میں آئیں تو ایک اطمیان بخش سرسراہٹ سے غائب ہو اجاتے ہیں۔
لیکن اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہر گزرتے لیول میں گیم بورڈ میں آہستہ آہستہ گیم مشکل ہوتا جاتاہے اور ابتدائی لیول کے بعد انتہائی پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔پچھلے برس روم میں کمپیوٹر سائنٹسٹ کے ایک گروپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ "میچ-3"گیم کے پیش گوئی ہر موو کے ساتھ انتہائی پیچیدہ ہوتی جاتی ہے ۔
لیکن اگر کوئی گیم یا سٹیج بہت ہی مشکل ہو توکھلاڑی اسے کھیلنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اسلئے اس طرح کی گیموں میں ہر موو (Move)کے ساتھ پلئیر کو چھوٹی موٹی پیش رفت کا احساس ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے ایک تو اسکی گیم میں دلچسبی برقرار رہتی ہے اور دوسرا وہ سٹیج یا لیول کلئیر کرنے کی طلب قائم رہتی ہے۔
اس کے علاوہ کینڈی کر ش اور اس طرح کی گیموں میں پلئیر وقت کے دباؤ سے بھی آزاد ہوتے ہیں اس سے وہ ذیادہ توجہ کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔
کینڈی کرش اس نوعیت کی واحد گیم نہیں ہے، میچ -3 گیموں کو مقبولیت 2001 میں ملی جب بی جیولڈ "Bejeweled"نامی گیم ریلیز ہوئی اوراس میں کینڈی کی بجائے مختلف جواہرات کو ملا یا جاتا تھا۔جبکہ بی جیولڈ کا آئیڈیا بھی 1994 میں پیش کئے جانے والی رشین گیم شاریکی سے لیا گیا۔ جیسپر جول کہنا ہے کہ خود شاریکی بھی 1980 کی دہائی کی مشہور گیم "ٹیٹرس " سے متاثر ہو کر ڈیزائن کی گئی۔

مزید پڑھیں: ایٹم کا ابتدائی تصور

کینڈی کرش سکرین شاٹ
ان سب توجہیات کے علاوہ جیشپر یہ بھی کہتے ہیں کہ "کینڈی کرش ا ب کہ روایت اور ٹرینڈ کا حصہ بن چکی ہے، اور کیونکہ یہ مشہور ہے، اس وجہ سے یہ اوربھی مشہور ہوتی جا رہی ہے۔"

زہرہ اور مشتری اتنے پاس پاس

تصویر میں روشن ستارے درحقیقت زہرہ اور مشتری ہیں۔
اگر آپ آجکل (جون /جولائی 2015) میں شام کے بعد آسمان پر جنوب مغرب کے سمت دیکھیں تو دو انتہائی روشن ستارے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ دونوں ستارے نہیں بلکہ ہمارے نظام شمسی ہی کے دو سیارے زہرہ اور مشتری ہیں۔چونکہ زہرہ آسمان پر چاند کے بعد سب سے روشن فلکی جسم ہےاور مشتی زہرہ کے بعد دوسرے روشن ترین سیارہ۔اس لئے آپکو یہ دونوں بہ آسانی اور دوسرے کے انتہائی قریب دکھائی دیں گے۔ان روشن سیاروں کا ایک سیدھ میں نظر آنا غیر معولی اور انوکھا تو نہیں مگرایک خوبصورت فلکی نظارہ ہے جس سے آپ بغیر کسی مشقت لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔


اس گف انیمیمشن میں روز بہ روز سیاروں کو قریب اور پھر دور ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس مظہر کو زہرہ مشتری اقتران (Venus Jupiter Conjunction) کہا جاتا ہےاور اگلے پورے ہفتے کے دوران سورج غروب ہونے کے دو گھنٹے بعد تک اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ یہ سیارے انتہائی ہیں اس لیے آپ شہر کی گرد آلود فضا میں بھی (اگر وقت نکال سکیں تو) انھیں بہ آسانی ننگی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں۔
زہرہ زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ہےعطارد کے بعد سورج کے بھی قریب ترین ہے۔جبکہ مشتری کا سورج سے فاصلہ زہرہ کی نسبت سات گناہ ہے، اس لئے روزانہ مشاہدے پر سیارہ زہرہ آپکو مشتری کی طرف بڑھتا دکھائی دے گا۔یہاں تک کہ 30 جون اور 31 جولائی کو ایک دوسرے انتہائی قریب ہو جائیں گے اور ایک ہی بڑھے لمبوترے چاند کی شکل میں دکھائی دیں گے۔اس کے بعد ان کا فاصلہ دوبارہ بڑھنا شروع ہو گا ۔
زہرہ اور مشتری ہر کچھ سالوں بعد آسمان پر ایک دوسرے کے قریب سے گزرتے ہیں۔ کیونکہ زہرہ کا مدار زمین کی نسبت سورج کے قریب ہے اسلئے ہمیں انکا مشاہدہ شام یا پھر صبح کے اوقات میں ہوسکتاہے ۔ کم مدار ہونے کی وجہ سےیہ ہر 584 دن میں زمین کو "پیچھے چھوڑ" دیتا ہے ، اور اس طرح یہ" شام کے ستارے"(جو سورج غروب ہونے کے فوراً بعد نظر آنے لگتا ہے) سے "صبح کے ستارے"(جو سورج طلوع ہونے سے پہلے تک دکھائی دیتا رہتاہے) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

نیویارک انٹرنیشنل آٹو شو 2015

 مارچ 2015 میں  نیویارک میں ایک بین الاقوامی کار میلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا کے مشہور کار تیار کرنے والے اداروں نے اپنی بہترین پروڈکٹس کے ساتھ شرکت کی۔اس میلے میں پیش کی جانے والی کاریں دلفریب ڈیزائن، جدید ٹیکنالوجی ، پہلے سے بہتر کارکردگی اور ایندھن کی کم کھپت جیسی خصوصیات سے لیس تھیں۔ ماہرین کی جانب سے اس نمائش میں شامل دس بہترین لگژری  کاروں کا تعارف پیش خدمت ہے ۔(کاروں کے نام سہولت کیلئے انگریزی میں ہی لکھے گئے ہیں۔)

10: 2016 Nissan Maxima

جاپانی کمپنی نسان کی تیار کردہ 2016 نسان میکسیما (2016 Nissan Maxima) کو اس نمائش میں ناقدین نے دسوان نمبر دیا ہے۔نہایت سرعت سے رفتار پکڑنےکی صلاحیت، بہترین انٹیریئر ، جدید  میٹیریل اور خو بصورت ڈیزائن رکھنے والی کار کی خامی اس کی نسبتاًذیادہ قیمت ہے۔ 


9: 2016 Kia Optima

جنوبی کوریا کی دوسرے بڑی آٹو انڈسٹری "کیا" کی نئی کار 2016 کیا آپٹیما اس نمائش میں نواں نمبر حاصل کر سکی ہے۔اگرچہ یہ فی الوقت قابل ذکر مقبولیت نہیں حاصل کر سکی ہے مگر اس کہ باوجود کیا کا یہ نیا ماڈل اتنا دلکش اور سٹائلش ہے کہ روڈ پر اپنی "موجودگی" محسوس کر ا سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کار اب صارفین میں اپنی مقبولیت حاصل کر رہی  ہے۔ 


8: 2016 Toyota RAV4 Hybrid

ہائیبرڈ کاریں جن میں ایندھن کی بچت کیلئے برقی موٹر نصب ہوتی ہے تیار کرنے میں ٹیوٹا ااس وقت سب سے آگے ہے۔ اگرچہ اس سال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا اس کے باوجود ٹیوٹا کا یہ نیا ترین ہائیبرڈ ماڈل اس وقت امریکہ میں دستیاب بہترین ہائیبرڈ کار ہے۔جو کہ ٹیوٹا کی فروخت میں بیش بہا اضافہ کر سکتی ہے۔ 


7: 2016 Jaguar XF

برطانوی کار ساز ادارے جیگوار لینڈ رُوور (Jaguar Land Rover) کی نئی ترین کار ہے۔( یاد رہے کہ 2008 کو یہ ادارہ بھارتی ملٹی نیشنل ٹاٹا گروپ نے خرید لیا تھا اور اب یہ ٹاٹا آٹوز کی ملکیت ہے۔) اگرچہ ساخت اور شکل کے اعتبار سے یہ پچھلے ماڈل کے جیسی ہے مگر اس میں استعمال شدہ میٹریل پہلے سے ہلکا مگر ذیادہ مظبوط ہے۔ساتھ ہی کار سسپنشن ،چیسیس اور ڈرائیونگ انٹرفیس کو ذیادہ بہترکیا گیا ہے۔اس لئے رواں سال کی لگژری کاروں میں یہ بھی صارفین کی خریداری کی فہرست میں رہے گی۔ 


6: 2016 Scion iA and iM

سکائین جاپانی کمپنی ٹیوٹا کی ہی ایک خود مختار شاخ ہے مگر یہ کمپنی کے لئے متواتر سڑکوں پر رہنے اور بزنس کرنے والی کاریں نہیں بنا سکا ہے۔ 2002 میں یوتھ برانڈ کے ساتھ کم خرچ مگر سٹائلش اور دید زیب کار ڈیزائن کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا سکائین آئی اے (Scion iA) اور آئی ایم کی صورت میں اسکا نتیجہ آج موجود ہے۔ان ماڈلز میں کمپنی "کم خرچ" اور "سستی" کاروں کے بین ایک توازن حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔یہ ماڈل مارکیٹ میں اپنی مستحکم جگہ بنا سکتے ہیں۔

5: 2016 Lexus RX

جاپانی کمپنی ٹیوٹا ہی کی ایک شاخ لیکسس شاخ ہے جس کا 20 سال پہلے آغاز کیا گیا تھا۔ لیکسس آر ایکس، ادراے کی جانب سے پیش کی گئی اب تک کی سب سے کامیاب کار ہے۔ اس کار میں لگژری ،سٹائل اور افادیت جیسی خصوصیات یکساں طور پر موجود ہیں۔ 

 

4: Honda Civic

جاپانی کمپنی ہونڈا اپنی سیوک کاروں کی وجہ سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ لیکن گزشتہ عرصے میں سیوک آہستہ آہستہ تنزلی کی جانب روان تھی مگر 2016 ماڈل میں نئی ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور سٹائل ہر چیز موجود ہے جو کہ سیوک کار کو پھر سے مین سٹریم میں لے آئے ہیں۔ 


3: 2016 Cadillac CT6

امریکی آٹوز انڈسٹری کے مشہور ادارے جنرل موٹرز کی کیڈلک کاریں لگژری اپنی ایک منفرد پیچان رکھتی ہیں۔ کیڈلک سی ٹی 6 جنرل موٹرز کی جدید ترین پروڈکٹ ہے جو کہ ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور خوبصورتی میں مرسیڈیز اور بی ایم ڈبلیو کی کاروں کے ہم پلہ ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ 


2: 2016 Chevrolet Malibu

جنرل موٹرز ہی کی تیار کردہ شیورلتٹ مالیبو 2016 اس شو کی رنر اپ کار رہی ہے۔ کار نئے ڈیزائن کے ساتھ اور بھی بہت خوبیوں سے لیس ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کی بدولت یہ اینڈھن کا کم از کم استعمال کرتی ہے اور ساتھ ہی اس میں چلڈرن کنڑول فیچر کے زریعے والدین اپنے بچوں کی ڈرائیونگ کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ 


1: Lincoln Continental Concept

اور اب نیویارک آٹو شو 1016 میں موجود اب سے بہترین سیڈان سپورٹس کار کا تعارت پیش خدمت ہے۔اور یہ اعزاز جاتا ہے مشہور زمانہ امریکی آٹو کمپنی فورڈ کے ذیلی ادارے لنکلن کو۔کانٹینینٹل کانسٹ اس ادارے کی بلاشبہ بہترین پیشکش ہے جو کہ  ڈیزائن، سٹائل اور ٹیکنالوجی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اسی وجہ سے ناقدین نے اسے شو کی بہترین کار کا تاج پہنایا ہے۔